انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 32

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 32
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 32

  

سمگلنگ کے شکار افراد جو آسڑیلیا سے تھائی لینڈ واپس آتے ہیں ان کی بحالی اور مدد کے لیے تھائی لینڈ دسے مل کر ایک منصوبہ 2003ء میں شروع کیا ۔ اس منصوبے کے لیے آسٹریلیا نے 20ملین ڈالر ابتدائی طو ر پر دےئے تاکہ تھائی لینڈ میں لو گوں کو سمگلنگ کے متعلق آگاہی دی جا سکے ۔ اس کے علاوہ در جنوں دیگر منصو بے دنیا میں آسٹریلیا کے تعاون سے جا ری ہیں جن میں انسانی سمگلنگ کو روکنے کی کو شش کو مر کزی حیثیت حاصل ہے ۔ 2008ء میں آسٹر یلوی حکومت کی طرف سے 4غیر سرکا ری تنظیموں کو 1ملین ڈالر کی امداد دی گئی جو انسانی سمگلنگ کے خلاف کا م کر رہی تھیں ۔ حکومت نے اپنے ملک کے اند ر اس جرم کے شکار افراد کے لیے بھی وافر فنڈ ز مختص کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل کہ آسٹریلیا میں انسانی سمگلنگ کے خلاف حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا جائے وہاں اس جرم کی سزا کے لیے مو جو د قوانین اور اس کے تحت سزاؤ ں کا اختصار کے ساتھ ذکر بے جانہ ہو گا ۔

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 31 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دولت مشتر کہ نے 1999 ء میں اپنے کر یمنل کو ڈ ایکٹ 1995ء میں ترمیم کی تا کہ انسانی سمگلنگ ،خصو صاً عورتوں اور بچوں کو سمگل کرنے والوں کو سزاد ی جا سکے اور اس جرم کی روک تھا م اور بیخ کنی کا انتظام کیا جا سکے ۔ دوسرا اس ترمیم کا مقصد ریاستہائے متحدہ امریکہ کے کنونشن کے مطابق مقامی قانون کو ڈ ھا لنا تھا جو جنسی خدمات ، دھوکہ سے افراد کی بھرتی اور جنسی استحصال یا غلامی کے متعلق بین الاقوامی منظم جرم کے خلاف ہے۔ 2005ء میں مذکورہ بالا’’ ایکٹ2005ء ‘‘میں ترمیم کے ذریعے انسانی سمگلنگ کے جرائم کو خا ص طو ر پر اس میں شامل کیا گیا ۔ جنسی خدمات کے لیے فریب کے ذریعے لو گوں کی بھرتی کے متعلقہ موجود شقوں میں ترمیم کر کے سمگل شدہ افراد اور اضافی قر ضوں کے جرائم کو دولت مشترکہ کے اہم قانون میں شامل کیا گیا ۔ ان تر امیم میں اس بڑھتے ہوئے رجحان کو نمایاں کیا گیا جس میں لوگ انسانی سمگلنگ کو سیکس انڈسٹر ی کے لیے ایک اہم مسئلہ نہیں سمجھتے تھے ۔ کر یمنل کو ڈ کی دفعہ 270 میں ان جرائم کو شامل کیا گیا اور زیادہ سے زیادہ سز ا تجویز کی گئی جس میں غلامی کی سزا 25 سال مقر ر کی گئی ۔ باقی جرائم کی سزائیں مندرجہ ذیل مقر ر کی گئی ہیں ۔ 

