الیکشن نزدیک آنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں بے چینی افرا تفری بڑھنے لگی

الیکشن نزدیک آنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں بے چینی افرا تفری بڑھنے لگی
الیکشن نزدیک آنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں بے چینی افرا تفری بڑھنے لگی

  



انتخابات 2013 ءکے اعلان کا وقت جوں جوں قریب آتا جا رہا ہے ملک کے اندر بے چینی افراتفری اور بے یقینی میں ایک طرف اضافہ ہوا ہے تودوسری طرف کئی سیاستدان نجومی بھی بن کر سامنے آتے جا رہے ہیں جو خود کو ”کالی زبان“کے ماہر قرار دیتے ہوئے انتخابات 2013 ءکو خونی الیکشن قرار دینے کے دعوے کر رہے ہیں دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے اعلان دے مارا ہے کہ وہ انتخابات میں کسی حکومتی جماعت سے انتخابی اتحاد کریں گے نہ کسی کو انتخابی حصہ دار بنائیں گے۔ جس کا مطالبہ یہ ہوا کہ پاکستان تحریک انصاف سولو فلائٹ لینے کا ارادہ کر چکی ہے۔ شاہد ان کے قریب ان کا مستقبل پھر سولو فلائٹ سے ہی وابستہ ہے چونکہ انہوں نے حکومتی جماعتوں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن(ق) (ف) ایم کیو ایم، اے این پی وغیرہ کے ساتھ نہ ملنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کے بعد باقی بچتی ہے جماعت اسلامی اس سے بھی اتحاد کا امکان ففٹی ففٹی ہے اگر گزشتہ ہفتے کی سیاسی قلا بازیوں کا ذکر کیا جائے تو صدر مملکت نے ایک مرتبہ پھر مورچہ لاہور میں قائم کر لیا ہے اور وہ جنوبی پنجاب کے دوروں کا اعلان بھی کر چکے ہیں آئندہ دنوں میں تمام سیاسی جماعتوں کے پرندے بھی بہت بڑی تعداد میں ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر پرواز کرنے والے ہیں۔ جمعہ کے روز کی ایک اہم بات جو بار بار ناک کر رہی ہے،وہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا گرلفین شادی ہال میں خطاب جس میں انہوں نے ایک تقریر میں کئی انکشافات کر ڈالے پہلی مرتبہ عوامی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شیخ رشید نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ ان کی زبان کالی ہے اور اس وجہ سے ان کی زبان سے نکلی ہوئی آگ سچ مچ کی آگ بن جاتی ہے انہوں نے جمعہ کی شام مغلپورہ میں اپنے پہلے انتخابی جلسہ میں اپنی کالی زبان کا ایک مرتبہ پھر ذکر کیا اور اب کے بار ان کی کالی زبان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ 2013 کے انتخابات خونی الیکشن ثابت ہو سکتے ہیں، الیکشن کے دوران ملک کے اندر آگ اور خون کا کھیل شروع ہو سکتا ہے؟ انہوں نے عوامی مسلم لیگ پنجاب کے نامزد نئے نویلے صوبائی جنرل سیکرٹری خالد پرویز سندھو کی طرف سے ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں خود کو کالی زبان والا شیخ رشید کہنے والے ہی رہنما کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات ضرور ہونگے۔ ریلوے کے مزدوروں کے گڑھ حلقہ این اے 122 سے امیدوار ہونگے لیکن اگر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اس حلقے سے میدان میں اترے تو وہ این اے 120 یا کسی اور حلقے میں اپنا مورچہ لگا لیں گے۔ مگر قابل ذکر بات یہ ہے کہ آئندہ انتخابات جن سے ملک کے پاس اور روشن مستقبل سے خوب کیا جا رہا ہے ان انتخابات کو آخر کار شیخ رشید نے خونی انتخابات کیوں قرار دے دیا ہے۔ ان کا یہ بھی تبصرہ تھا کہ انہیں یہ الہام نہیں ہوا ہے انہیں یہ انفارمیشن ان سے انفارمیشن شیئر کرنے والے حلقوں نے کی ہے جن سے ان کی انفارمیشن شیئرنگ ہوتی ہے ان کے انکشاف کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کوئٹہ کے بعد کراچی میں بھی اہل تشیع کی امام بار گاہوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا ہے اگر یہ آگ ملک میں پھیل گئی تو شیخ رشیج کی کالی زبان واقعی کالی ثابت ہو جائے گی۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے حکومتی جماعتوں سے آئندہ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے حکومت میں پاکستان پیپلزپارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن)، فنکشنل لیگ، ایم کیو ایم، اے این پی، جے یو آئی ف شامل ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان تحریک انصاف مذکورہ جماعتوں سے مل کر الیکشن نہیں لڑے گی باقی بچتی ہیں دفاع پاکستان کونسل میں شامل مذہبی جماعت اور جماعت اسلامی کیا اب 2013ءکے لیے پاکستان تحریک انصاف اور مذہبی جماعتوں جے یو آئی ف کا اتحاد بننے جا رہا ہے اور اس کا قوی امکان ہے مگر معاملہ کلیئر تحریک انصاف کے جلسہ 23 مارچ کو مینار پاکستان میں ہو جائے گا دوسرا اس وقت تک دورہ ترکی پر موجود امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی وطن واپسی سے بھی اس اتحاد کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کچھ صاف ہو جائے گا۔ کہ جماعت اسلامی نے مسلم لیگ ن کی طرف جانا ہے یا پھر تحریک انصاف کی طرف چیئرمین عمران خان کی ”امامت“ میں انتخابات 2013ءکی صف بندی کرنی ہے اس ضمن میں بھی جماعت اسلامی میں دو رائے موجود ہیں لاہور لابی مسلم لیگ ن سے ایڈجسٹمنٹ چاہتی ہے جبکہ کراچی لابی تحریک انصاف کے ساتھ پرویز کرنے کی خواہش مند ہے۔ اگر جماعت اسلامی نے انکار کیا تو تحریک انصاف سولو فلائٹ کرے گی اور تن تنہا دیگر جماعتوں کے مقابلے میں میدان میں اترے گی۔ سیاسی اور دیگر حلقوں کے ”سیانوں“ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا مستقبل بھی سولو فلائیٹ سے ہی وابستہ ہے ایسی فلائیٹ کرے گی تو آئندہ نہیں تو اس سے آئندہ میں مستقبل تحریک انصاف کا ہو سکتا ہے۔

مزید : تجزیہ