انٹرنیٹ پر پاکستانی خواتین کو جسم فروشی کیلئے پیش کرنے والی ویب سائٹس فروغ پانے لگیں ، حکومت خاموش

ڈیلی بائیٹس

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) انٹرنیٹ پر پاکستانی خواتین کو جسم فروش کیلئے پیش کرنے والی ممنوعہ ویب سائٹس سر عام چلنے لگیں اور اس رجحان میںروز بروز تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے مگر اس کے باوجود حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق انٹرنیٹ جیسی جدید ٹیکنالوجی نے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے اور اس جدید دور میں ہر کوئی اس سے فائدہ حاصل کر رہا ہے مگر دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بھی دہڑلے سے جاری ہے جس کی ایک واضح مثال پاکستان میں بھی موجود ہے جہاں اس کے ذریعے خواتین کی جسم فروشی جیسا غیر اخلاقی کاروبار چلایا جا نے لگاہے ۔

شادی کے سیزن میں اس چیز سے بال دھونے سے ان میں ایسی چمک آئے گی کہ سب آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ طور پر جسم فروشی کے اس نئے طریقہ کار کا سن کریہ یقین کرنا بھی مشکل ہے کہ یہ کام پاکستان میں ہو رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے پاکستان میں 2 بڑی ویب سائٹس چل رہی ہیں جنہیں کہیں اور سے نہیں بلکہ پاکستان کے بڑے صوبہ پنجاب سے ہی چلایا جا رہا ہے جس کے ذریعے پنجاب کے مختلف علاقوں، اسلام آباد ، لاہور اور کراچی میں خواتین فروخت کیلئے پیش کی جا رہی ہیں۔
بات یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ ان ویب سائٹس کے مالکان نے سوشل میڈیا پروفائلز بھی بنوا رکھے ہیں جہاں پرصارفین سے رابطہ کیا جا تا ہے اور دیگرغیر اخلاقی مواد بھی انہی پروفائلز پر موجود ہے ۔ ان ویب سائٹس پر انتظامیہ کے نام اور نمبر ز بھی دیے گئے ہیں ۔

TapMad نے ہمہ وقت سرگرم رہنے والوں کے لئے انٹرٹینمنٹ کی نئی دنیا متعارف کروادی

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ویب سائٹس پر مختلف کیٹیگریاں بنی ہوئی ہیں جہاں پاکستانی خواتین کو جسم فروشی کیلئے پیش کیا گیا ہے جبکہ لاہور ، اسلام آباد اور کراچی کیلئے بھی خصوصی کیٹگریز بنائی گئی ہیں تاہم ان دونوں ویب سائٹس کی انتظامیہ نے اعتماد حاصل کرنے کیلئے صارفین کی نجی معلومات کو خفیہ اور محفوظ رکھنے جیسے دعوے بھی کر رکھے ہیں ۔
یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ آیا پاکستان میں اس قسم کے غیر قانونی کام کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں ، کیا ایسی ویب سائٹس کو فلٹر کرنے اور انہیں بند کرنے کیلئے کوئی اتھارٹی موجود نہیں یا کیا حکومتی ادارے ان ویب سائٹس کے وجود سے لاعلم ہیں ؟ کیونکہ جسم فروش نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انسانی اقدار کیلئے اخلاقی گالی بھی ہے ۔