بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے تحت چلائے جانیوالے مقدمات انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے تحت چلائے جانیوالے مقدمات انسانی حقوق کی خلاف ...

لاہور(خبر نگار خصوصی)بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے تحت مقدمات چلانے کے بارے میں ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء کے تحت ہونیوالی ایک ورکشاپ میں ان مقدمات کو انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔آر ایس آئی ایل کے صدر معروف قانون دان اور سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو بنگلہ دیش میں مختلف اوقات میں جنگی جرائم کے بارے میں ہونے والی قانون سازی کے بارے میں آگاہ کیا جس میں سپیشل ٹریبونل آرڈر1972ء انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل ایکٹ1973ء اور بنگلہ دیشی آئین کی مختلف شقیں شامل تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1974ء میں ہونے والے سہ فریقی معاہدے کے تحت مقدمات نہ چلانے پر اتفاق ہوا تھا اور جس کے تحت195 مشتبہ افراد اور جنگی قیدیوں کو پاکستان کے حوالے کیا گیا تھا۔سہ فریقی سمجھوتے میں طے پانے والے مصالحت کے جذبے کے تحت بنگلہ دیش نے1971ء میں جنگی جرائم کے مجرموں کے خلاف مقدمہ چلانے کا اپنا حق ترک کردیا تھا جس کو بنگلہ دیش نے1972ء کے آرڈر میں بھی برقرار رکھا تاہم2009ء میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل ایکٹ ازسرنو بحال کیا گیا جس کے تحت وار کرائمز ٹریبونل قائم کئے گئے ان ٹریبونلز کو کارروائی سے استثنیٰ دیاگیا۔احمر بلال صوفی نے اس ایکٹ کی دفعات 19اور23کا حوالہ دیا جس کے تحت بنگلہ دیش کے ضابطہ فوجداری اور قانون شہادت کو نکال دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان دفعات کو نکالنے کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی،جس کے تحت ایک عدالت یا ٹریبونل کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ضابطہ فوجداری اور قانون شہادت کے بغیر سزائے موت دے سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے قانون نے دنیا کیلئے ایک نئی مثال قائم کردی۔انہوں نے کہا کہ بظاہر اب تک ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنانا اور مقدمہ چلانے سے پہلے تعصب کا مظاہرہ نظر آرہا ہے۔احمر بلال کا کہنا تھا کہ شہری اور سیاسی حقوق کے بارے میں بین الاقوامی معاہدے کے دفاع 9-6 اور14 کی کھلی خلاف ورزی ہے اس معاہدے میں بنگلہ دیش بھی فریق ہے۔اس لئے بنگلہ دیش کی ذمہ داری کہ وہ اس پرعمل کرے۔انہوں نے شرکاء کو بنگلہ دیش ٹریبونلز کی طرف سے سزاؤں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس جیسی تنظیموں کے ردعمل سے بھی آگاہ کیا۔انہوں نے ٹریبونل کے حاضر جج اور یورپ کے ایک وکیل کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو پر بھی اظہار خیال کیا۔ورکشاپ میں وزیراعظم کے معاون خصوصی اشتر اوصاف علی سمیت سفارتکاروں،قانون کے طلبہ اور سول سوسائٹی کے اہم ارکان نے شرکت کی۔شیریں مزاری نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دفتر خارجہ نے ابھی تک اس مسئلے کو کیوں نہیں اٹھایا اور کہا کہ پاکستان کو اس مسئلے کو عالمی برادری کے نوٹس میں لانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو بنگلہ دیش میں محصور بہاریوں کے مسئلہ بھی حل کرنا چاہئے۔جنرل(ر) طلعت مسعود نے کہا کہ ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء کی ٹیم کو سراہا جانا چاہئے،جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فرید پراچہ نے ریسرچ سوسائٹی کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ یہ مقدمات جماعت اسلامی کے خلاف بغض کا مظاہرہ ہیں،ان کو فوری طور پر بند ہونا چاہئے۔معروف دانشور عبداللہ گل نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ممالک کے لوگ قائداعظم کے پیروکار ہیں۔اس لئے انہیں اپنے رشتے بہتر بنانے کیلئے راستے تلاش کرنا چاہئیں۔احمر بلال صوفی نے ورکشاپ کے اختتام سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات انتہائی اہم ہیں تاہم قانونی تقاضے تمام ہمسایہ ملکوں کو پابند کرتے ہیں کہ وہ دہشتگردی کی روک تھام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں۔اس ورکشاپ کا مقصد بنگلہ دیش کے جنگی جرائم ٹریبونل میں چلائے جانے والے مقدمات کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا تھا۔انہوں نے کہا کہ قانونی تشویش کے پہلوؤں کو بنگلہ دیش حکومت کے نوٹس میں لانے میں کوئی برائی نہیں ہے اس کو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری اور غیر سرکاری تنظیموں کو آگاہ کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ اول