جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی... آخری قسط

جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی ...
جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی... آخری قسط

  

وطن کی فکر کرنا داں

ایوان وقت کے زیر اہتمام، حمید نظامی میموریل ہال میں میرا خطاب ہوا جس میں مَیں نے کہا ’’تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کے معاشی، اقتصادی اور سیاسی طور پر کمزور کندھے چوتھی اور آخری مرتبہ کسی غیر منتخب حکمران کا بوجھ اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ 12 اکتوبر کے بعد سے آج تک کی صورتحال یہ ہے کہ سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 32 فیصد کم ہوگیا ہے۔ ڈالر کی قیمت 54 روپے سے بڑھ کر 64 روپے ہوگئی ہے۔ اس مہینے حکومت نے 15ملین ڈالر اوپن مارکیٹ میں بالواسطہ اور بلا واسطہ ڈالر کی قیمت کو سہارا دینے کے لئے فلوٹ کئے مگر پھر بھی حکومت کو کامیابی نہیں ہوئی۔ آج دنیا اکیسویں صدی کے جدید ترین دور میں داخل ہورہی ہے۔ دنیا کو دیکھا جائے تو اس کا نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ اب دنیا سمٹ کر گلوبل ویلیج بن گئی ہے۔ انسان تخلیق اور جدوجہد کے دور سے نکل کر سکون اور آسائش کے دور میں پہنچ گیا ہے۔ جب ان حالات میں اپنے ملک پر نظر پڑتی ہے تو مایوسی، مہنگائی، خوف و ہراس، بدامنی اور ناانصافی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قوم پر مہنگائی کا بوجھ ڈال کر اسے بے حس کرنے کا مرحلہ وار اور پروگرام ترتیب دے دیا گیا ہے۔ دبے ہوئے لوگوں کی آہیں اور سسکیوں کی آوازیں گلی کوچوں میں سنائی دے رہی ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ جب دبی ہوئی آوازیں چیخ و پکار بن جاتی ہیں تو یہ آنے والے انقلاب کی پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ میں نہیں سمجھتی کہ اب ملک کسی بھی قسم کی ناقص منصوبہ بندی کا متحمل ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان کی تاریخ کا یہ آخری اور چوتھا مارشل لاء ملک کو اس قدر کمزور کرگیا ہے کہ اس کے پاس کھونے یا گنوانے کو کچھ باقی نہیں رہا۔ بدقسمتی سے جو بھی آمر اس ملک پر آمریت قائم کرتا ہے وہ نہ صرف اس ملک کی جغرافیائی حدود پر کاری ضرب لگاتا ہے بلکہ اس ملک کی نظریاتی حدود کا بھی خون کرتا ہے۔

جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی... قسط نمبر 27پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

آج ملک کا منتخب وزیراعظم پابند سلاسل ضرور ہے مگر وہ جیل میں بیٹھ کر ان کی کرپشن کا جب بھی پردہ چاک کرتا ہے اور دلائل کے ساتھ ان کی کرپشن ثابت کرتا ہے تو حکومت تردید کی بجائے خاموشی اختیار کرلیتی ہے اور نواز شریف اور اس کے خاندان کی کردار کشی کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ جب کبھی مسلم لیگ کو توڑا گیا تو اس کے اثرات ملک پر بری طرح اثر انداز ہوئے بلکہ ملک دولخت بھی اسی وجہ سے ہوا۔ جب کسی قومی جماعت پر ضرب لگائی جاتی ہے تو اس سے قومی اتحاد پارہ پارہ ہوجاتا ہے۔ میں تاریخ کے حوالے سے یہ بتارہی ہوں کہ ہر آمر کے دور میں ملک کے کسی نہ کسی حصے پر دشمن ملک بھار ت نے قبضہ کیا۔ افسوس کہ آج ملک توڑنے والوں کا احتساب نہیں ہوا، نہ ہی کارگل میں وطن کے آٹھ سو جوانوں کو شہید کرنے والوں کو کسی عدالتی کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا۔ 12 اکتوبر کو عوام کی منتخب حکومت کو گرا کر روایتی طریقے سے ایک ریٹائرڈ جنرل نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی۔ آئین معطل کرکے وفاق کی علامت کو خطرے میں ڈال دیا۔ آئین کے ساتھ ملک سے جمہوریت کو بھی ختم کردیا گیا۔ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کا یہ عالم ہے کہ ملک کو عالمی سطح پر تنہا کردیا گیا ہے۔ جنرل اسمبلی میں بیرونی ممالک کے سربراہوں سے سر راہ ’’ہیلو ہائے‘‘ کو ہی اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھا گیا اور پھر وائٹ ہاؤس کے تردیدی بیانات نے ان کے احساس کمتری کا بھانڈا پھوڑدیا۔ وہ وقت قریب تھا جب ملک کا منتخب وزیراعظم محمد نواز شریف اپنے دشمن ملک بھارت سے دو ٹوک فیصلہ کرنے والا تھا جس سے آزاد کشمیر کی منزل بہت قریب آچکی تھی اور کشمیریوں کا لہو رنگ لانے والا تھا، مگر بدقسمتی سے یہود و ہنود کو یہ چیز پسند نہ آئی اور ایک گھناؤنی سازش کے نتیجہ میں آزادی کشمیر کے لئے جدوجہد کرنے کی پاداش میں نواز شریف کو پابند سلاسل کردیا۔ یہود وہنود کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے پہلے تو ملک کو معاشی طور پر تباہ و برباد کردیا گیا۔ اب بھارت کے سامنے بار بار جھک کر پاکستان کی بقا کو داؤ پر لگایا جارہا ہے۔ ملک کو چلانے کا حکومت کا انوکھا انداز دیکھیں کہ نیب کے بے لگام قانون نے ملک سے سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی میں حد مد کی ہے۔ سرمایہ کار ملک چھوڑ کر اپنے سرمائے کے ساتھ بیرون ملک ہجرت کررہے ہیں اور کسی بیرونی سرمایہ کار نے ملک میں سرمایہ لگانے کے لئے دلچسپی ظاہر نہیں کی بلکہ ایک سال میں بیرونی سرمایہ کاری 84 فیصد کم ہوئی۔ جمہوری حکومت کی طرف سے ہونے والا نجکاری کا عمل قطعی طور پر سست کردیا گیا جس سے خزانے کو 6بلین ڈالر کا نقصان ہوا اور جن 19 یونٹس کو جمہوری حکومت نے فروخت کرنا تھا وہ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث مٹی کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

