ایس ایم کرشنا کسی بنیادی متنازعہ مسئلہ کا ذکر کئے بغیر چلے گئے

ایس ایم کرشنا کسی بنیادی متنازعہ مسئلہ کا ذکر کئے بغیر چلے گئے
ایس ایم کرشنا کسی بنیادی متنازعہ مسئلہ کا ذکر کئے بغیر چلے گئے

  

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اپنے تین روزہ دورہ پاکستان میں جاتے ہوئے حکومتی نہیں عوامی رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا اور رات ہونے سے قبل اپنے وطن واپس چلے گئے۔ اس دورہ میں کوئی نیا معاہدہ ہوا نہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل تنازعات کو مسئلہ کشمیر سمیت دیگر کو بھارتی وزیر خارجہ نے تسلیم کیا بلکہ ان پر ذکر تک نہ کیا اور یہ کہہ کر چلے گئے کہ عوام کو آپس میں ملایا جائے گا جس کا مقصد بھارت کی طرف سے پاکستان میں اپنی تجارت کوبڑھانے کے سوا کچھ نہیں۔ وفاق کے بعد پنجاب کے حکمرانوں نے بھی کرشنا اور اس کے 89 رکنی وفد کی خوب مہمان نوازی کی ان کے دورہ لاہور کے موقع پر عوام کو دن بھر ان کی گزرگاہ سے دور راستے بند کرکے سڑکوں پر قید رکھا گیا۔ ان کے دورہ پر بات کی جائے تو ....وہ کچھ ”لے دے“ کے بغیر واپس چلے گئے۔ ان کے دورہ کی ایک بات ضرور ہوسکتی ہے کہ شاید اس لئے کچھ ”لے دے“ نہیں ہوا کہ یہ باتیں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے آئندہ دنوں پاکستان کے متوقع دورہ پر ان پر چھوڑ دی گئی ہوں چونکہ جب سے پاکستان کے حکمرانوں نے بھارت کو تجارت سمیت دیگرحوالوں سے دنیا میں ایک پسندیدہ ملک قرار دے دیا تو بھارتی وزیراعظم کا فرض بنتا ہے کہ وہ اب پاکستان آئیں اور اس پر پاکستان کے حکمرانوں کا شکریہ ادا کریں کہ انہوں نے پاکستان کی شہ رگ کہلانے والے آزاد کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور شہداءکشمیر کی تمام تر قربانیوں کونظر انداز کرتے ہوئے بھارتیوں کی محبت میں اس حد تک گزر گئے کہ انہیں پسندیدہ ملک قرار کاخطاب دے دیا۔ اس خطاب کا قرض پاکستان آکراتارنا بھارتیوں کے سر ہے سو مجھے امید ہے کہ بھارتی وزیراعظم آئندہ دنوں ضرور پاکستان آئیں گے اور اس لحاظ سے بھارتی وزیرخارجہ کا دورہ پاکستان آئندہ دنوں ہونے والے بھارتی وزیراعظم کے دورہ کی ریہرسل ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایس ایم کرشنا کے دورہ سے نہ کچھ ملا ہے نہ آئندہ ملنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ دورہ بیانات تک محدود رہا سو پہلے بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے مطابق وزرائے خارجہ اور دیگر وفود جوخیر سگالی دوروں کے ساتھ ساتھ مختلف مواقع پر پاکستان آتے رہے ہیں ان کے نقش قدم پر چلے اور وفاق سے لے کر پنجاب کے حکمرانوں سے انہیں ملاقاتوں کو فوٹو سیشن تک محدود رکھا مرکز میں وفاق کے حکمرانوں سے ملاقاتوں میں ان کی حکومت کے اقدامات اور پالیسیوں کی تعرف کی جب اتوار کے روز لاہور آئے تووزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کے دوران ان کی حکومت میں ان کے اقدامات کی شاندار الفاظ میں تعریف کی بلکہ ان کے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کے لئے کئے گئے اقدامات پر میاں نواز شریف کوبھی خراج تحسین پیش کیا۔ میرے نزدیک بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کی حکمرانوں سے میل ملاقاتوں میں انہوں نے پاکستان کے حکمرانوں کو پاکستان اور بھارت کے درمیان فسادات اور تنازعات کی اصل وجہ بننے والے مسئلہ کشمیر، پانی اور دریاﺅں کے ایشو پر باضابطہ بات چیت سے دور رکھا۔ اس پر تفصیلی بات چیت پر نہ آنے دیا اگر کسی نے بات کرنا بھی چاہی تو اسے انہوں نے خوبصورت انداز پر انگریزی بول کر انہیں ٹال دیا اور اصل مسائل سے ہٹا کر دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال تک محدود کردیا۔ گورنر پنجاب سے سردار لطیف کھوسہ کو بھی امن سے دونوں ممالک میں خوشحالی کی آشا تک محدود کیا جب وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سے ملاقات کے لئے گئے تو انہیں بھی بھارتی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک میں مسائل کے حل کے لئے بامقصد مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے تک محدود کیا۔ ان کے ہاں کھانا کھایا، حکومتی نہیں عوامی رابطے بڑھانے کی امید دلائی اور لاہور کی سیر کے لئے نکل گئے۔ داتا دربار حاضری دے کر صدر پاکستان کے دورئہ بھارت کے دوران ان کی بھارت میں اجمیر شریف میں خواجہ غریب نواز کے مزار پر حاضری کا حساب برابر کیا۔ پھر مینار پاکستان گئے۔ بعد میں شاہی قلعہ کے باہر راجہ رنجیت سنگھ کی مڑھی پر حاضری دی، تلوار کا تحفہ لیا اور واپس چلے گئے۔ تو کرشنا نے پاکستان کے اپنے تین روزہ دورہ میں لیا ہی لیا ہے دیاکچھ نہیں۔ دیا بھی ہے تو امید وہ بھی حکومتی سطح پر نہیں عوامی رابطے بڑھانے کی نوید دی اور چلے گئے۔ اس دورہ سے کہیں ایسا تو نہیں ہوجائے گا کہ تجارت اور ویزے پر پالیسیاں نرم کرنے کی آڑ میں کشمیر اور سیاچن جیسے اصل مسائل پس پشت تونہیں چلے جائیں گے کیونکہ کرشنا کا یہ مو¿قف بھی کھٹک رہا ہے کہ بھارت اپنی 45 سالوں سے اختیار کی گئی پوزیشن چھوڑ رہا ہے لیکن ماضی پر نظر ڈالی جائے تو بھارت نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ کاش حکمران کرشنا پرواضح کردیتے کہ خطے میں امن کے راستے کشمیر سے ہوکر گزرتے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اسلام آباد کے بعد لاہور میں بھی مصروف دن گزارا اور اتوار کو سورج غروب ہونے سے قبل دن کے اجالے میں اپنے 89 رکنی وفد کے ہمراہ سرحد پار کرگئے اور مغرب کی اذان ہونے سے قبل اپنے وطن لینڈ بھی کرگئے۔ ان کے دورے میں کوئی نئی بات پر اتفاق ہوا نہ کوئی نیا معاہدہ ہوا، پرانی باتیں دہرائی گئیں۔

مزید :

تجزیہ -