دنیا کا واحد ریلوے سٹیشن جہاں صرف ایک مسافر کے لئے ٹرین جاتی ہے

دنیا کا واحد ریلوے سٹیشن جہاں صرف ایک مسافر کے لئے ٹرین جاتی ہے
دنیا کا واحد ریلوے سٹیشن جہاں صرف ایک مسافر کے لئے ٹرین جاتی ہے

  


ٹوکیو (مانیٹرنگ ڈیسک) سیاسی مفکرین ریاست کو ماں سے تشبیہ دیتے ہیں، جس کے لئے شہری اولاد کی طرح ہوتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے ہاں اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا، مگر جاپان کے انتہائی شمال میں واقع ایک ریلوے سٹیشن پر گزشتہ تین سال سے باقاعدگی کے ساتھ نظر آنے والا ایک منظر یہ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے کہ واقعی ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے۔

برطانوی اخبار ’ٹیلیگراف‘ کا کہنا ہے کہ جاپان کے شمال میں چینی سرحد کے قریب واقع کامی شیراتکی سٹیشن پر ایک ریل گاڑی روزانہ دو بار رکتی ہے، جبکہ یہاں دور دور تک کوئی مسافر نظر نہیں آتا ۔ جب صبح کے 7بجکر 4منٹ پر یہ ریل گاڑی رکتی ہے تو اس میں ایک لڑکی سکول جانے کے لئے سوار ہوتی ہے اور شام 5بج کر 8منٹ پر جب یہ گاڑی دوبارہ یہاں رکتی ہے تو وہی لڑکی اس سے اترتی ہے، اور یہ طالبہ اس سٹیشن سے سوار ہونے اور یہاں اترنے والی واحد مسافر ہے۔

اخبار کے مطابق جاپانی ریلوے کمپنی نے تین سال قبل جب اس سٹیشن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تو معلوم ہوا کہ ایک لڑکی سکول جانے کے لئے یہاں سے روزانہ ریل گاڑی پر سوار ہوتی ہے۔ حکام نے فیصلہ کیا کہ جب تک یہ لڑکی ریلوے کی سہولت کو استعمال کررہی ہے اس سٹیشن تک ریل گاڑی کا جانا جاری رہے گا، اور یہ سلسلہ گزشتہ تین سال سے یونہی جاری ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق طالبہ کی ہائی سکول کی تعلیم رواں سال مارچ میں مکمل ہوگی اور محکمہ ریلوے کی طرف سے بھی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 26 مارچ کو اس ریلوے سٹیشن کو مستقل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

جاپانی معاشرے کے اس خوبصورت پہلو نے لاکھوں انٹرنیٹ صارفین کو جذباتی کردیا ہے، جو کہ اس کے متعلق اپنی آراءکا اظہار بھی کررہے ہیں۔ ایک صاحب نے فیس بک پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ”یہ ہے گڈ گورننس۔ صرف ایک فرد کے لئے حکومت اس حد تک جاسکتی ہے۔ ایسے ملک کے شہری کیوں نا فخر کے ساتھ وطن پر جان نچھاور کر دیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس