3نومبر...جب عدالت عظمیٰ نے مزاحمت کا فیصلہ کیا تھا

3نومبر...جب عدالت عظمیٰ نے مزاحمت کا فیصلہ کیا تھا
3نومبر...جب عدالت عظمیٰ نے مزاحمت کا فیصلہ کیا تھا

  

آپ کو یاد ہے کہ آج سے دس سال پہلے اسی دن... 3 نومبر 2007ء  جنرل مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کردیا تھا۔ آئیے آج کے دن کی مناسبت سے ماضی کے اس ورق کو پلٹ کر دیکھ لیں۔

3 نومبر 2007کی ایمرجنسی عجیب و غریب قسم کی تھی ۔ اس نوعیت کی ایمرجنسی کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کیسے؟ ملاحظہ کریں:

ٌ* آئین کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ صدر پاکستان کرتا ہے لیکن یہ ایمرجنسی چیف آف آرمی سٹاف نے لگائی تھی۔

*ایمرجنسی آئین کے تابع رہتی ہے ۔یعنی ایمرجنسی سے آئین معطل نہیں ہوتا لیکن اس ایمرجنسی نے آئین ہی معطل کردیا تھا ۔

*ایمرجنسی میں چونکہ آئین برقرار رہتا ہے اس لیے پی۔سی۔او کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ پہلی ایمرجنسی تھی جو اپنے ساتھ پی۔سی۔او کا تحفہ بھی لائی۔

*ایمرجنسی میں چند بنیادی حقوق معطل ہوتے ہیں جب کہ اعلیٰ عدالتیں برقرار رہتی ہیں۔ یہ ایمرجنسی پی۔سی۔او عدالتوں کا سندیسہ بھی لے کر آئی تھی۔

*اس ایمرجنسی کے تحت فرد واحد نے آئین میں ترمیم کا حق حاصل کرلیا تھا۔ اس لحاظ سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایمرجنسی تھی۔

*اس ایمرجنسی کا طرفہ تماشہ یہ تھا کہ ایک شخص چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار حاصل کرتا ہے او رایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ایمرجنسی اٹھانے کا اختیار بھی وہ صدر پاکستان کو سونپ دیتا ہے۔ اور صدر پاکستان بھی وہ خود ہی ہے۔

مندرجہ بالا حقائق سے ظاہر ہوتا ہوتا ہے کہ یہ ایمرجنسی درحقیقت مارشل لا تھا ۔آٹھ سال بعد جنرل مشرف نے دوبارہ مارشل لا لگایا تھا۔ پہلا مارشل لا ایک آئینی حکومت جب کہ دوسرا مارشل لا ایک فعال اور آئین کی نگہبان عدلیہ پر شب خون تھا۔

یہ ایمرجنسی اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھی تو پہلی بار عدالت عظمیٰ نے بھی تاریخی کردار کا مظاہرہ کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے جنرل مشرف کے اس غیر آئینی مارشل لا نما ایمرجنسی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے ایمرجنسی کے حکمنامے کو کالعدم قرار دیا اور عدلیہ کو پابند کردیا کہ پی۔سی۔او کے تحت حلف نہیں اٹھایا جائے گا۔

ایمرجنسی کے اعلان کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ کو گھیرے میں لے لیا گیا۔کچھ افسران سپریم کورٹ کے اندر آئے اور چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان کو حراست میں لے لیا ۔ لیکن اس وقت تک عدالت عظمیٰ اپنے حکمنامے کی کاپیاں پریس کو تقسیم کرچکی تھی۔

میڈیا کے ذیریعے عوام کو پتا چل گیا کہ عدالت عظمیٰ نے ایمرجنسی(مارشل لا) کو کالعدم قرار دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا یہ بروقت فیصلہ کئی اعتبار سے نتیجہ خیز رہا۔

عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد ایمریجنسی اور پی۔سی۔او کی آئین و قانونی حیثیت ختم ہوگئی۔ اس فیصلے کی اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ پہلا فیصلہ تھا جو مارشل لا کے نفاذ کے وقت دیا گیا۔ اس سے پہلے جسٹس حمود الرحمٰن نے مس عاصمہ جیلانی کیس میں یحییٰ خان کے مارشل لا کو ناجائز قرار دیا تھا لیکن یحییٰ خان اس وقت تک اقتدار سے فارغ ہوچکا تھا۔ملک کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ نے مارشل لا کے نفاذ کے وقت ہی اس کو غیر آئینی قرار دیا اور پی۔سی۔او کے تحت حلف اٹھانے کی ممانعت کردی۔ سپریم کورٹ کے اس واضح حکم کے بعد عدالت عظمیٰ اور عدالت ہائے عالیہ کے جج صاحبان کی اکثریت نے پی۔سی۔او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ کے جن جج صاحبان نے حلف اٹھانے سے انکار کیا ۔ان میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے علاوہ رانا بھگوان داس، جاوید اقبال، سردار محمد رضا خان ، خلیل الرحمن رمدے، فلک شیر، میاں شاکراللّٰہ ، تصدق جیلانی، ناصر الملک، راجہ فیاض احمد، اعجاز احمد، سید جمشید علی، غلام ربانی شامل تھے۔ حکومت نے ان ججوں کو معزول کردیا۔ عدالت عظمیٰ کے جج عبدالحمید ڈوگر نے پی۔سی۔او کے تحت سپریم کورٹ کے چیف چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ۔ دیگر حلف اٹھانے والوں میں جسٹس عباسی، جسٹس فقیر کھوکھر اور جسٹس جاوید اقبال بٹر قابل ذکر تھے۔ حکومت کو چند ریٹائرڈ جج صاحبان کو عدالت عظمیٰ کا جج مقرر کرنا پڑا۔

