فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر599

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر599
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر599

  



سہراب مودی کے بارے میں ہن بتا چکے ہیں کہ وہ اردو پڑھنے اور لکھنے سے قاصر تھے لیکن اردو کا لب و لہجہ اور تلفظ بہت اچھا تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں کہانی اور موضوع کے بارے میں عبور حاصل تھا۔ غضب کے ہدایت کار اور اداکار بھی تھے۔ اسی لیے اردو سے نابلند ہونے کے باوجود انہوں نے لازوال اردو فلمیں بنا کر بھارت کی فلمی تاریخ میں ایک بلند مقام حاصل کر لیا۔ چلتے چلتے یہ بھی بتا دیں کہ اردو فلموں کے عظیم ترین ہدایت کار محبوب بھی اردو سے واقف نہ تھے۔ نہ پڑھ سکتے تھے نہ لکھ سکتے تھے۔ ان کے ساتھ تو یہ المیہ تھا کہ وہ گفتگو بھی مرہٹی اور مارواڑی انداز میں کرتے تھے تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی لیکن بے پناہ ذہانت اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔ کہانی اور ہدایت کاری کے شعبوں پر ان کی گرفت انتہائی مضبوط تھی۔ مضبوط قوت فیصلہ اور قوت ارادی کے بھی مالک تھے۔ ذرا غور کیجئے تو یقین نہیں آتا کہ ایک گاؤں کا رہنے والا یہ ان پڑھ شخص جو پندرہ سولہ برس کی عمر میں فلموں کے شوق میں گاؤں سے بھاگ کر بمبئی پہنچ گیا تھا۔ فلم کی دنیا میں ایک یادگار تاریخی حیثیت کا مالک بن گیا تھا جس کی عظمت کا اعتراف بالی ووڈ کے نامور فلم ساز اور ہدایت کار بھی کرتے تھے۔یہ سب قدرتی صلاحیتوں اور تقدیر کے معاملات ہیں۔ انسان کا ان میں مطلق دخل نہیں ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر598 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

منروا مودی ٹون کے قیام کے بعد سہراب مودی نے ’’خاندان‘‘ کے نام سے ایک مسلم سوشل فلم کا آغاز کیا اور جب یہ فلم نمائش کے لیے پیش ہوئی تو سارے برصغیر میں کہرام مچ گیا۔ کمپنی کی پہلی فلم ہی سپرہٹ ثابت ہوئی تھی۔ اس فلم نے منروا مووی ٹون اور سہراب مودی کو صف اول کے فلم سازوں اور ہدایت کاروں میں لا کھڑا کر دیا تھا۔

اسی زمانے میں کمال امروہوی صاحب جو یو پی کے قصبے امروہہ کے رہنے والے تھے لیکن لاہور آکر ایک لانڈری کی دکان چاتے تھے فلم کے شوق میں ایک سفارش لے کر بمبئی پہنچ گئے۔ کمال امروہوی کی کہانی بھی سہراب مودی اور محبوب صاحب سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ ان کی با ضابطہ تعلیم تو واجبی تھی لیکن مطالعہ بہت زیادہ تھا۔ قدرت نے تخلیقی ذہن سے نوازا تھا۔ کہانی نویسی، مکالمہ نگاری اور شاعری تینوں اصناف میں انہوں نے سارے ہندوستان سے اپنا لوہا منوا لیا تھا۔ بعد میں ہدایت کار بھی بن گئے اور محل، دائرہ اور پاکیزہ جیسی یادگار فلمیں تخلیق کیں۔

کمال امروہوی صاحب لاہور سے اپنی ایک کہانی کے کاغذات کا پلندہ بغل میں داب کر بمبئی پہنچے ۔ کئی جگہ قسمت آزمائی کی لیکن ایک غریب نوجوان کو دیکھ کر ہی لوگ توجہ پھیر لیا کرتے تھے۔ ایک سارش کے ذریعے وہ سہراب مودی صاحب تک پہنچ گئے۔

مودی صاحب اپنے سامنے ایک سادہ سے قمیص پاجامے اور شیروانی میں مبلوس نوجوان کو دیکھ کر قدرے حیران ہوئے مگر کمال امروہوی کی خود اعتمادی نے انہیں متاثر کیا۔ انہیں احساس تک نہ تھا کہ یہ نوجوان فلمی مصنف بھی بن سکتا ہے مگر جب کمال امروہوی نے انہیں اپنی کہانی سنائی تو سہراب مودی کرسی پر سنبھل کر بیٹھ گئے۔ کمال صاحب نے اس کہانی کا نام ’’مسافر‘‘ رکھا تھا مگر سہراب مودی نے اسے ’’جیلر‘‘ کے نام سے بنایا۔ سہراب مودی کی انسان شناسی کی داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے ایک نووارد، مفلوک الحال اجنبی نوجوان کی کہانی بنانے کا فیصلہ کیا اور کمال امروہوی اس لیے داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے جو پہلا فلمی اسکرپٹ لکھا تھا وہ ’’جیلر‘‘ کے نام سے جب فلم کی صورت میں سامنے آیا تو سارے ملک میں دھوم مچ گئی۔ سہراب مودی نے کمال صاحب کو ڈیڑھ سو روپے ماہوار پر کمپنی میں مصنف کی حیثیت سے ملازم رکھ لیا جو کہ اس زمانے میں بہت بڑی تنخواہ تھی۔

’’جیلر‘‘ سپرہٹ فلم ثابت ہوئی۔ ہر طرف سے داد و تحسین اور نوٹوں کی بارش ہونے لگی’’جیلر‘‘ نے سہراب مودی کو فلم ساز و ہدایت کار کی حیثیت سے اور کمال امروہوی کو کہانی نویس اور مکالمہ نگار کی حیثیت سے ملک گیر شہرت دے دی تھی۔ سہراب مودی کی دونوں فلمیں اوپر تلے سپرہٹ ہوئی تھیں۔ وہ ایک نیک دل، خدا ترس اور فیاض انسان تھے۔ تمام اسٹاف کو تین ماہ کا بونس اور انعامات دیے گئے۔ اب سہراب مودی اور منروا مووی ٹون بہت بڑا معتبر فلی نام بن چکے تھے۔ بمبئی میں انہوں نے منروا ٹاکیز بھی خرید لیا تھا۔

سہراب مودی نے ان کامیابیوں کے بعد بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کی اور تین فلموں کا آغاز کیا۔ ایک فلم ’’میں ہاری‘‘ کے ہدایت کار جاگیردار تھے۔ انہوں نے اپنے لیے ’’پکار‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس فلم کی تیاری اور تحقیق پر بہت زیادہ توجہ دی گئی۔ دہلی، مراد آباد، آکر ملک کے دوسرے عجائب گھروں سے مدد لی گئی تاکہ فلم میں حقیقت کا رنگ پیدا ہو سکے۔ دنیا کے بہترین برتن، ملبوسات کے نمونے اور دیگر آرائشی اشیاء منگائی گئیں۔ چندر موہن کو شہنشاہ جہانگیر اور نسیم بانو کو نور جہاں کے مرکزی کرداروں میں پیش کیا گیا۔ اس فلم کی داستان پہلے سنائی جا چکی ہے۔ یہ ایک تاریخ ساز اور ریکارڈ ساز فلم ثابت ہوئی۔ ’’پکار‘‘ نے سارے ملک میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے تھے۔ اس فلم کی کامیابی پر کارکنوں کو چھ ماہ کا بونس دیا گیا تھا۔ سہراب مودی صرف گجراتی زبان جانتے تھے۔ لقمان صاحب دوبارہ ان سے منسلک ہو چکے تھے۔ انہیں معاون ہدات کار کے ساتھ ساتھ گجراتی اسکرپٹ کو اردو میں ترجمہ کرکے پیش کرنے کی ذمے داری بھی سونپ دی گئی۔

لقمان صاحب سہراب مودی کے بہت معتقد اور متعرف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سہراب مودی خود تو پارسی تھے مگر ہر مذہب کا احترام کرتے تھے۔ ’’پکار‘‘ کی کامیابی کی خوشی میں ہندو عملے نے شری نارائن کی پوجا کرنے کی تجویز پیش کی تو فوراً منظور کر لی۔ مسلمان اسٹاف نے میلاد شریف کی محفل منعقد کرانے کے لیے کہا تو اسٹوڈیو میں بہت احترام سے بڑے وسیع پیمانے پر میلاد شریف کرایا گیا۔ لقمان صاحب نے بتایا کہ جب میلاد شریف کی محفل شروع ہوئی تو سہراب مودی خود بھی سر پر رومال باندھ کر وہاں پہنچ گئے اور عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئے۔ میلاد شریف کے دوران میں ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے آخر میں دعا کرائی گئی تو ان پر رقت طاری ہوگئی پھوٹ پھوٹ کر روئے۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر600 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