تمباکو کاشتکاروں کیساتھ ناانصافی بند کی جائے‘ رضوان اللہ

تمباکو کاشتکاروں کیساتھ ناانصافی بند کی جائے‘ رضوان اللہ

  



تخت بھائی(نمائندہ)کسان بورڈ خیبر پختون خوا کے صدر رضوان اللہ خان نے کہا ہے کہ مخصوص لابیز ایک بار پھر فی کلو تمباکو پر 300 روپے ٹیکس لگانے کے لئے کوشاں ہیں۔جو تمباکو کاشتکاروں کے ساتھ بد ترین ظلم ہو گا۔اس ظالمانہ ٹیکس نے 2018-19 کے سیزن میں کاشتکاروں کو اربوں روپے نقصان سے دوچار کیا تھا۔ کسان بورڈ نے تحریک چلا کر حکومت کو یہ ٹیکس واپس لینے پر مجبور کیا تھا۔ اسلے پچھلے سال کسان کا تمباکو عزت کے ساتھ فروخت ہوا تھا۔مخصوص لابی اور دو ملٹی نیشنل کمپنیوں، فلپ موریس اور پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی انتہائی کوشش ہے کہ یہ ٹیکس دوبارہ لگا دیا جائے اور کسان ان کے رحم و کرم پر ہوں تاکہ ان کو آسانی سے لوٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیکس کا مطلب مقامی وملکی کمپنیوں کو مارکیٹ سے باہر رکھنا ہے تاکہ یہ کمپنیاں رہجکشن اور ڈاؤن گریڈنگ کے نام پر آسانی سے کاشتکاروں کا استحصال کر سکیں۔ میں خبردار کرتا ہوں کہ اگر یہ کسان دشمن اور ظالمانہ ٹیکس دوبارہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو کسان بورڈ ملک بھر میں شدید احتجاج اور مزاحمت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کہنے پر جیو نیوز کے شاہزیب خانزادہ نے اس موضوع پر ایک گمراہ کن پروگرام بھی کیا تھا جس میں اس ٹیکس کے حوالے سے غلط اطلاعات فراہم کی گئیں تھیں۔ ھم اس گناونے سازش کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔انہیں اس پروگرام میں کاشتکاروں کے نمائندوں کا موقف بھی لینا چاہیے تھا۔رضوان اللہ خان نے کہا کہ اب جبکہ تمباکو کی کاشت شروع ہو چکی ہے تو ایک بار پھر ملٹی نیشنل کمپنیاں کاشتکاروں کو انتہائی مہنگے داموں کھاد فروخت کیا جارہا ہے۔ این پی کے اور یوریا کھادیں عام مارکیٹ سے زیادہ قیمت پر خریدنے کے لیے کاشت کاروں کو ایگریمنٹ کینسل کرنے کی دھمکیاں تک دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے چیئرمین سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ان ظالمانہ حربوں کو لگام دیں اور کسانوں کو اس استحصال سے بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کی قیمت 203 روپے فی کلو مقرر کرکے دراصل کاشتکاروں کے ساتھ بڑی زیادتی کی گئی ہے۔ زرعی مداخل کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں لیکن تمباکو کی قیمت میں محض 3 روپے اضافہ کرنا بدترین مذاق ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی مداخل میں بے پناہ اضافہ کو مدنظر رکھتے ہوئے تمباکو کی کم از کم 250 روپے مقرر کی جا ئے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر