نصاب سے حقیقت تک

نصاب سے حقیقت تک
نصاب سے حقیقت تک

  

بچہ سکول سے نکلتا ہے توایک نئی دنیا___بڑوں کی دنیا(Adult World) ____ اس کی منتظر ہوتی ہے۔

ایسی دنیا جہاں اس نے والدین کی چھتری سے نکل کر خود انحصاری کے سفر پر نکلنا ہے۔اس نے ملازمت ، کاروبار یا کسی اور معاشی سرگرمی سے وابستہ ہونا ہے۔ کچھ ہی سالوں کے بعد اس کی شادی ہونی ہے۔اس نے ایک نئے خاندان کا آغاز کرنا ہے،اپنی ذات اور اپنے خاندان کا تحفظ کرنا ہے، ہمسایوں ، رشتے داروں، رفقائے کار کے ساتھ تعلق نبھانا ہے اورمعاشرے میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے۔

سکول اور گریڈ

بچہ سکول میں ہوتا ہے تو وہ آنے والی زندگی سے بے نیاز پڑھائی میں مگن ہوتا ہے۔ اسے نصیحت کی جاتی ہے کہ تم صرف پڑھائی لکھائی پر دھیان رکھو اور خوب محنت کرو تاکہ اچھے نمبر اور گریڈ حاصل کرسکو۔ یہ نمبر اور گریڈ والدین، استاد اور سکول کی ترجیح اول ہوتے ہیں۔ 

بچہ والدین کی طرف دیکھتا ہے تو ان کی آنکھوں میں اسے گریڈ لکھے ملتے ہیں۔ اساتذہ کی بات پر دھیان دیتا ہے تو ان کی زبان پر گریڈ اور نمبروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔سکول کی پبلسٹی پر نظر پڑتی ہے تو یہ نمبر اور گریڈ بطور اشتہار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ گریڈ اور نمبر بچے پر پریشر بن کر نازل ہوجاتے ہیں۔ اس پریشر سے نکلنے کے لیے وہ رٹا لگاتا ہے، ٹیوشن پڑھتا ہے، گیس پیپر استعمال کرتا ہے، حتیٰ کہ امتحان کے دوران نقل لگانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اچھے نمبر حاصل کر لیے تو کامیاب ورنہ ناکام۔ 

بچے کو بتایا جاتا ہے کہ یہ گریڈ اور نمبر انتہائی اہم ہیں ۔بلکہ یہ نمبر ہی سب کچھ ہیں۔ انھی نمبروں پر اس کے روشن مستقبل کا انحصار ہے۔آپ غور کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ روشن مستقبل بس ایک اچھی سی ’’ملازمت‘‘کے سوا کچھ نہیں ۔ یعنی پورا خاندان اورسکول سسٹم بچے کو اچھی ملازمت دینے پر لگا ہوا ہے۔ 

چلو یہاں تک تو بات ٹھیک ہے کہ بچے کو ملازمت مل جائے تو بھی غنیمت ہے ۔ کم ازکم کچھ تو خوش حالی آئے گی۔ لیکن بات اتنی سادہ نہیں۔

ملازمت کی دنیا 

سکول بچے کو نمبر دے دیتا ہے اور اس کے ہاتھ میں ’’ملازمت کی کنجی‘‘ یعنی ڈگری بھی تھما دیتا ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب بچہ ملازمت کے لیے بڑوں کی دنیا میں پہلا قدم رکھتا ہے۔ 

سکول اسے یہ تو بتاتا ہے کہ اس ڈگری سے ملازمت مل جائے گی لیکن اسے یہ نہیں بتاتا کہ ’’ملازمت ‘‘ تلاش کیسے کرنی ہے،انٹرویو کی تیاری کیسے کرنی ہے، اگر کوئی ملازمت نہیں ملتی تو پھر کیا کرنا ہے اور اگر ملازمت مل جاتی ہے تو اسے برقرار کیسے رکھنا ہے اور اس میں ترقی کے مواقع کیسے تلاش کرنے ہیں۔یعنی سکول بچے میں وہ مہارتیں پیدا نہیں کرتا جنھیں روزگار کی مہارتیں یا Employability Skills کہا جاتا ہے۔ 

زندگی کے مسائل 

اب بچے کو پتا چلتا ہے کہ اس نئی دنیا میں قدم قدم پر چیلنج ہیں ۔ اس کے پاس تو زندگی کے پہلے چیلنج ___ملازمت____ سے نبٹنے کی مہارت نہیں ہے۔ پھر اسے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی صرف ملازمت نہیں ہے جہاں اسے بس Employability Skills کی ضرورت ہو۔بڑوں کی اس دنیا (Adult World) میں ضروریات کا دباؤ ہے، مسابقت کی ایک زبردست فضا ہے، قدم قدم پر مفادات کا ٹکراؤ ہے، اختلافات ہیں، کشمکش ہے ۔اس نے مسائل کے اس جھاڑ جھنکار سے دامن بچاتے ہوئے آگے جانا ہے۔ 

اس وقت اسے نئی دنیا میں زندہ رہنے اوراپنی بقا کے لیے اسے بہت سی انفرادی اور معاشرتی مہارتوں (Skills)کی ضرورت پڑتی ہے۔

اسے گفت و شنید کی مہارت (Negotiation Skills) کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ روزمرہ زندگی میں دوست، احباب اور عام لوگوں کے ساتھ اختلافات کووہ احسن طریقے سے حل کرسکے ۔ 

اسے سوچ بچار کی مہارت (Thinking Skills) کی ضرورت ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ معاملات کو سمجھ کر درست فیصلے کرسکے۔ 

اسے خاندان سنبھالنے کی مہارت(Parenting Skills) کی ضرورت ہوتی ہے جسے بروئے کار لاتے ہوئے وہ بچوں کی صحیح پرورش کرسکے ۔ 

اسے مالیاتی نظم و نسق کی مہارت (Financial Management Skills) کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ آمدن اور اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے گھریلو بجٹ بنا سکے اور اسے کامیابی سے چلاسکے۔ 

اس کے علاوہ اسے ذاتی دفاع کی مہارت، مسائل حل کرنے کی مہارت، دباؤ سے نکلنے کی مہارت(Stress Management) ، وقت کی تنظیم کی مہارت(Time Managment)،نئے ماحول اور افراد کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی مہارت جیسی کئی ایک مہارتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ سب مہارتیں اس کی زندگی کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ 

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس وقت اس کے پاس کوئی ایک بھی مہارت نہیں ہوتی۔ اس عملی زندگی میں گریڈ اور نمبر بے معنی ہوجاتے ہیں۔ اسے اندازہ ہوتا ہے کہ سکول نے تو اسے کچھ بھی نہیں سکھایا۔

سکول کیا سکھاتا ہے؟

سکول بچے کو عملاً دو مہارتیں سکھاتا ہے: ایک پڑھنے لکھنے کی مہارت دوسری نمبر اور گریڈ لینے کی مہارت۔ پڑھنا لکھنا بھی چونکہ نمبروں کے لیے ہوتا ہے اس لیے سکول بچے کو محض نمبراور گریڈ لینے کی مہارت سکھا تاہے۔ زندگی کے مسئلے مسائل کیاہیں؟ بچہ ان سے کیسے نبرد آزما ہوگا ، سکول کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔سکول اس کے ہاتھ میں ایک عدد ڈگری تھما کر فارغ ہوجاتا ہے۔اب بچہ جانے اور اس کے والدین۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