عدلیہ کے اس جرأت مندانہ فیصلے نے وکلا میں نیا عزم بیدار کردیا۔ 5نومبر کو پہلا ورکنگ ڈے تھا۔ حکومت نے ایک دن پہلے ہی وکلا رہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔ حکومت کا خیال تھا کہ سرکردہ رہنماؤں کی گرفتاری سے مزاحمت غیر موثر ہوجائے گی۔ لیکن 5نومبر کے دن پاکستان بھر کے وکلا نے حکومت کے اس اندازے کو غلط ثابت کردیا۔

5نومبر کے دن پولیس اہلکار پوری تیاریوں کے ساتھ ہائیکورٹ اور ذیلی عدالتوں میں صبح سویرے پہنچ گئے۔ وکلا کے سڑکوں پر نکلنے سے پہلے ہی پولیس ان پل پڑی۔ شدید آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ عدالتیں میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگیں۔ پولیس نے خاتون وکلا کو بھی نہ بخشا اور مرد وکلا کے ساتھ ساتھ ان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے لاہور ہائی کورٹ کے کیانی ہال کے شیشے توڑ دیے۔ اندر گھس کر اندھا دھند آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔ کئی وکلا شدید زخمی ہوگئے۔ اور کئی ایک بے ہوش بھی ہوگئے۔ لاہور ہی نہیں دیگر شہروں میں بھی اسی قسم کے مناظر دیکھے گئے۔ ہزاروں وکلا کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان کے خلاف دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات گھڑلیے گئے۔ ماتحت عدالتوں کو ان کی ضمانت لینے سے روک دیا گیا اور ان کو دور دراز کی جیلوں میں بھیج دیا گیا۔

پاکستان بار کونسل، تمام صوبائی بار کونسلوں، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ملک کی تمام چھوٹی بڑی بار نے ایمرجنسی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ پی۔سی۔او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا مکمل بائیکاٹ کردیا ۔ ان کی عدالتوں میں کسی بھی قسم کے مقدمات کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران چیف جسٹیس کے وکلا اعتزاز احسن، منیر اے ملک، علی احمد کرد، جسٹس(ر) طارق محمود کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس تشدد کے باعث جسٹس (ر) طارق شدید علیل ہوگئے۔ اور منیر اے ملک کے گردوں کو شدید نقصان پہنچا۔ جس کے باعث انھیں ہسپتال داخل کروانا پڑا۔

5نومبر کو ہزاروں وکلا گرفتار کرلیے گئے۔ عدالتوں اور بار روم پر ایجنسیوں کے افراد اور پولیس اہلکار قابض ہوگئے۔ وکلا کا داخلہ بند کردیا گیا۔ مارشل لا کے یہ مناظر ہر پاکستانی نے الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا پر دیکھے اور جنرل مشرف کی ’روشن خیالی ‘ قائل ہوگیا۔

5 نومبر کے دن وکلا نے جس پامردی کے ساتھ پولیس تشدد کا مقابلہ کیا۔ اس نے عوام میں بھی جوش و خروش پیدا کردیا۔ طلبہ اور صحافیوں نے ایمرجنسی کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ اس ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت حکومت تشدد کے ذریعے خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا چاہتی تھی ۔ تاکہ مظاہروں کا سلسلہ نہ چل پڑے لیکن جج صاحبان کی استقامت اور وکلا کے جذبہ صادق نے خوف ہراس کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ لاہور اور اسلام آباد میں بڑے بڑے مظاہرے شروع ہوگئے۔ پاکستانی عوام نے ججوں اور وکلا کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اور جنرل مشرف کے آمرانہ اقدامات کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔

15دسمبر 2007کو پرویز مشرف نے ایمرجنسی اٹھالی۔ لیکن افتخار محمد چودھری اور دیگر ججوں کو بحال کرنے سے انکار کردیا۔ 3نومبر 2007 کو شروع ہونے والی یہ تحریک افتخار محمد چودھری اور دیگر تمام ججوں کی بحالی تک چلتی رہی۔بالاخرسترہ ماہ کی جدوجہد رنگ لائی۔ اور21 مارچ 2009 کو افتخار محمد چودھری اور دیگر جج صاحبان اپنے عہدوں پر واپس آگئے۔

غیر آئینی اقدام کے خلاف بنچ اور بارکی یہ مزاحمت آزاد عدلیہ کی جدوجہد میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

اس دن کا سبق یہ ہے کہ جب بنچ آئین کی پاسداری کا فیصلہ کرتا ہے تو بار اس کی پشت پر کھڑی ہوجاتی ہے۔ اور آئین کی پاسداری کی جدوجہد میں بنچ اور بار کو قوم کی غیر مشروط حمایت حاصل ہوتی ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