i) ( جنسی خدمات کے لیے کسی کو سمگل کرنے پر 15 سال قید ،

(ii)جنسی مقاصد کے لیے فریب سے بھرتی کرنے کی سز ا ، 7سال قید ،

(iii) انسانی سمگلنگ کی سزا۔ 12سال 

(iv)بچوں کی سمگلنگ کی سزا ۔ 25 سال 

(v)گھر یلوکام کاج کے لیے انسانی سمگلنگ کی سزا ۔ 12سال 

(vi)اضافی قر ضو ں کی سزا۔ 12ماہ مقر ر کی گئی ۔ 

مذکو رہ بالا جرائم میں سے اگر کسی میں بچوں کی شمو لیت پائی جائے تو سز ا اور جرمانے میں جرم کے مطابق اضافہ کر دیا جا تا ہے ۔ 1958ء کے ما ئیگریشن ایکٹ کے تحت کسی فر د یا لیبر کمپنی اور ملازمت فراہم کرنے والی کسی ایجنسی (جانتے ہوئے )کے لیے ایسے فر د کو کام پر رکھنا جو کام کرنے کا حق نہ رکھتا ہو جرم قرار دیا گیا ہے، ایسے افراد کو غیر شہری کہا جاتا ہے ۔2007ء میں مائیگر یشن ایکٹ میں ترمیم کر کے غیر قانونی شہر یوں کے استحصال کو سخت سزا کے قانون کے تا بع کر دیا گیا ۔ اگر کو ئی شخص کسی ایسے فرد کا استحصا ل کر ے گا تو اس کو 5سال قید اور 33ہزار آسٹر یلوی ڈالر جرمانہ کیا جا ئے گا ۔ اگر کو ئی کمپنی اس میں ملوث پائی گئی تو اسے ایک لا کھ 65 ہزار آسٹریلوی ڈالر جرمانہ کیا جائے گا۔

آسٹریلیا میں متعدد فیڈرل قوانین انسانی سمگلنگ کے جرائم کی تفتیش میں مدد دیتے ہیں ۔ مثال کے طو ر پر ٹیلی کمیو نیکشن کے قوانین میں کر یمنل کو ڈ میں مذکو رہ جرائم کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے، خصو صاً انسانی سمگلنگ کے لیے انٹر نیٹ یا ٹیلی فون کے استعمال کا ثبو ت ایک اہم شہادت کے طور پر عدالت میں قبول کیا جا تا ہے ۔پولیس کو ا ختیار حاصل ہے کہ وہ فون کالز کا کھوج لگا کر متعلقہ جرائم کی تفتیش میں مدد حاصل کر سکے ۔ 2002ء میں عدالت نے ٹیلی فون کالز کے ریکارڈ پر مجر مو ں کو جرمانے اور قید کی سزابھی سنائی تھی۔ اگر معاملہ سنجیدہ نو عیت کو ہو تو جج کو اختیار دیا گیاہے کہ وہ مطلو بہ فنانس کے شعبوں کا ریکارڈ طلب کر کے خاص دورانیے میں رقوم کی منتقلی کی تفصیل حاصل کر سکتا ہے۔ اسے آسٹریلیا میں قانونی زبا ن میں ’’ما نیٹر نگ آرڈر ‘‘کہا جاتا ہے ۔ حکومت کی طر ف سے عدالت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی جرم کی عدالتی کارروائی کو خفیہ رکھ سکتی ہے ۔ علاوہ ازیں انسداد سمگلنگ کے تمام وفاقی قوانین میں حملہ کرنے، جنسی طور پر ہر اسا ں کرنے ، اغواء ، جبری جسم فروشی اور آزادی میں رکاوٹ ڈالنے جیسے دیگر جرائم کے متعلقہ تمام عدالتوں اور اداروں کی قانونی حدود صر احت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہیں۔ ان جرائم کے متعلقہ ریاستی قوانین کو وفاقی قوانین کے ساتھ ملا کر کم از کم دو مقدمات میں استعمال کیا گیا ہے۔ 

چونکہ آسڑیلیا میں لااینڈ آرڈر کی صورتحال بہت شفاف اور مبنی بر انصاف ہے اس لیے عدا لتوں میں بہت کم مقدمات آتے ہیں۔ سرکاری اہل کاروں میں رشوت کا تصو ر نہیں پا یا جاتا اور نہ ہی کو تا ہی اور کسی مصلحت کو بر داشت کیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ آسٹریلیا میں انسانی سمگلنگ کے شکار افراد اور جرائم کے گواہوں کو خاص حفاظت میں رکھا جا تا ہے ۔ ان کو عارضی طور پر 30یوم کا ویزہ جاری کیا جا تا ہے جس میں ضرورت پڑنے پر تو سیع کی جاتی ہے ۔ انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کو نہ صر ف پنا ہ گھر وں میں رکھا جاتا ہے بلکہ ان کو رہائش ، خوراک ،میڈیکل اور دیگر ضروریا ت کے لیے فنڈ ز بھی دئیے جاتے ہیں ۔ ایسے افراد کی مالی امداد کے لیے وفاقی حکومت نے ’’سمگلنگ کے شکار افراد کی مدد کا پروگرام ‘‘شروع کیا ہوا ہے ، جو فیڈرل گو ر نمنٹ کے ویزہ سسٹم کے تحت چلا جا رہا ہے ۔ کو ئی فرد جو فیڈرل پولیس آف آسٹر یلیا کی تفتیش میں مستحق قرار پائے اسے کام کرنے کی ہر گز اجازت نہیں ہوتی اور نہ وہ سو شل سیکورٹی لینے کا حق دار ہو تا ہے ۔ ایسے افراد آسٹریلیا کے اندر ایک خاص مدت تک رہنے او رحکومت اور عدالتوں کو انسانی سمگلنگ کے مقدما ت میں مدد فراہم کرنے کے پابند ہوتے ہیں ۔ ایسے افراد کو مر کزی رابطے کے اداروں کے ذریعے فنڈز مہیا کیے جاتے ہیں جن کی تفصیل کچھ یو ں ہے ۔ 

