تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 38

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 38
تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 38

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دیوان عام کا مہتمم معتمد خاں تھوڑے سے خاصان دولت کے ساتھ حاضر تھا۔ پشت پر اعتبار خاں اور مختلف خاں موجو دتھے اور وہ چہل ستون ایوان جو اپنے عجائبات کے لئے ساری دنیا میں افسانہ بن چکا تھا، اب ایک مرصع تابوت کے مانند ویران تھا۔ اسی ایوان میں بیمار اور بوڑھا شاہ جہاں کھڑا تھا۔ رخساروں پر آنسوؤں کی لرزاں لکیریں تھیں۔ سفید داڑھی پر چھوٹے چھوٹے موتی دمک رہے تھے اور عصائے شاہی اس کے ہلکے سے بوجھ کو سنبھالے ہوئے تھے۔ پھر تخت طاؤس کی پشست سے اطبائے شاہی کی قطار بے آواز قدم رکھتی طلوع ہوئی اور گوشہ چشم سے مشورے کرکے تخت کے داہنے بازو کھڑی ہوگئی۔ کشور ہندوستان میں کس کی مجال تھی جو یہ گوش گزار کرنے کے جسارت کرتا کہ ظل الہٰی دولت خانہ خاص میں نزول اجلال فرمائیں۔

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 37 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پھر بادشاہ بیگم (جہاں آرا بیگم) کا خاص خواجہ سرا خوش بخت خاں سامنے آکر کورنش ادا کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد نگاہ شاہ نے نوازش فرمائی تو معروض ہوا۔

’’علیا حضر ت بادشاہ بیگم دیدار ظل الہٰی و جہاں پنا ہی کے لئے مضطرب ہیں۔‘‘

لیکن اعلیٰ حضرت اسی طرح کھڑے تھے۔ گویا خواجہ سرا کے لئے اس عرض داشت کا پیش کرنا ایساہی معمول کے مطابق تھا جیساکہ زمین بوس ہوکر سلام کرنا۔

دھول پور ایک منزل تھا کہ قراردلوں نے پرچہ لگایا کہ ’’اورنگزیب‘‘ دریائے چنبل کے نزدیک آگیا ہے اور اس کا ہر اول گھاٹ پر تعینات شاہی لشکر کو چھیڑنے لگا ہے۔ عالم، فلسفی، شاعر، مصنف اور صوفی دارا شکوہ جس نے عہد شاہ جہانی کی کسی بغاوت کو فرونہ کیا تھا، کسی قلعے کو سرنگوں نہ دیکھا تھا، کسی جنگ کے فیصلہ کن لمحوں کو انگیز نہ کیا تھا، اس خبر سے محظوظ ہوا۔ پھر حریرو پرنیاں پہنے ہوئے شہ سوار علاقہ چنبل کے زمینداروں کے نام فرامین لے کر اُٹھے کہ پچاس میل کے علاقے کے اندر جتنی اور جس کی کشتیاں ہوں، ضبط کرلی جائیں اور خود ساٹھ ہزار آہن پوش سواروں اور پیادوں کے بھاری لشکر کو رکاب میں لے کر اُڑا اور چنبل کے گھاٹوں پر گھٹا ٹوپ بادلوں کی طرح چھاگیا۔ 

امیران آتش کے جلو میں بنفس نفیس گھوڑے پر سوار ہوکر چنبل کے اتاروں کے نشیب وفراز ملاحظہ کئے۔ ٹیلوں اور فرازوں کا انتخاب کیا۔ کشورکشا، گڑھ بھنجن، عتاب شاہی، قہر عالم اور فتح مبارک نامی ہزار شتر سوار زنبوریں اور تفنگیں تعینات کیں اور فلک بارشگاہ نام کی سرخ بارگاہ کو اونچے چورس میدان پر برپاکئے جانے کا حکم دیا۔

