Daily Pakistan

کر لیا خود کو جو تنہا میں نے

تم سے جانم عاشقی کی جائے گی

کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

ہے عجب حال یہ زمانے کا​

جی نہیں لگ رہا کئی دن سے

عیشِ امید ہی سے خطرہ ہے

پِیا جی کی سواری جا رہی ہے

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے​

ذات اپنی گواہ کی جائے

دل سے اب رسم و راہ کی جائے

بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں​

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے

دل تمنا سے ڈر گیا جانم

 گِلے سے باز آیا جا رہا ہے 

دل سے ہے بہت گریز پا تو

یاد آئے گی اب تری کب تک

یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں

سر پر اک سچ مچ کی تلوار آئے تو

وہ جو تھا وہ کبھی ملا ہی نہیں

جب ہم کہیں نہ ہوں گے  تب شہر بھر میں ہوں گے

وہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھے

سب چلے جاؤ ,مجھ میں تاب نہیں

اب کسی سے مرا حساب نہیں

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے

ذِکر بھی اُس سے کیا بَھلا میرا

جُز گماں اور تھا ہی کیا میرا

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو

کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو

اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئے

تم سے بھی اب تو جا چُکا ہوں میں

تشنگی نے سراب ہی لکھا

زخمِ امید بھر گیا کب کا

خود سے رشتے رہے کہاں اُن کے

اپنی منزل کا راستہ بھیجو

اُس نے ہم کو گمان میں رکھا

مزیدخبریں