ہم ڈرون مار گرائیں گے؟

ہم ڈرون مار گرائیں گے؟
ہم ڈرون مار گرائیں گے؟

  

آج کل زمانے کے انداز بدل رہے ہیں بلکہ بدلے جا چکے ہیں۔ نئے راگ اور راگنیاں ایجاد ہو رہی ہیں اور ساز بھی بدلے جا رہے ہیں۔ گزشتہ سات آٹھ برسوں میں آزاد میڈیا نے ناظرین کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے (آزاد میڈیا سے میری مراد مادر پدر آزاد میڈیا نہیں۔ میری مراد اس میڈیا سے ہے جو ہم جلیس ِ بستر (Embedded) نہیں ہے)۔ پاکستان کے وہ نوجوان جو پہلے بالغ الجسم ہوتے ہوئے بھی بالغ الذہن نہیں تھے، اب فکری اور ذہنی اعتبار سے بھی ہشیار بلکہ شوح و طرار ہو چکے ہیں۔.... ہم نے کبھی ایک انڈین فلم دیکھی تھی (شائد اُس کا نام ”البیلا“ تھا) جس میں لتا منگیشکر کی آواز میں ایک گیت تھا جسے شائد گیتا بالی پر پکچرائز کیا گیا تھا.... کیا خوبصورت دھن تھی اور کیا Suggestive بول تھے:

جیا مورا ڈولے، ہائے پیا پیا بولے

ہو نہ جاﺅں کہیں بدنام

اب کے برس بڑا جُلم ہوا

مورا بچپن گیا ہائے رام!

یہ کالم لکھتے ہوئے یہ فلم بھی یاد آئی اور یہ بھی یاد آیا کہ ہماری نوجوان نسل جو پہلے الیکشنوں میں صرف بالغ الجسم ہوتی تھی،اب بالغ الدماغ بھی ہو چکی ہے۔

”اب کے برس“ ظلم یہ ہوا ہے کہ عمران خان نے اس نوجوان نسل کے ہیروز اور ہیروئنوں کو لڑکپن سے نکال کر واقعی جوانی کی دہلیز پر لاکھڑا کیا ہے۔ امید ہے کہ ان انتخابات میں پرانے مداری اپنے اپنے ”بندر اور بکرے“ اپنے پیچھے لگا کر اپنے اپنے تکیوں میں سمٹ جائیںگے اور نئے مداری، نئے تماشے لے کر گاﺅں گاﺅں اور شہر شہر شوقِ آوارگی کی تکمیل میں مصروف ہو جائیں گے! یہ شوقِ آوارگی شائد عشق کی بجھی آگ کو پھر سے فروزاں کر دے اور کوئی دبی چنگاری سلگ اُٹھے۔.... خدا کے گھر میں دیر ہے، اندھیر نہیں۔

مَیں اپنے اس بڑھاپے میں اگر اپنے وطن کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ایسے میدانِ عمل میں کودتا دیکھ لوں کہ جس سے عروس وطن کی پریشان زلفیں سلجھ جائیں، تو چین سے ”انتقال“ فرما کر مضطرب روح کو قرار پاتا محسوس کر سکوں گا۔ اس تناظر میں مجھے عمران خان کی ذات میں بیمار پاکستان کے مستقبل کا مسیحا نظر آ رہا تھا، مگر کل (4مئی2013ئ) ان کے ایک پبلک بیان سے سخت کوفت کا سامنا ہوا۔

یہ بیان عمران خان نے کے پی(KP) کے ایک طوفانی دورے کے دوران دیا۔ (آج کل یہ طوفانی دروے ”بہ شکریہ ہیلی کاپٹرز“ بڑے عام اور بڑے آسان ہو چکے ہیں) انہوں نے ایک کثیر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا:” مجھے اقتدار ملا تو سب سے پہلا حکم اپنے ائر چیف کو یہ دوں گا کہ امریکہ اگر کسی ڈرون کو پاکستان کی فضاﺅں میں بھیجے تو پاک فضائیہ اسے فوراً مار گرائے....!

تری آواز مکے اور مدینے!

اگر پاک فضائیہ اس قابل ہو سکے کہ امریکن ائر فورس کے ڈرونوں کو مار گرا سکے تو اس سے بڑی خوشی، پاکستانی قوم، بلکہ اسلامی اُمہ کو اور کیا ہو گی؟....کاش ایسا ممکن ہو سکتا!.... لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔

ہمارے ایک سابق ائر چیف برملا یہ کہہ چکے ہیں کہ ”ڈرونوں کو گرانا ناممکن نہیں۔.... ہمیں اربابِ اقتدار حکم دیں گے تو ہم ایسا ضرور کریں گے۔ پاک فضائیہ ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اس فضائی معرکے کے بعد جو کچھ ہو گا، اس کی ذمہ داری ہماری فضائیہ پر نہیں ہو گی، پاکستان کی جمہوری حکومت پر ہو گی۔“

اس پس منظر میں اگر خان صاحب نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ ائر چیف کو ڈرون گرانے کا حکم دیں گے تو میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ ان کی غیر روائتی سیاسیات کی روشنی میں روایاتی سیاسیات کی تقلید کے پہلو کا اظہار ہے جو غلط ہے۔ خان صاحب کئی بار اعلان کر چکے ہیں کہ وہ جھوٹے دعوے نہیں کریں گے۔ اپنے پارٹی منشور میں بھی انہوں نے ”امریکہ مخالف حکمت عملی“ میں ڈرونوں کے گرانے کا کوئی تخصیصی(Specific) عندیہ نہیں دیا تھا۔ نجانے یکایک وہ چارسدہ، بونیر اور نوشہرہ میں جا کر جوش ِ خطابت میں ایسی ڈگمگاہٹ کا شکار کیوں ہو گئے۔ جہاں تک ان کے اس”نعرے“ کا تعلق ہے کہ ہم اقتدار میں آ کر افغانستان سے امریکہ کو باہر نکال دیں گے اور امریکہ کا اثرو رسوخ، پاکستانی سیاسیات اور دفاعی اداروں میں ختم کر دیں گے تو اس اعلان پر بھی بعض سنجیدہ فکر پاکستانیوں کے تحفظات ہیں۔

امریکہ تو پہلے ہی2014ءمیں افغانستان سے نکل جانے کا اعلان کر چکا ہے۔ ڈرون حملوں کا سارا انتظام اور کنٹرول بھی اب CIA سے لے کر پینٹاگون (وزارت ِ دفاع) کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ مجھے آپ ہزار غلط کہہ لیں لیکن1980ءکے افغان جہاد کے عشرے میں بھی سوویت یونین کا افغانستان سے نکل جانا اس کی اپنی مرضی سے تھا۔ سپر پاورز کی اپنی سٹرٹیجی ہوتی ہے جس کو ہم تیسری دُنیا کے ”شیخی باز“ بالکل نہیں سمجھ سکتے۔ اب2014ءمیں امریکہ کا افغانستان سے چلے جانا بھی اس کی گلوبل سٹرٹیجی کا حصہ ہے جس سے ہمارے چاہنے یا نہ چاہنے کا کوئی تعلق نہیں.... امریکی نقطہ ¿ نگاہ سے دیکھیں تو امریکہ (اور ناٹو ) نے اپنے بیشتر سٹرٹیجک اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ مثلاً:

اُسامہ بن لادن مارا جا چکا ہے،.... افغانستان ایک بار پھر21ویں صدی سے نکل کر18ویں اور 19ویں صدی میں چلا گیا ہے.... عراق کی اسلامی تہذیب و ثقافت، معاشی خوشحالی اور عسکری قوت پارہ پارہ ہو چکی ہے.... لیبیا بے دست و پا بنایا جا چکا ہے.... عراق اور لیبیا کے تیل کے ذخائر کاملا اہل مغرب کے ہاتھ میں آ چکے ہیں.... شام کی شکست و ریخت جاری ہے اور اس کی مسلح افواج کا ریجنل دم خم بھی دم توڑنے کے قریب آ پہنچا ہے.... پاکستان جو پہلی اسلامی ایٹمی قوت تھا، اس کے سواد اعظم میں پاک فوج کہ جو اس جوہری قوت کی اصل معمار تھی، اس کے امیج کو داغدار بنایا جا چکا ہے.... آمریت کے خاتمے کے نام پر اور جمہوریت کو فروغ دینے کی آڑ میں بدترین جمہوری آمریت کا پانچ سالہ دور جو اگرچہ گزر چکا ہے اور جمہور نانِ جویں کو ترس رہے ہیں لیکن آج ایک بار پھر اسی جمہوریت کی باز آفرینی کی رٹ لگائی جا رہی ہے۔ ....ایران کو نیو کلیئرائز کرنے کی گاڑی کو بریک لگائی جا چکی ہے .... اور پاکستان نے گوادر میں چین کو لا کر اہل ِ مغرب کے لئے جو خطرے کی گھنٹیاں بجانے کا آغاز کر دیا تھا تو اس کا توڑ کرنے کے لئے امریکہ نے اپنے نئے اتحادی بھارت کو شہ دے کر گوادر کے ہمسائے میں ایران کی چاہ بہار کی بندرگاہ کو ایک طاقتور بحری مستقر (Base) میں تبدیل کرنے کا ڈول ڈال دیا ہے۔ ابھی دو روز پہلے بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید تہران کے دورے پر تشریف لے گئے تھے اور ایرانی حکومت کو کئی کروڑ ڈالروں کی پیشکش کی ہے کہ ہم اپنے سرمائے اور اپنے علم و ہنر (ٹیکنالوجی) سے آپ کا نیا بحری مستقر (چاہ بہار) ڈویلپ کر کے آپ کے حوالے کر دیں گے تاکہ گوادر میں چین کو روکا جا سکے (اور امریکی ایجنڈے/اہداف) کی تکمیل ممکن بنائی جا سکے۔....

