خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں
خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

  

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں

اُوپر سے اُتر کے تازہ دم تھا

نیچے سے اُتر کے تھک گیا ہوں

اب تم بھی تو جی کے تھک رہے ہو

اب میں بھی تو مر کے تھک گیا ہوں

میں یعنی ازل کا آرمیدہ

لمحوں میں بِکھر کے تھک گیا ہوں

اب جان کا میری جسم شَل ہے

میں خود سے ہی ڈر کے تھک گیا ہوں

شاعر: جون ایلیا

Khud Men Hi Guzar K Thak Gia Hun 

Main kaam Na Kar K thak Gia

Oopar Say Utar K Taaza Dam Tha

Neechay Utay K thak Gia

Ab Tum Bhi To Ji K Thak Rahay Ho

Ab Main Bhi To Mar K thak Gia

Main Yaani Azall Ka Aarmeeda

Lamhon Men Bikhar K Thak Gia Hun

Ab Jaan K a Meri Jism Shall Hay

Main Khud Say Dar K thak Gia

Poet: Jaun Elia

مزید :

شاعری -رومانوی شاعری -غمگین شاعری -