فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر600

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر600
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر600

  



منروا مووی ٹون کی دوسری فلمیں بھی کامیاب ہوئی تھیں مگر ’’پکار‘‘ نے تو ایک آفت مچا دی تھی۔ یہ اس دور کی سب سے مہنگی فلم تھی جس پر تین لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔ جب کامیابی حاصل ہوئی تو کروڑوں کمائے۔سہراب مودی کو ’’پکار‘‘ کے تجربے سے یہ خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ ایک عدد تاریخی فلمی بنائی جائے۔ چنانچہ فلم ’’سکندر‘‘ کا آغاز کیا گیا۔

’’سکندر‘‘ کے بارے میں بھی ہم، پہلے بیان کر چکے ہیں پہلے ’’سکندر‘‘ کے مرکزی کردار کے لیے اداکارہ جنیت کا انتخاب کیا گیا تھا جو مسلمان تھے۔ امجد خاں انہی کے بیٹے تھے۔ سہراب مودی کے اسٹوڈیو میں سگریٹ پینے کی ممانعت تھی مگر جنیت نے یہ شرط نہ مانی تو انہیں تبدیل کر دیا گیا اور پرتھوی راج نے یہ کردار ادا کیا۔ قسمت بھی مہربان تھی۔ پرتھوی راج انگوٹھی میں نگینے کی طرح اس کردار میں فٹ ہوگئے تھے۔

’’سکندر‘‘ پر سہراب مودی نے دل کھول کر پیسہ خرچ کیا۔ فوج کے سپاہی حاصل کئے گئے۔ سارے ملک سے ہاتھی منگوائے گئے۔ جنگ کے مناظر میں ہزاروں افراد نے حصہ لیا۔ یہ فلم بہت بڑے پیمانے پر بنائی گئی تھی۔ اس فلم سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں۔ یہ کامیاب تو ہوئی مگر ’’پکار‘‘ جیسی کامیابی اور مقبولیت حاصل نہیں کر سکی پھر بھی اسے ایک عظیم فلم قرار دیا گیا اور سہراب مودی نے اس فلم سے بھی خوب پیسہ کمایا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر599 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

انہوں نے ’’سکندر‘‘ کے بعد ’’پرتھو ولبھ‘‘ اور پھر ’’پھر ملیں گے‘‘ بنائی۔ اس دوران میں لقمان صاحب کو سید شوکت حسین رضوی نے اپنے ساتھ کام کرنے کی دعوت دی وہ سہراب مودی کی اجازت لینے گئے تو انہوں نے بخوشی اجازت دے دی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میری کمپنی کے لیے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔اس زمانے کا ایک حیرت انگیز واقعہ لقمان صاحب نے سنایا تھا جو خود ان کی زبانی سنیے۔ 

’’اسکرپٹ کا کچھ کام باقی تھا ہم نے رات دیر تک کام کرنے کا ارادہ کیا۔ نو بجے کے قریب سہراب مودی صاحب ہمارے پاس آگے۔

پوچھا ۔ کیا کر رہے ہو؟

ہم نے بتایا کہ اسکرپٹ مکمل کرنا ہے تاکہ کل آپ کے سپرد کرکے رخصت لے سکوں۔ یہ آخری خدمت ہے۔

وہ بولے۔ اسے آپ بند کر دیں اور میرے ساتھ چلیں۔

سہراب مودی عموماً شام کو ساڑھے پانچ بجے اسٹوڈیو سے گھر چلے جاتے تھے اور پھر کھانا کھا کر گیارہ بجے رات کو لوٹتے تھے۔

ہم نے پوچھا’’صاحب۔آج آپ اس وقت اسٹوڈیو میں؟‘‘

کہنے لگے ’’بابا حاجی علی چلنا ہے۔‘‘

ہم اٹھے اور گاڑی میں ان کے ساتھ سوار ہوگئے۔ ہمارا اسٹوڈیو مشرقی ساحل پر تھا اور بابا حاجی علی کی درگاہ مغربی ساحل پر تھی۔ زیارت کے لیے سمندر کے بہت اندر جانا پڑتا تھا۔ باہر سڑک پر چھوٹے راستے کے قریب ایک مسجد تھی۔ جہاں لوگ نماز ادا کرتے تھے۔ مسجد میں ہر وقت کلام پاک کی تلاوت ہوا کرتی تھی جس سے ہمیشہ ایک نور سا رہتا تھا۔

مسجد میں پہنچ کر سہراب مودی ہم سے بولے’’وضو کرو۔‘‘

ہم وضو کرنے لگے اور وہ ہمیں دیکھتے رہے پھر خود بیٹھے اور وضو کرنے لگے۔

ہم نے کہا’’’صاحب جی۔ وضو میں تو کلمہ پڑھا جاتا ہے۔‘‘

انہوں نے نظریں اٹھا کر ہماری طرف دیکھا اور کلمہ پڑھا پھر بولے’’آپ کیا سمجھتے ہیں؟‘‘

وضو کے بعد اٹھے اور جوتا ہاتھ میں پکڑ کر پتھروں پر چلتے ہوئے اندر گئے۔

وہاں ہم سے کہا’’فاتحہ پڑھیے۔‘‘

ہم نے بلند آواز میں فاتحہ پڑھنی شروع کی۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ رہے تھے۔د عا کے بعد باہر آئے اور ہم سے کہا’’کسی سے بولنا نہیں۔‘‘

اپنی عبادات کے سلسلے میں انہیں ہم نے صرف یہ کرتے دیکھا کہ جب وہ آتے تو کمرے میں لگی ہوئی زرتشت کی تصویر پر ہار ڈالتے تھے۔‘‘

لقمان صاحب نے سہراب مودی کے اسٹوڈیو میں ایک پینٹر اور سیٹنگ بوائے کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا تھا۔ بعد میں اہل زبان ہونے کی وجہ سے وہ اداکاروں کی زبان درست کرنے کے فرض پر بھی مامور کر دیئے گئے۔ا سسٹنٹ کی حیثیت سے انہوں نے کلیپ بوائے کے طور پر کام کا آغاز کیا تھا۔ اپنی محنت، ذہانت اور لگن کے باعث وہ بہت جلد سہراب مودی کے قابل اعتماد کارکنوں میں شامل کر لیے گئے۔ فلموں کی پبلسٹی لے کر انہیں بمبئی سے دہلی بھیجا جاتا تھا۔ بعض اوقات بڑی بڑی نقد رقوم بھی ان کے ذریعے بمبئی اور دہلی کے لیے بھیج دی جاتی تھیں۔

لقمان صاحب نے سہراب مودی کے بارے میں ذاتی تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں جو تصویر پیش کی ہے وہ ایک سادہ،محنتی، فیاض اور نیک دل انسان کی ہے۔ وہ اپنے کارکنوں پر ہمیشہ مہربان رہتے تھے۔ ان کی ضرورت اور مشکل کے وقت ان کے کام آتے تھے۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنے میں بھی بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔ جب لقمان صاحب نے شوکت صاحب سے وابستہ ہونے کے لیے ان سے اجازت طلب کی تو انہوں نے کسی پس و پیش کے بغیر اجازت دے دی بلکہ ان کو روشن مستقبل بنانے کے لیے دعا بھی دی۔

شوکت حسیں رضوی کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے بعد لقمان صاحب کو بمبئی میں ایک فلم کی ہدایت کاری کرنے کی پیشکش کی گئی۔ انہوں نے شوکت صاحب سے تذکرہ کیا تو انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور کار آمد مشورے بھی دیے۔

بمبئی میں جمعے کے مبارک دن لقمان صاحب نے عزیز غفور قاضی صاحب کے ادارے کے ساتھ فلم کی ہدایت کاری کا معاہدہ کیا تھا۔ قاضی صاحب کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ بمبئی مسلم لیگ کے خزانچی تھے۔ جس وقت یہ معاہدہ سائن کیا گیا اس وقت آئی آئی چندریگر بھی وہاں موجود تھے جو قیام پاکستان کے بعد کابینہ میں شامل کیے گئے اور ان کے نام سے منسوب آئی آئی چندریگر روڈ کراچی کی ایک اہم شاہراہ ہے۔

لقمان صاحب خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اور اپنی اس خوشی میں اپنے استادوں اور مہربانوں کو بھی شامل کرنا چاہتے تھے۔ معاہدے کی نقل لے کر وہ سیدھے مٹھائی کی دکان پر پہنچے۔ وہاں سے پیڑوں کا ایک ڈبا سہراب مودی صاحب کے لیے پیک کرایا۔ (سہراب مودی پیڑے بہت شوق سے کھاتے تھے) ایک دوسرے ڈبے میں سید شوکت حسین رضوی کے لیے مٹھائی بندھوائی اور سب سے پہلے سہراب مودی صاحب کی تلاش میں ویسٹرن سینما پہنچ گئے ۔ اس روز مودی صاحب کی فلم ’’ایک دن کا سلطان‘‘ نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی اور وہ فلم کا شو دیکھنے کے لیے سینما ہال میں موجود تھے۔

لقمان صاحب بے چینی سے فلم کے انٹرول کا انتظار کرنے لگے۔ انٹرول کے بعد جب سہراب مودی صاحب اپنے دفتر میں آئے تو لقمان صاحب نے سلام کرکے مٹھائی کا ڈبا پیش کر دیا۔

انہوں نے پوچھا’’یہ مٹھائی کس بات کی ہے؟‘‘

انہوں نے بتایا کہ مجھے ہدایت کاری کے لیے ایک فلم ملی ہے۔ معاہدہ سائن کرتے ہی آپ کے پاس آیا ہوں۔‘‘

سہراب مودی بہت خوش ہوئے اور کہا کہ فلم کا شو ختم ہونے تک ٹھہرو۔

شو ختم ہوا تو سہراب مودی دوبارہ اپنے دفترمیں تشریف لائے۔ مٹھائی کا ڈبا اپنے ہاتھوں سے کھولا۔ معاہدے کی کاپی سامنے ہی موجود تھی۔ سہراب مودی صاحب نے فوراً تمام عملے کو اکٹھا کرکے ان کو مطلع کیا اور مٹھائی ان میں تقسیم کرنے سے پہلے ایک پیڑا خود اپنے ہاتھ سے لقمان صاحب کے منہ میں ڈالا۔ دوسرا خود اپنے منہ میں ڈالا اور پھر لقمان صاحب کو مبارک باد اور مشورے دیے۔ ’’شاباش۔ دیکھو بہت محنت سے فلم بنانا۔ یہ تمہاری پہلی فلم ہے۔‘‘

یہاں سے لقمان صاحب، سید شوکت حسین رضوی کے پاس گئے۔ مٹھائی پیش کی اور صورت حال بتائی۔ وہ حسب معمول بہت خوش ہوئے۔ لقمان صاحب کو اپنے مخصوص اندازمیں مشورے دیے اور کہا کہ دیکھو۔ عقل اور ہوش سے کام کرنا۔ دونوں استادوں نے بہت کھلے دل سے خوشی کا اظہار کیا اور دل سے مبارکباد بھی دی۔ اللہ اللہ کیسے عالی ظرف لوگ تھے۔

(جاری ہے )

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