فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر583

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر583
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر583

  

’’دوپٹہ‘‘ پاکستانی فلم صنعت کے سمندر میں ایک بوند کی حیثیت رکھتی تھی۔ سبطین فضلی نے کم وسائل اور جدید سہولتوں کی عدم فراہمی کے باوجود ’’دوپٹہ‘‘ جیسی فلم بنا کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ ایک اچھی اور معیاری فلم بنانے کے لیے سرمائے سے زیادہ ذہانت اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ دوسرے لوگوں میں نہیں تھی۔

۱۹۵۵ء تک فیروز نظامی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ اس سال ان کی فلم ’’سوہنی‘‘ نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ ہدایت کار افضل جہانگیر کی فلم ’’شرارے‘‘ اور ہمایوں مرزا کی فلم ’’انتخاب‘‘ بھی اسی سال ریلیز ہوئی تھیں۔ ’’انتخاب‘‘ ہمایوں مرزا صاحب کی پہلی فلم تھی جو کراچی میں بنائی گئی تھی۔ اس فلم میں انہوں نے نیر سلطانہ کو متعارف کرایا تھا۔ ان فلموں نے زیادہ بزنس نہیں کیا۔ فیروز نظامی کی موسیقی بھی اوسط درجے کی تھی۔

۱۹۵۲ء فیروز نظامی کے لیے ایک بہتر سال تھا۔ اس سال ہدایت کار و مصنف نذیر اجمیری کی فلم ’’قسمت‘‘ نمائش کے لیے پیش کی گئی اور بہت کامیاب ثابت ہوئی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر582 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’قسمت ‘‘ میں سنتوش کمار اور مسرت نذیر نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ اسماعیل صاحب نے بھی ایک ناقابل فراموش بھول بھلکڑ کا کردار بہت خوب صورتی سے نبھایا تھا اس فلم کے چند گانے ملاحظہ کیجئے۔

۱۔ پیار بھرا دل توڑنے والے

پیار کا دستور(کوثر پروین، افضل حسین)

۲۔ واری میں جاؤں

صدقے میں جاؤں گڑیا رانی(زبیدہ کانم)

۳۔ ہوں میری قسمت میں آشیانے

تیرا شکریہ اے بدلتے زمانے (روشن آرا بیگم)

۴۔ نگاہ یار ہی سمجھے نگاہ یار کی باتیں(ملکہ پکھراج اور عطا محمد قوال)

۵۔ تڑپ رہا ہے پیار

گئی میں ہار (زبیدہ خانم)

۶۔ کسی سے جب نصیب کے ستارے روٹھ جاتے ہیں(سلیم رضا)

۷۔ سوجا میرے چاند ابھی سو جا (کوثر پروین)

’’قسمت‘‘ ایک معاشرتی کہانی تھی جس میں میاں بیوی کے ناروا جھگڑوں کا عبرت نام انجام خواب کے عالم میں دکھایا گیا تھا یہ فلم ’’طلاق‘‘ کے نام سے بمبئی میں بھی بنائی گئی اور بے حد کامیاب رہی۔

’’قسمت‘‘ کے بعد فلمی دنیا نے ایک بار پھر فیروز نظامی کو فراموش کر دیا۔

۱۹۵۹ء میں فیروز نظامی نے دو فلموں کی موسیقی مرتب کی جن میں سے ایک انور کمال پاشا کے شاگرد آغا حسینی کی فلم ’’سولہ آنے‘‘ تھی اور دوسری ہدایت کار مسعود کی فلم ’’راز‘‘۔

’’سولہ آنے‘‘ میں اعجاز، نیلو اور مسرت نذیر اہم کردار تھے۔ اس فلم کی موسیقی دلکش تھی خصوصا دو گانے بہت مقبول ہوئے تھے۔

۱۔ روتے ہیں چھم چھم نین

اجڑ گیا چین

دیکھ لیا تیرا پیار

۲۔ ہوگیا دل متوالا سجناں

ان کے علاوہ اس فلم کے یہ گانے بھی پسند کئے گئے تے۔

۱۔ میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھے (عنایت حسین بھٹی)

۲۔ مجھے ہوگیا ہے تم سے پیار(احمد رشدی ، ناہید نیازی)

