پیری مریدی اور جعلی عاملوں سے منسوب داستانیں،  کیا حقیقت کیا فسانہ

پیری مریدی اور جعلی عاملوں سے منسوب داستانیں،  کیا حقیقت کیا فسانہ
پیری مریدی اور جعلی عاملوں سے منسوب داستانیں،  کیا حقیقت کیا فسانہ

  

سرگودھا میں چند دن قبل  ایک اعلی تعلیم یافتہ ریٹائرڈ بیوروکریٹ  پیر کے ہاتھوں 20 مریدین کے قتل ک افسوسناک واقعہ ہوا ، یہ اندوہناک سانحہ کیا پیش آیا ہر طرف سے خود ساختہ دانشوروں کی فوج ظفر موج نکل آئی اور لگی مزارات ، آستانوں ، خانقاہوں ، پیروں ، گدی نشینوں اورعاملوں کو رگیدنے ،،،، ایسے ایسے تبصرے اور کالم پڑھنے کو مل رہے ہیں کہ لگتا ہے کہ جیسے برائی کے سارے سرچشمے یہیں سے پھوٹ رہے ہیں ، کہیں اچھے اور برے پیر کی اصطلاحات سننے کو مل رہی ہیں تو کہیں آستانوں کے ساتھ عزتوں اور عصمتوں کا بیوپار منسوب کیا جارہا ہے ، کہیں تعویذ دھاگے اور دم درود والے عاملوں کو بھی جادو گروں کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑا کیا جارہا ہے تو کہیں تصوف پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ کہیں گدی نشینوں کے پاس موجود جائیدادوں کے تذکرے ہیں تو کہیں جاہل پیر اور جاہل مرید کا ذکر ہے۔ کہیں کسی مزار کے احاطے میں چرس اور منشیات کی باتیں ہو رہی ہیں تو کہیں مجرموں کے یہاں پناہ لینے کے انکشافات ہیں  ،،، یوں لگتا ہے کہ شاید  دنیا کی ہر برائی صرف ان مزارات ، خانقاہوں  اور آستانوں سے ہی شروع ہوتی ہے اور یہیں ختم ہو جاتی ہے ،  ایسا لکھتے ہوئے ہمارے نام نہاد دانشور یہ بھول جاتے ہیں کہ آستانے ، مزارات اور خانقاہیں ہی ہیں جہاں سے بھوکوں کے پیٹ بھی بھرتے ہیں اور بے گھروں کو سر چھپانے کو ٹھکانے بھی ملتے ہیں۔ دکھی انسانیت کو دل کا سکون بھی ملتا ہے تو لوگوں کی مرادوں سے جھولیاں بھی بھرتی ہیں لوگوں کو امن و محبت کا درس بھی ملتا ہے تو لوگوں کو تزکیہ نفس اور قلب و ذہن کی صفائی بھی نصیب ہوتی ہے ۔دین اسلام کا امن و محبت ، پیار و اخوت اور اللہ پر یقنین کے نظارے بھی یہیں دکھائی دیتے ہیں اور دہشت گردوں کے خاتمے کا چشمہ بھی یہیں سے پھوٹتا دکھائی دیتا ہے ،،، اور وطن عزیز میں شاید کہیں اور کوئی برائ موجود ہی نہیں  نہ تو دہشت گردی وطن عزیز کا مسئلہ ہے اور نہ ہی کسی اور جگہ کوئی جرائم ہو رہے ہیں ۔

