تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 48

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 48
تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 48

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پشت پر پچیس ہاتھی مغل شہنشاہی کے لوازمات اٹھائے موجود تھے۔پچاس پچاس ہاتھیوں کے دوسرے دونوں بازوؤں پر مورچہ لئے ہوئے تھے۔ان کے قلب میں لوہے کے قلعے کے اندر سلطان السلاطین منہاج الدین محمد مراد بخش شہنشاہ غازی چھتر شاہی کے سایہ میں بیٹھا تھا۔عماری میں اس کے پیچھے شاہزادہ ایرج چھوٹے چھوٹے پانچوں ہتھیارلگائے مستعد تھا۔رکاب خاص کے پانچ ہزار سواراس طرح بکتروں اور پاکھروں میں غرق تھے کہ آنکھوں اور سموں کے علاوہ کوئی چیز کسی ہتھیار کی زد میں نہ تھی۔اورنگ زیبی لشکر کا یہ بازو کریک ڈویژن تھا،اس لئے کہ اورنگ زیب کے جنرل اور سوار خاص تعداد میں زیادہ اور صلاحیت میں عظیم ہونے کے باوجود سارے میدان میں تقسیم ہو گئے تھے۔لیکن مراد جو ایک زمانے سے شہنشاہی کا خواب دیکھ رہا تھا،بہترین سپاہیوں کی جستجو اور تربیت کر رہا تھا اپنے تما م چیدہ اور باوفا سپاہیوں اور سالاروں کے ساتھ اسی مرکز پر قائم تھا۔اس کے علاوہ مرادجسمانی طاقت اور فنون جنگ کی مہارت میں بھی بے پناہ تھا اور ان صفات پر اسے فخر تھا۔اس کا قول تھا۔

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 47 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ہیچ ازمن بہادر نیست‘‘

(کوئی مجھ سے زیادہ بہادر نہیں ہے )

مراد کا نتخاب کر کے راجہ رام سنگھ نے بہترین سالار اور سپاہی ہونے کا ثبوت تھا۔ہر چند کہ رستم مارا جا چکا تھاتاہم اس نے غنیم کے توپ خانے کا نظام درہم برہم کر دیا تھا۔صف شکن خان کو زخمی اور تباہ کر دیا تھا۔شیخ میر کو مجروح اورزیر کر کے دشمن میں ہر اس کر دیا اور سلام خان کی صفیں متزول کر دی تھیں۔اس کا نقشہ جنگ یہ تھا کہ اگر مراد کو غارت کردیا جائے تو اورنگ زیب پر چڑھائی کیلئے راؤ چھتر سال کا راستہ صاف ہو جائے گا۔پھرداراشکوہ کے قول کی ایک یلغار میدان چھین لے گئے۔راجہ نے بڑی ذہانت سے اپنے نقشے پر عمل کیا ورنہ رستم خاں کی طرح وہ دشمن کے توپ خانہ کے دوسرے حصہ کو جو ذوالفقار خان کی قیادت میں تھا۔چند ہزار سوار قربان کر کے تہس نہس کر ڈالتا۔برخلاف اس کے اس نے توپ خانے کی زد سے دور دور چل کر اور خاصا لمبا چکر کاٹ کر مراد پر دھاوا کیاتھا۔اورنگ زیب جس میدان جنگ میں ہوش سنبھالا تھا اور اپنے نیز دشمنوں کے لشکروں کی ایک ایک جزیات سے واقف رہنے کا عادی تھا۔راجہ کا رخ بھانپ گیااور رکاب میں کھڑے ہوئے خان دوراں ناصری خان کو مراد کی کمک کیلئے پانچ ہزار سواروں کے ساتھ روانہ کر دیا۔قاصد بھیج کر خان زمان اسلام خان کو چوکنا کیا کہ اگر ضرورت سمجھی گئی تو مراد کی مدد پر طلب کیا جائے گا۔

مراد کے ہراوّل نے زد میں پاتے ہی تیروں اور تفنگوں سے راجہ کے پیش قدمی کرتے ہوئے رسالوں پر حملہ کر دیا۔ساتھ ہی مرادنے اپنے مشہور سپہ سالار شہباز خان مرشد پر ست خاں،رانا غریب داس اور تہور خاں کو ایک ایک ہزار سوار دے کر راجہ پر لپکا دیا اور اب معاملہ تیروں اور تفنگوں سے گزر کر تلواروں اور کٹاروں پرآگیاتھا اور دست بدست جنگ گاڑھی ہوتی ہوئی جا رہی تھی،نعروں اور پکاروں سے کہرام برپا ہو گیا تھااور لاشوں سے میدان پٹنے لگا تھا کہ مراد نے گرج کر کہا۔