نیب کے قانون کا بنیادی مقصد کرپشن کی روک تھام یا لوٹی گئی دولت کی وصولی نہیں بلکہ اس کی آڑ میں پاکستانی محب وطن سیاسی لوگوں کو سزائیں دلانا تھا۔ یہ حکومت تو 211 ارب کی ریکوری کے دعوے کررہی تھی مگر بندوق کی نوک پر صرف 11 ارب بھی وصول نہ کرسکی۔ اب میں پوچھتی ہوں کہ اس کے بعد آنے والی جمہوری حکومت ملک اور قوم کا ڈوبا ہوا پیسہ کیسے وصول کرے گی۔ نام نہاد احتساب کے ذریعے بھائی کو بھائی سے لڑانے والا نسخہ خاص کہیں مشرقی پاکستان جیسی سازش کا پیش خیمہ تو نہیں ہے۔ دشمن ملک ہمیں للکار رہا ہے مگر افسوس حکومت میں اسے جواب دینے کی سکت نہیں۔ ایک وہ وقت تھا جب ملک کے منتخب وزیراعظم نے ایٹمی دھماکے کرکے دشمن سے بات کی تو دشمن ملک کے وزیراعظم کو بس میں بیٹھ کر پاکستان آنا پڑا۔ آج ہمارے حکمران بے حد کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ ملک کے اندر 71ء والی مدہوشی کا عالم ہے۔ آٹا دن بدن مہنگا ہورہا ہے۔ منظور نظر لوگوں کو نوازنے کے لئے گندم اور آٹا حکومت کی زیر نگرانی سمگل کیا جارہا ہے۔ شمالی علاقہ جات میں آج بھی آتے کی شدید قلت ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری اپنی پاک فوج کو ناقص آٹے کی سلائی کی جارہی ہے۔ پاک فوج کے لئے ناقص آٹے کی سپلائی منظور نظر لوگوں کو ملوں سے ہورہی ہے۔ ہمارے دور حکومت میں اللہ کے فضل و کرم سے گنے کی ریکارڈ فصل سے ملک کی ضرورت سے زیادہ چینی بنا کر زرمبادلہ کمایا گیا مگر آج چینی کی خرید میں زرمبادلہ خرچ کیا جارہاہے۔ عوامی اور خود ساختہ حکومت کا فرق صاف ظاہر ہے۔ ملک میں غریب کو چینی 30 روپے فی کلو کے حساب سے مل رہی ہے۔ نہ جانے بیرون ملک چینی کے سودوں میں کس کس کے فارن اکاؤنٹس میں کمیشن جارہی ہے۔ کسان چاول کی تیار فصلوں کو کھیتوں میں جلانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ کپاس کی ریکارڈ فصل سے غریب کو نہ تو سستا کپڑا ملا اور نہ ہی زمیندار کو اس کا پورا حصہ مل سکا۔ غریب سے دو وقت کی روٹی چھینی جارہی ہے، کارخانے بند پڑے ہیں۔ مزدور بیروزگار ہوگیا ہے کرپشن کی آڑ میں چھوٹے ملازمین کو نشانہ بنا کر نوکریوں سے برطرف کیا جارہا ہے مگر بدنام زمانہ کرپٹ لوگ آج بھی پلاٹ اور مربعے الاٹ کرارہے ہیں۔ ڈیفنس میں فلیٹ اور بغیر ڈیوٹی کے گاڑیاں بیچنے اور خریدنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کی بنیادوں کو کمزور کرکے کس کے ایجنڈے پر کام کیا جارہا ہے؟ نہ جانے اسلام کے نام لیواؤں کی بنیاد پرست کہہ کر کس کو خوش کیا جارہا ہے؟ میں اس ایوان کے ذریعہ چودہ کروڑ عوام کو یہ بتارہی ہوں کہ مہنگائی کے طوفان نے ابھی اپنے ابتدائی مراحل طے کئے ہیں۔ بجلی، بجلی بن کر وٹوٹی، نہ جانے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اگلے چند مہینوں میں کہاں سے کہاں پہنچیں گی۔ لگتا ہے کہ مہنگائی کے اثرات چودہ کروڑ عوام پر قیامت صغریٰ بن کر ٹوٹیں گے۔ یہ اعزاز بھی جمہوری حکومت کو حاصل تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تمام تر دباؤ کے باوجود انہوں نے مہنگائی کو اپنے کنٹرول میں رکھا اور نواز شریف بہت جلد قوم کو آئی ایم ایف کے قرضوں سے چھٹکارا پانے کا سرپرائز دینے والے تھے۔ ملک کے کونے کونے سے مختلف ٹیکسوں کی صورت میں پیسہ اکٹھا کرکے نہ جانے یہ حکومت کس کی جھولی میں سود کی شکل میں ڈالی رہی ہے اور نہ جانے کب تک ڈالتی رہے گی؟

حکمرانو! یاد رکھو ملک کی خالق جماعت مسلم لیگ ہے جو اس ملک کی تخلیق سے لے کر اس کی سالمیت اور بقا کی ضامن ہے۔ یہ ملک برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد اور قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت کے نتیجہ میں وجود میں آیا۔ دو قومی نظریہ اس کی بنیاد ہے۔ قیام پاکستان کے مختصر عرصہ میں جمہوریت کے پودے کو آمروں نے اپنے پاؤں سے مسلنے کی سازش کی بلکہ اس سازش کا نشانہ مسلم لیگ بھی بنی۔ سقوط ڈھاکہ نے یہ ثابت کردیا کہ ملک کی سالمیت اور اس کی بقا صرف اور صرف حقیقی جمہوریت اور جمہوری عمل کے ساتھ منسلک ہے۔ پاکستان کی بقا مسلم لیگ سے وابستہ ہے۔ یہی جماعت پاکستان کی سالمیت کی محافظ ہے۔ میں یہاں واضح طور پر کہہ رہی ہوں کہ مسلم لیگ اور پاک فوج ایک ماں کے دو بیٹے ہیں۔ ایک نظریاتی سرحدوں کا نگہبان اور دوسرا جغرافیائی سرحدوں کا محافظ ہے۔ نواز شریف کی قیادت میں انشاء اللہ ملک حقیقی اسلامی جمہوریہ پاکستان بنے گا۔ اس میں شریعت کا نفاذ ہوگا اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر بنے گا پاکستان۔ حکمران بڑے بڑے ایوانوں سے نکل کر گلی کوچوں میں اپنے خلاف اٹھنے والی آواز اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبور و پریشان غریبوں کے دل سے نکلی ہوئی بددعاؤں کو سنیں۔ ظلم اور زیادتیاں ہماری حب الوطنی میں کمی نہیں لاسکتیں۔ ہمارا تو جینا مرنا پاکستان کے لئے ہے۔ آئیں ایک بار پھر تحریک پاکستان والا جذبہ اپنے دلوں میں زندہ کرکے ملکی استحکام اور سربلندی اسلام کے لئے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اپنے ملک کی سالمیت پر قربان ہوجائیں۔ اگر یہ وقت گزرگیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گی۔ اس وقت ہم ملک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت نہ ہوئے تو تاریخ میں کوئی دوسرا حمود الرحمن ہماری بوسیدہ ہڈیوں سے انتقام اور احتساب کی سفارش کرے گا۔ علامہ اقبال اسی کے متعلق کہہ گئے ہیں:

وطن کی فکر کرنا ناداں مصیبت آنے والی ہے

تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے مسلمانو!

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

موجودہ حکومت کو ایک سال ہونے کو آیا ہے۔ منتخب وزیراعظم محمد نواز شریف اور حسین نواز کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا گیا لیکن آج تک کوئی کرپشن ثابت نہیں کرسکے۔ سامنے لائے تو صرف ایک ہائی جیکنگ کا کیس اور اس کیس کے بارے میں عدالت میں ثابت ہورہا ہے کہ ہائی جیکر جسے کہا جارہا ہے وہ ہائی جیکر نہیں ہے۔ شبخون مارنے والوں کی نیت واضح ہوچکی ہے۔ نواز شریف پر ہر طرح کے ظلم توڑے گئے ہیں مگر آج وہ پہلے سے بھی زیادہ مضوط ہیں۔

آج جس انداز سے سوچتے ہیں شاید انہوں نے پہلے کبھی ایسے نہیں سوچا تھا۔ موجودہ حکومت نے قوم کو مہنگائی اور معاشی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ یہی نہیں ملک کی بقا اور سلامتی کو داؤ پر لگادیا ہے۔ موجودہ حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جہاد کشمیر کی سب سے بڑی تنظیم نے ہتھیار ڈال دئیے۔ نواز شریف نے آزادی کشمیر کے لئے جدوجہد کی تھی اسے ضائع کردیا گیا۔ مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ اس موقع پر ملک کی کسی سیاسی جماعت نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے ثابت ہوتا کہ پاکستان میں بڑی اور عوامی سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔ ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں سے امید کرتی ہوں کہ ملک و قوم پر چب بھی ایسا وقت آئے تو ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ پاکستان میں منظم سیاسی پارٹیاں موجود ہیں۔ نواز شریف سانحہ مشرقی پاکستان کا داغ کشمیر کی آبشاروں سے دھونے والے تھے مگر یہود و ہنود نے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا۔ آج 14 کروڑ عوام ہی نہیں، پورا عالم اسلام واقف ہوچکا تھا کہ موجودہ حکومت ملک و قوم کو کس طرف لے جارہی ہے مگر م یں حکمرانوں کو بتادینا چاہتی ہوں کہ اب پاکستان کی ترقی کی راہ میں وہ زیادہ دیر رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ مسلم لیگ نے پاکستان بنایا اور اس کی حفاظت کے لئے پاک فوج کو منظم کیا۔ آج پاکستان کو پاک فوج کی بے حد ضرورت ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت بھی ناگزیر ہے۔ نواز شریف ان کے بھائی شہباز شریف اور حسین نواز پر ایک سال میں کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔ مسلح افواج قومی سلامتی و دفاع کی ذمہ دار ہیں۔ ہم کبھی اس سے انتقام کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ فوجی حکومت نے ایک سال میں ملک کو بحرانوں سے دوچار کردیا ہے۔ عوام کو بے حال اور بین الاقوامی سطح پر ملک کو تنہا کردیا گیا ہے۔ عوام کے اندر بے چینی اور مایوسی جنم لے رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فوج فوری واپس چلی جائے اور پارلیمنٹ کو بحال کیا جائے۔ نواز شریف ایک محب وطن سیاستدان کے طور پر کبھی عوام کو فوج کے خلاف کھڑا نہیں ہونے دیں گے۔ بہت احتساب ہوچکا، راستہ ڈھونڈنے والی قوت کو ہم باعزت واپسی کا راستہ دینے کو تیار ہیں۔ ہم خوش ہیں کہ آزمائش پر پورا اترے۔ اب نواز شریف کو اپنے پانچ سال پورے کرنے کا موقع دیا جائے۔ میں وثوق سے کہتی ہوں کہ وہ نہ صرف قومی مسائل سمجھتے ہیں بلکہ انہیں حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ مسائل کا حل صرف اور صرف مسلم لیگ اور نواز شریف سے مشروط ہے اور یہی وزیراعظم قومی بقا و سلامتی کو یقینی بنانے اور مسائل کے حل کا فریضہ انجام دے گا۔ میں آخر میں چیف ایڈیٹر نوائے وقت مجید نظامی، عارف نظامی اور ادارہ نوائے وقت کی مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے یہاں گفتگو کرنے کا موقع عطا کیا۔ میں کوئی سیاستدان ہوں نہ مقرر۔ میں تو حالات کی وجہ سے یہاں آئی ہوں اور جونہی میرے ملک اور جمہوریت کے مصائب و آلام ختم ہوئے میں واپس اپنے گھر چلی جاؤں گی۔ میں تو آپ لوگوں کے ساتھ ملک بچانے کے جہاد میں شریک ہوں اور اس موقع پر میں مجید نظامی کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے ہر مشکل دور میں قلم کی طاقت سے جہاد کیا اور آج بھی وہ ایک جوان کی طرح اس میدان میں کھڑے ہیں۔ خدا انہیں سلامت رکھے تاکہ یہ قوم ان کی رہنمائی سے فیض یاب ہوسکے۔ (آمین)