اکیس اور بائیس مئی کی درمیانی رات، توپ خانے کے بیلوں، خچروں، ہاتھیوں اور آدمیوں کی چیخ پکار سے کانپتی رہی۔ پانچ پانچ سو بیل اور دس دس ہاتھی ان توپوں کو جو ایک ایک من کا گولہ پھینکتی تھیں دھکیل دھکیل کران مقامات تک پہنچاتے رہے جو ان کے لئے تجویز ہوئے تھے۔ پچیس ہزار راجپوت اور دس ہزار مغل سوار ساری رات ہتھیار لگائے گھوڑوں کی پیٹھ پر بیٹھے رہے کہ کہیں دشمن شب خون نہ ماردے۔ اب دارا شکوہ بھی جس کی مٹھی میں ساٹھ ہزار تلواروں کے قبضے تھے، فاتح دھرمت سے ڈرنے لگا تھا۔

سرخ بارگاہ کے درمیانی درجے میں سرخ قتاتوں سے گھرا ہوا تھا اور گلال بار کہلاتا تھا۔ سفید چاندنی پر زردمخملیں قالین بچھے تھے۔ صدر میں تخت زردنگار آراستہ تھا۔ سامنے ہلال کی صورت میں سنت، سادھو ، یوگی، درویش، عالم، فلسفی، شاعر، منصف، نجومی اور رمال اپنے اپنے مرتبوں کے مطابق دوزانوں بیٹھے تھے۔ جھاڑوں اورکنولوں کی روشنی میں ان کے لباس کے تار اور ہتھیاروں کے جواہر جگمگارہے تھے۔ دارانے اپنے تخت پر سفید مہین ریشم کے جامے پر بھاری کمربند اور سرپرموتیوں سے سفید مندیل پہنے فرشتے کی طرح جمیل اور جلیل نظر آرہا تھا۔ پھر راؤ چھتر سال ہاڑاکھڑا ہوا اور ہاتھ باندھ کر گزارش کی۔

’’مہا بلی (دارا) کی شان میں ایک کویتا شروع کی ہے۔ حکم ہو تو کچھ چند پیش کروں۔‘‘

دارا اپنے خیالوں کے حصار سے باہر نکلا اور اونچی آواز میں اجازت عطا کی۔ راؤ نے سلام کے بعد سنانا شروع کیا۔

’’اے صبح کے ستارو!

کتنی راتوں سے میری شب بیداریوں کے شریک ہو۔

دھرتی پر اتر آؤ تو میں تم کو انعام دوں اپنے صاحب عالم کی جوتیوں میں ٹانگ دوں۔‘‘

دارا کے خوب کہتے ہی دربار داد و ستائش سے چھلک اُٹھا۔ راؤ نے پھر عرض کیا۔

’’اے پہلی رات کے چاند

تیرا مثل اگر مل جاتا

تو میں صاحب عالم کے سنہرے گھوڑے کے رکابوں کی جوڑ بنالیتا۔

میں سمیر کی کہانیوں کو جھوٹا سمجھتا تھا۔

لیکن صاحب علام کو ’’فتح جنگ‘‘ پر سوار دیکھ کر یقین آگیا۔‘‘

جب داد کاشور تھما تو راؤ نے پھر شروع کیا۔

’’سراحی اور سروہی دو بہنوں نے

ساری دنیا کے مزے بانٹ لئے 

آؤ! یہ رات صراحی کو بغل میں لے کر سوجائیں

اور صبح! سروہی کو کلیجے سے لگا کر بجلی کے گھوڑے پر سوار ہوں 

اور۔۔۔ اورنگزیب کی گردن سے دھرمت کا حساب مانگیں۔‘‘

آخری مصرعے پر راجپوتوں کے جنگی نعرے ’’جے ہری ہری‘‘ سے فلک بارگاہ ہلنے لگی۔ دارا نے گردن سے زردی مائل موتیوں کا ست لڑا ہار اتار کر راؤ کی طرف اچھال دیا۔ راؤ نے کام کام کیا پہن لیا۔(جاری ہے )

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 39 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /دارا شکوہ