’’تخت یا تابوت‘‘

اور ہاتھی کو آگے بڑھا دیا۔گنج سلطان کے ساتھ ہی جنگ مست ہاتھی اپنی زنجیریں اور کلہاڑے ہلاتے اور چنگھاڑتے ہوئے لپکے۔ان ہاتھیوں نے راجہ کی صفیں روند ڈالیں۔سواروں اور گھوڑوں کو کھلونوں کی طرح توڑنے پھوڑنے لگے اور ایک لمحے کیلئے ایسا معلوم ہو اکہ راجہ پسپا ہو گیا کہ راجہ نے اپنے حقیقی بھائی کو للکارا۔

’’دیبی سنگھ۔‘‘

’’تلوار ہم سے ہاری ہے کہ ہاتھیوں سے۔‘‘

’’جو آگیہ مہارج‘‘

اور نوجوان دیبی سنگھ نے جس کے دونوں ہاتھیوں میں تلواریں تھیں اور لگام کمر سے بندھی تھی اور جو اپنے سرداروں اور سپاہیوں کے ساتھ مرشد پرست خان اور تہور خان کے ساتھ الجھا ہوا تھا،زمین پر ترچھے بیٹھ کر مہمیز لگائی ،پھرگھوڑا اڑا اور سب سے آگے آگے چلتے ہوئے بلند نامی ہاتھی پر ایڑ لگا دی اور گھوڑے کے اگلے پاؤں ہاتھی کے دانتوں میں الجھ گئے،فیل نا م کا سرکٹ کر زمین پر گرپڑا اور راج کمار سنگھ کا گھوڑا مارا گیالیکن وہ سر بلند کی پیٹھ پر پہنچ چکا تھااور سواروں سے حساب چکا رہا تھا جن کے نیزے ان کے بدن میں پیوست ہو چکے تھے اور اب دوسرے ہاتھی بھی چنگھاڑ کر بھاگ رہے تھے۔سر بلند کے بھاگتے ہی اکثر ہاتھی جن پر دیبی سنگھ کی تقلید میں سواروں نے جانیں ہار کر دھاوا کر دیا تھا۔میدان چھوڑنے لگے اور خود راجہ کے ہاتھیوں کا پرا جو گھوڑوں کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکا تھا ۔قریب آنے لگا تھا۔

اب مراد نے ملا خطہ کیا اور بکتر پوش سواروں کی بدلی چھٹ گئی اورمیدان میں گوہر پوش سونے کے بجرے سے تیرتے نظر آئے جن کے چاروں طرف اس کے سپاہی اور سالار ملاحوں کی طرح الجھے ہوئے تھے اور خود اس کی کشتی ڈانوں ڈول تھی۔اچانک چغتائی شہزادے نے حکم دیا۔

’’ہاتھی کے پیروں میں زنجیر ڈال دو‘‘

رانا مرشد پرست خان ،رانا غریب داس اور تہور خان کو جب ان فوجوں سمیت راجہ نے کاٹ کر پھینک دیا اور آگے بڑھا تو راج کمار دیبی سنگھ راٹھور،راج کمار وشن سنگھ لتھڑی نظر آئیں،سامنے نگاہ کی تومراددرجنوں ہاتھیوں اور ہزاروں سواروں کے سمندر میں جہاز کی طرح کھڑا نظر آیا،باگ موڑ کر زعفران پوش سواروں کو حکم دیا۔

’’سور بیرو،گھوڑوں سے پھانڈ پڑو کہ جانور ہے اور بھاگ سکتا ہے‘‘

سب اتر پڑے،ڈھالیں نوچ کر پھینک دیں اور’’رام رام‘‘ کے نعرے لگاکر مراد پر ٹوٹ پڑے اور وہ بھیانک لڑائی ہوئی جس کی یاد میں مراد کے ہاتھی کی چھلنی ایک مدت تک لال قلعہ میں محفوط رہی۔(جاری ہے )

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 49 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /دارا شکوہ