راز ایک سسپنس اور جاسوسی فلم تھی جس کے ہدایت کار ہمایوں مرزا تھے۔ یہ فلم انہوں نے لاہور میں بنائی تھی جس کے بعد وہ مستقلا لاہور ہی میں رہائش پذیر ہوگئے تھے۔ اس فلم میں اعجاز ، شمیم آرا، مسرت نذیر اور علاؤ الدین اہم کردار تھے۔

یہ ایک کامیاب فلم تھی۔ اس کے یہ گانے مقبول ہوئے تھے۔

۱۔ قصہ غم سنائے جا

اے زندگی رلائے جا(مبارک بیگم)

۲۔ مان مان زمانہ ہے جوان(مبارک بیگم)

۳۔ میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا

جاے بلم تجھے دیکھ لیا(زبیدہ خانم)

۴۔ چل نہ سکے گی فورٹو لنٹی (۴۲۰) احمد رشدی

۵۔ چھلک رہی ہیں مستیاں

خوشی میں جھوم اٹھا جہاں(احمد رشدی،زبیدہ خانم)

قابل ذکر بات یہ ہے کہا ول الذکر دو گانے بارک بیگم کی آواز میں ریکارڈ کئے گئے تھے جو بھارت سے آئی ہوئی تھیں۔ یہ محض پاکستانی فلم سازوں کے احساس کمتری کا ایک نمونہ ہے کیونکہ پاکستانی گلوکاروں کے گائے ہوئے نغمات زیادہ مقبول ہوئے تھے۔

مسعود بھارت سے آئے تھے جہاں انہوں نے ’’دیور‘‘ جیسی ہٹ فلم میں بطور ہیرو کام کیا تھا۔ بہت شائستہ اور تعلیم یافتہ انسان تھے۔ ماڈل ٹاؤن میں رہا کرتے تھے اور ہم سے کافی میل جول بھی تھا۔ ۱۹۶۰ء میں انہوں نے فلم ساز و ہدایت کار کی حیثیت سے ایک فلم ’’زنجیر ‘‘ بنائی تھی جس میں راگنی اور مسعود مرکزی کردار تھے۔ ان کے صاحب زادوں نے بعد میں کراچی میں ایڈورٹائزنگ اور دستاویزی فلمیں بنا کر بہت کامیابیاں حاصل کیں۔

’’زنجیر‘‘ کے موسیقار فیروز نظامی تھے۔ ’’زنجیر‘‘ کامیاب نہ ہو سکی۔ اصولاً تو اس کی موسیقی کو بھی فلاپ ہو جانا چاہئے تھا مگر فیروز نظامی کی موسیقی نے اپنا جادو جگایا۔ اس فلم کے مندرجہ ذیل نغمات مقبول ہوئے تھے۔

۱۔ تھی وفا کی آرزو

تم بے وفا کیوں ہوگئے (سلیم رضا)

۲۔ حال دل ان کو سناتے ہوئے ڈر لگتا ہے(سلیم رضا)

۳۔ جس نے چرائی نیند ہماری

ہم اس کو پہچان گئے(سلیم رضا)

۴۔ دل ہمارا زلف کی زنجیر کے قابل نہ تھا(سلیم رضا)

فیروز نظامی کا میوزک فلم کی ناکامی کے باوجود بہت مقبول ہوا اور اس فلم کے نغمات آج بھی گونجتے ہیں۔

ہدیات کار مسعود پرویز کی فلم ’’منزل‘‘ کی موسیقی بھی فیروز نظامی کے سپرد کی گئی۔ یہ فلم زیادہ مقبول نہ ہو سکی مگر فیروز نظامی کے چند نغمات جو میڈم نور جہاں نے گائے تھے بہت پسند کیے گئے۔

۱۔ جگ میں کون ہمارا

کسے سناؤں کس نے دل لوٹ لیا(نور جہاں)

۲۔ تو ہی بتا دے چندا

چپکے سے دل میں کون آیا(نور جہاں)

۳۔ چھم چھم ناچے من مورا(نور جہاں)

۴۔ بیرن ہوگئی دنیا(نور جہاں)

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ فیروز نظامی اور میڈم نور جہاں کیا شتراک نے ہمیشہ بہت اچھے نغمات کو جم دیا۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر584 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