میرے خطاب کے بعد سوال و جواب کی مختصر نشست منعقد ہوئی جس کی تفصیل یوں ہے:

سوال: اگر آپ کو سیاست میں رول ادا کرنا ہے، پھر آپ مسلم لیگ سے باقاعدہ مینڈیٹ کیوں نہیں لیتیں؟ مزید براں قوم نازک دور سے گزررہی ہے ملک کی بحالی کے لئے کوئی پروگرام دیجئے

جواب۔میں اس لئے مینڈیٹ نہیں لینا چاہتی کیونکہ میرا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اللہ یہ مشکل وقت جلد ٹال دے۔ میں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں۔ جس طرح نواز شریف کی حکومت لمحوں میں چلی گئی یہ بھی چلی جائے گی۔ پروگرام مجھے نہیں نواز شریف کو دینا ہے۔ اب نواز شریف ایک بدلے ہوئے انسان ہیں۔ اتنا مضبوط اور ملک کے لئے کچھ کرنے کا عزم رکھنے والا شخص میں نے پہلے نہیں دیکھا۔ وہ باہر آئیں گے تو قوم کو ضرور کوئی پروگرام دیں گے۔

سوال: بعض مسلم لیگی ارکان اسمبلی ناراض ہیں۔ آپ انہیں منانے کے لئے کیا کررہی ہیں؟

جواب۔مسلم لیگ کے جو لوگ ناراض ہیں ان سے پوچھئے کیوں ناراض ہیں، میں ناراض نہیں ہوں۔ مجھے امید ہے وہ پاکستان کی بقا کے لئے آج بھی قدم سے قدم ملا کر چلیں گے۔ اگر وہ آپ کو اپنی ناراضگی بتائیں تو مجھے بھی بتادیجئے گا۔

سوال: آپ کا باتھ روم ایک کروڑ روپے کا ہے جب کہ ہمارے پاس سونے کے لئے بستر نہیں، پھر آپ ہم غریبوں کے مسائل کیسے سمجھ سکتی ہیں، پہلے آپ اپنا محل فروخت کریں پھر مانوں گا آپ سچی ہیں؟

بیٹا! آپ نے وہ باتھ روم دیکھا ہے؟ جس کی مالیت ایک کروڑ روپے ہے۔ ہمارے گھر میں کہیں بھی سرکاری وسائل استعمال نہیں ہوئے۔ بینظیر کے دور میں زمین خریدی گئی۔ یہ زمین شریف میڈیکل سٹی ،لاء کالج، سکول، ٹیکنیکل کالج قائم کرنے کے لئے خریدی گئی ہے ۔

(ختم شد)

مزید : کتابیں /جبر اور جمہوریت