آٹزم ریسورس سینٹر کے زیر اہتمام پنجاب یونیورسٹی میں آگاہی مہم

آٹزم ریسورس سینٹر کے زیر اہتمام پنجاب یونیورسٹی میں آگاہی مہم
آٹزم ریسورس سینٹر کے زیر اہتمام پنجاب یونیورسٹی میں آگاہی مہم

  

لاہور ( نیوز ڈیسک ) آٹزم ریسورس سینٹر کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی میں خصوصی آگاہی مہم کا انعقاد کیا گیا جس میں ”آٹزم “کے حوالے سے واک کا اہتمام بھی کیا گیا۔اس موقع پر آٹزم ریسورس سینٹر کی جانب سے طلباءاور اساتذہ میں آٹزم سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے اور پنجاب یونیورسٹی آنے والوں کو اس بیماری سے متعلق آگاہ کر کے ان کے نقطہ نظر کو بھی نوٹ کیا۔اس موقع پر روزنامہ پاکستان سے بات کرتے ہوئے آٹزم ریسورس سینٹر لاہور کی ڈائریکٹر راضیہ حسین کا کہنا تھا کہ آٹزم ایک ذہنی بیماری ہے جو عموماً 18 ماہ سے 3 سال تک کے بچوں میں پائی جاتی ہے جس سے بچے کی بول چال ،سماجی تعلقات اور ذہانت جیسے عوامل متاثر ہوتے ہیں ۔جبکہ خطرناک بات یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ساڑھے 3 لاکھ بچے اس موذی مرض کا شکار ہیں۔

ذیابیطس جیسی بیماری سے محفوظ رہنے کیلئے ماہرین نے آسان ترین نسخہ بتا دیا

انہوں نے مزید بتایا کہ اس بیماری کی علامات میں بڑی علامات یہ ہیں کہ بچہ عام بچوں سے گھل مل نہیں پاتا اور نہ ہی کسی تبدیلی کو برداشت کر پاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اکیلا اور اپنی دنیا مین مگن رہنے والا بچہ آٹزم کا شکار ہو سکتا ہے اس لیے والدین کو چاہیئے کہ ان علامات کو دیکھتے ہی وہ نفسیات کے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔آٹزم ریسورس سینٹر لاہور کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کا سینٹر اس مرض میں مبتلا بچوں کے علاج کے لیے مخصوص ہے اور انہیں یہاں خصوصی علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔آٹزم ریسورس سینٹر کے حوالے سے ڈائریکٹر راضیہ حسین کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے میں آٹزم کا شکار مستحق بچوں کا علاج مفت بھی کیا جاتا ہے اور ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ پاکستان سے اس موذی مرض کو ختم کر سکیں۔

مزید : تعلیم و صحت