تحریک سے اہم رہنماﺅں کا چل چلاﺅ، سونامی کا رخ بدل جائے گا؟

تحریک سے اہم رہنماﺅں کا چل چلاﺅ، سونامی کا رخ بدل جائے گا؟
تحریک سے اہم رہنماﺅں کا چل چلاﺅ، سونامی کا رخ بدل جائے گا؟

  

(تجزیہ: جاوید اقبال) کیا پاکستان تحریک انصاف میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ اور اہم رہنماﺅں کا چل چلاﺅ سونامی کا رخ تو نہیں تبدیل کردے گا یہ وہ سوالات ہیں جو ننکانہ کے گلِ خاندان کی ق لیگ میں واپسی اور گوجرانوالہ کے بھنڈروں کی ن لیگ میں پرواز کے بعد زبان عام پر ہیں اگر ”چل چلاﺅ“ سے تھوڑا پیچھے جایا جائے تو 3 ماہ قبل تحریک انصاف میں (ق) لیگ سے آنے والے نئے نویلے رائیونڈ کے بھٹی خاندان کے سربراہ عبدالرشید بھٹی اور منشا سندھو کی نائب وزیر اعظم کے کزن چودھری وجاہت حسین سے رات کی تاریکی میں ہونے والی ملاقاتوں کی خبروں نے بھی تحریک انصاف میں اس قدر لرزہ طاری کردیا تھا اور ان خبروں سے تحریک انصاف کو اس قدر خوف زدہ ہوئی کہ دونوں رہنماﺅں کو باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے سچائی بتانا پڑی مگر سچ تو سچ ہوتا ہے سچ کو آنچ نہیں ہے اس وقت بھی راقم حروف نے ان ملاقاتوں سے پردا اٹھایا تھا اب ”سیانے“ تحریک انصاف کے اہم رہنماﺅں پر نظر جمائے بیٹھے ہیں۔ اہم رہنماﺅں کی آپس میں لڑائیاں اور اختلافات ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ بڑے کہتے ہیں کہ ”کلمہ قلندر ویسے تو نے گھڑیو پانی نے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس گھر میں لڑائی اور توں توں میں میں عام ہوجائے وہاں برکت اٹھ جاتی ہے۔ رزق میں کمی ہوجاتی ہے۔ ابھی تک تحریک انصاف کے رزق میں لاہور کے جلسہ کے بعد مسلسل اضافہ ہورہا مگر ”نزول“ میں نہ صرف کمی واقع ہوئی ہے بلکہ ”اندر“ کی لڑائیوں اور اختلافات کے باعث تمام لوگ ایک دوسرے کی ٹانگیں ک کھینچنےمیں کچھ اس طرح سے مصروف ہیں کہ مرکزی رہنما جہانگیر اور مخدوم شاہ محمود قریشی کی پرواز کی اطلاعات کی گونج پارٹی کے اندر کے بعد باہر بھی زور و شور سے سنائی دینے لگی ہے۔ راولپنڈی کے شیخ رشید کو معلوم ہوچکا ہے کہ انہیں عمران خان کی ”کچن کابینہ“ کے لوگ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ شیخ رشید عمران خان کے اشارے پر میاں برادران کے ”گھر“کہلانے والے گوالمنڈی چوک میں جلسہ عام کی تاریخ 28 ستمبر کا اعلان تو کرچکے ہیں مگر اب انہیں تحریک انصاف کی ”امداد“ ملتی نظر نہیں آرہی اور انہوں نے جلسہ عام میں اپنی عزت بچانے کے لیے لیبر تنظیموں کے علاوہ پاکستان ریلوے لاہور کی تنظیموں کی فائیو سٹار ہوٹلوں میں کھابے کھلانے شروع کردیئے ہیں جس کے لئے انہیں ریلوے افسروں کے ایک خاص گروہ کے فرنٹ مین خالد نامی مسلم لیگ (ن) کے پرانے اور ہمایوں اختر خان کے کار خاص کی حمایت بھی حاصل ہوگئی ہے اگر جنوبی پنجاب سے عمران خان کی چھتری کے سائے تلے لغاری خاندان نے بھی تحریک انصاف سے آنکھیں ”پھیر“ لی ہیں اور ان کی بھی پرواز کی خبریں عام ہیں اگر جہانگیر ترین اور مخدوم شاہ محمود قریشی کی ناراضگی اور اپنے قبیلے پر نظر ثانی کی افواہیں نہیں باقاعدہ خبریں تو ان کے جانے سے کیا تحریک انصاف 14 سال پہلے والی سٹیج پر آکھڑی ہوگی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر ملک کے اندر کبھی تیسری سیاسی قوت بن سکے گی نہ عوام کو بحرانوں کا تحفہ دینے والوں سے کبھی نجات مل سکے گی۔ ادھر خبریں ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے اندرونی اور بیرون ممالک اہم ”طاقتوں“ سے صلح اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کے نئے منصوبہ بندیاں اور رابطہ تیز کردیئے ہیں۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ لاہور کے ریجن کے صدر میاں محمود الرشید کے بھی تحفظات ہیں۔ پنجاب کے صدر احسن رشید کو بھی یہ گلہ ہے کہ حال ہی میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے عبدالعلیم خان کے ان کو شدید خطرات ہیں۔ خان صاحب پنجاب کی صدارت کے مضبوط امیدوار ہیں یہ سلسلہ جہاں رکتا نہیں ہے بڑھتا ہی جاتا ہے تحریک انصاف کے پرانے رہنما اور کارکن کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور نئے آنے والوں کو اچھوت اگر اس بنیاد پر لڑائی میں شدت آتی ہے تو مستقبل قریب میں تحریک انصاف ”اپنے قدم دو مگرمچھوں کی موجودگی میں جما پائے گی؟“ اس کا جواب تو عمران یا وقت ہی دے گا جہاں تک میرا اور میرے ہم سوچ دوستوں کا خیال ہے تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اور ق لیگ تینوں اور ان کے اتحادی تحریک انصاف سے آخری حد تک خائف ہیں اور انہوں نے ابھرتی ہوئی اس تیسری قوت کا سر کچلنے کی حکمت عملی بھی طے کی ہے کہ اس کے اندر پھوٹ پیدا کرو اہم لوگوں کو ساتھ ملاﺅ اور اسے کارنر کرو۔ اس حکمت عملی پر ”پہلوان“ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس کے لئے آنے والے دو ماہ اہم ہیں لیکن اگر غیر جانبدار حلقوں کی رائے کو اس میں شامل کرلی جائے تو ان کا دعویٰ ہے اور وہ یقین سے کہتے ہیں کہ یہ ٹوٹ پھوٹ عارضی ہے جس دن حکومت نے انتخابات کا اعلان کردیا اس وقت تحریک انصاف کا نقشہ ویسا بنے گا جو لاہور کے مینار پاکستان میں ہونے والے جلسہ عام کے بعد سامنے آیا تھا وہی ہوگا اور منظر نامہ بھی تبھی عیاں ہوگا۔

مزید :

تجزیہ -