 آپ خود فیصلہ کر لیں کہ کیا امریکہ کے لئے ان سارے اہداف کی کامیاب تکمیل کے بعد بھی افغانستان میں ٹھہرنے کا کوئی جواز باقی ہے؟.... قارئین محترم! امریکہ نہ کسی کے کہنے پر افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا اور نہ اب کسی کے ڈر سے افغانستان خالی کر رہا ہے۔ وہ ایک ایسی عسکری قوت ہے جو نہ اپنی آمد سے کسی کو ناراض کرتی ہے اور نہ اپنی رفت سے کسی کو خوش کرتی ہے۔.... اگر کل کلاں عمران خان صاحب یہ کہیں کہ دیکھا! امریکہ ہمارے ڈر سے افغانستان چھوڑ گیا ہے تو یہ دعویٰ ویسا ہی دعویٰ ہو گا جو1988ءمیں سوویت یونین کی واپسی پر بعض افغان وار لارڈز نے کیا تھا کہ دیکھا ہم نے دُنیا کی ایک سپرپاور کو اپنے ملک سے بھگا دیا ہے.... کہنے کو تو بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے افغانوں نے برطانیہ کو اپنے دشت جبل سے نکالا، پھر روسیوں کو اور اب امریکیوں کو نکال باہر کیا ہے۔.... لیکن آج آپ برطانیہ، روس اور امریکہ کو دیکھیں اور پھر افغانستان کو بھی دیکھیں۔ کیا کوئی مقابلہ ہے اول الذکر تین ”شکست خوردہ“ قوتوں کا موخر الذکر ”فاتح“ قوت سے؟....

پاکستان تحریک انصاف میں آج کئی بڑے ہیوی ویٹ نام شامل ہیں۔ ان میں وزرائے خارجہ ہیں، سٹرٹیجک سٹڈیز کی ماہر خواتین ہیں، ریٹائرڈ بیورو کریٹس ہیں جو ایسے ایسے عہدوں پر کام کر چکے ہیں جن میں بین الاقوامی حکومتی اداروں سے انٹرایکشن ایک اداراتی ضرورت ہوتی ہے، شعلہ نوا مقرر ہیں، نام آور” جدی پشتی“ سیاست دان ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جو مختلف موسموںکے سرد و گرم جشیدہ ہیں۔ عمران خان صاحب اپنے ان مصاحبین کرام سے ضرور مشورہ لیتے ہوں گے۔ مجھے حیرانی ہے کہ ان اصحاب میں سے کسی ایک نے بھی خان صاحب کو بریف نہیں کیا کہ وہ اُس وادی میں نہ اُتریں جس کا تجربہ انہوں نے ہنوز نہیں کیا۔ وہ بین الاقوامی سیاسیات کو خوب سمجھتے ہوں گے لیکن ان کو اس حقیقت ِ ثابتہ کا ادراک بھی کرنا چاہئے کہ ملک کے 18کروڑ عوام کے ابنوہ میں کتنے لوگ ہیں جو کارِ جہاں بینی کا ادراک رکھتے ہیں؟.... کتنے لوگ ہیں جن کو ملک کی خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی کے کنٹورز (Contours) کا پتہ ہے کہ وہ کہاں جا کر ایک دوسرے کے بالکل قریب ہو جاتے ہیں اور کہاں ان میں زیادہ دوریاں ہوتی ہیںاور سلسلہ ¿ کوہستانِ پاکستان کی شرح ِ ڈھلان (Gradient) کیا ہے اور پاکستان کو ریورس سلوپ پر نظر ڈالنے کی کتنی آسانیاں فراہم ہیں۔

عمران خان صاحب نے نوجوان نسل کو پارٹی کی 35فیصد قیادت تو سونپ دی ہے۔ انہوں نے یہ بڑی خوش آئند بات کی ہے۔ یہی لوگ ہمارا مستقبل ہیں لیکن ان نوجوان مردوں اور خواتین کو حضرت اقبال کے اس شعر کی تشریح ضرور سمجھائیں:

رائے بے قوت ہمہ مکر و فسوں

قوتِ بے رائے جہل است و جنوں

(جس رائے کی پشت پر قوت نہ ہو وہ محض مکر و فریب ہوتی ہے اور جس قوت کے پیچھے اصابت ِ فکرو نظر نہ ہو وہ جہالت اور پاگل پن ہوتی ہے!)      ٭

مزید : کالم