- محفوظ اور فر نشڈرہائش کے لیے تقر یباً 140سے 160ڈالر فی رات ، 

- فارغ رہنے کا الاؤنس ۔ 170 ڈالر برائے پندرہ یوم ،

- فوڈ الاؤنس 170 ڈالر برائے پندرہ یوم 

- لباس اور دیگر ایشیاء کی خرید اری کے لیے یکمشت ادائیگی ۔ 310ڈالر 

- خاص مراعات کی مد میں ، 424-30 ڈالر برائے پندرہ یوم ،

-کرائے کی مد میں ، 104 ڈالر برائے پندرہ یوم 

- طویل عر صے کے لیے قیام پذیر رہنے والو ں کو فرنیچر کی مد میں ۔ تقریباً 750 ڈالر اد اکیے جا تے ہیں ۔ اگر مذکو رہ با لا مرا عات حاصل کرنے والا شخص حکومت اور قانون نا فذ کرنے والے اداروں کو مدد فراہم کرنے میں نا کام رہے تو اس کے تمام الاؤنسز ختم کر کے اسے آسٹریلیا سے نکال دیا جا تا ہے ۔ مذکو رہ بالا تمام مراعات ، قانون اور حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا میں اس جرم کو روکنے کے مثالی اقدامات کیے گئے ہیں ۔ اس کی کو ششوں کو مد نظر رکھتے ہو ئے یو ۔ ایس سٹیٹ ڈیپا رٹمنٹ کی انسانی سمگلنگ کی سالانہ رپورٹ میں اسے سر کل 1میں رکھا گیا ہے۔

آسٹریلیا میں کم عمر بچو ں کی عمر 16 سال مقرر ہے جبکہ باقی دنیامیں یہ18 سال مقرر ہے ۔ 2004 ء سے آسٹریلوی حکومت نے اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف اپنی کو ششوں کو تیز کر تے ہوئے 112 مقدمات کھو لے اور 2درجن کے قریب افراد کو گنا ہ گا ر قرار دیا ۔ اسی طر ح 2006ء میں جنسی مقاصد کے لیے انسانوں کو سمگل کرنے والے 4افراد کو سزا دی گئی ۔ ان میں چار افراد سیاحت میں بچوں کو جنسی خدمات کے لیے لانے کے مر تکب ہو ئے تھے ۔ آسٹریلوی حکومت اخبارات میں اشتہار ات کے ذریعے عوامی آگاہی کے پروگرامز اور سمگلر ز کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو عوام میں نمایا ں طور پر دکھاتی ہے جس سے عوام اور اس جرم کے شکار افراد کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں اور وہ متعلقہ اداروں سے رجوع کرنے میں خوف محسوس نہیں کر تے ہیں ۔

نیوزی لینڈ تعارف اور امریکی رپورٹ

نیوزی لینڈ کی تاریخ پر مختصر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ یہ ملک 1642ء میں ایک جرمن بحری جہازراں نے دریا فت کیا جو اپنے بحری سفر کے دوران یہاں رکا تھا ۔ قدیم مو ریز جو اندرونی کشمکش کا باعث بنتے ہیں 1815 اور 1840 کے درمیان جاری قبائلی جنگ میں لاکھوں کی تعداد میں مارے گئے ۔ 1840ء میں ہی مو ریز کے ساتھ بر طانوی اقتدار تسلیم کرنے کے عوض ان کو اپنی زمینوں کے مکمل استفا دے کا حق دیا گیا ۔ بر طانوی آباد کاری بڑھنے کے ساتھ ساتھ اندرونی چپقلش بڑھتی گئی جس میں 1860ء میں شدت پیدا ہو ئی ۔ 1840ء میں نئی بر طانوی کا لونی بننے کے بعد اس نے اپنی حکومت بنائی جو آسٹریلیا کے نیو شمالی ویلز کے علاقے پر مشتمل تھی ۔ نیوزی لینڈ کے نام سے1907ء میں خود مختار حکومت کا اعلان کیا گیا لیکن غیر ملکی امور بر طانیہ کے پاس رکھنے کو تر جیح دی گئی اور 1947ء تک نیوزی لینڈ کا مغربی ممالک کے لیے کو ئی وزیر نہ تھا ۔(جاری ہے )

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 33 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