 سرگودھا کے جس مزار پر قتلوں کا چرچا ہے اور جسے لے کر مزارات آستانوں اور خانقاہوں کی طرف توپوں کے رخ کر دیے گئے ہیں وہاں پر قتل بھی ہوئے اور مزار کے متعلق کہانیاں بھی منظر عام پر آئیں ہیں جو یقننا سچ ہیں اور ان کا دفاع یا توجیہہ پیش کرنے کا کوئی جواز بھی نہیں لیکن سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ جس بندے نے یہ قتل کیے وہ تو خود بھی اعلی تعلیم یافتہ ریٹائرڈ سرکاری افسر تھا جو نہ تو خود شریعت کا پابند تھا اور نہ ہی اسے طریقت کی الف ب کا پتہ تھا ، کیونکہ تصوف اور شریعت کوئی الگ الگ چیزیں نہیں۔ جس طریقت میں شریعت نہیں وہ فراڈ ہے اور جو پیر نماز روزے اور نفلی عبادات کا پابند اور صاحب تقوی نہیں وہ پیر ہو ہی نہیں سکتا۔  اگرچہ گنتی کے چند نام نہاد پیر ایسے بھی موجود ہیں جو غلط حرکات کو رواج دے رہے ہیں جن میں ایک بہروپیے  کی ویڈیوز خواتین کے ساتھ ناچنے کی اور ایک کی لوگوں سے سجدے کروانے کی اور گالیاں دے کر ڈانس کروانے کی انٹرنیٹ پر بھی گردش کرتی دکھائی دیتی ہیں ' ایسے لوگوں کا تصوف سے کوئی تعلق بھی نہیں اور عوام بھی جہالت کی وجہ سے ہی ان لوگوں سے متاثر ہو جاتے ہیں ، لیکن ایسے لوگ زیادہ سے زیادہ 1فیصد ہی ہیں لیکن یہ 1فیصد سے بھی کم لوگ ہی اس وقت میڈیا کی نظر میں تصوف کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں اور یار لوگ ان قلیل ترین لوگوں کو ہی تصوف کا نمائندہ بنا کر پیش کر رہے ہیں حالانکہ جو بھی ذرا سی شریعت کی خلاف ورزی کرے اس کا تصوف سے کوئی تعلق نہیں اور اس پر سب علماء اور صوفیاء متفق ہیں ، ان لوگوں اور چند درباروں کے سجادہ نشینوں کو لے کر تصوف کے خلاف محاذ کھڑا کرنے اور قانون سازی کی باتیں حیران کن بھی ہیں کیونکہ جعلی تعویذات دینے والے عاملین کے خلاف سخت آپریشن کے مطالبات کی باتیں بھی ہو رہی ہیں اور چند ایم پی ایز اس حوالے سے پنجاب اسمبلی میں بھی قراردادیں جمع کروا چکے ہیں اب سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ آیا کہ جادو ، تعویذات اور دم کرنےو الے جنہیں برائیوں اور فساد کی جڑ قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے ان کے بارے میں یہ بات کرنے کی کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ یہ  اسلام کا حصہ ہیں یا نہیں ، جادو تو خود رسول اللہ پر بھی ہوا تھا تو اس کے توڑ کے لیے آیات نازل کی گئی تھیں ، دم کرنے پر تو آج تک کسی بھی عقیدے کو اعتراض نہیں ہوا ، تو پھر ان عاملوں کے بارے میں اس طرح کے سخت بیانات کیوں جاری ہو رہے ہیں ، اگر ایک عامل اپنے حجرے میں بیٹھ کر تعویذ لکھ رہا ہے تو وہ تو ناجائز لیکن اگر ایک مولانا صاحب یہی کام مسجد کے ساتھ اپنے حجرے میں بیٹھ کر کریں تو وہ جائز ؟ یہ دو رخی پالیسی کیسی ہے ، محکمہ مذہبی امور سے  اس حوالے سے قانون سازی  کے مطالبات بھی ہو رہے ہیں اب محکمہ مذہبی امور اس پر کیسے قانون سازی کر سکتا ہے کیونکہ تعویذ اور پیری مریدی سے منسلک سب سے بڑی اکثریت اہلسنت بریلوی مسلک کی ہے لیکن انہیں ہمیشہ اعتراض رہا ہے کہ وزارت مذہبی امور پر ایک دوسرے مسلک کا مکمل قبضہ ہے اب ایک مخالف مسلک کے لوگ کیسے قانون سازی کریں گے اور ان کے پاس ایسا کونسا پیمانہ ہو گا جس سے وہ اصلی اور جعلی  پیر اور عامل کی پرکھ کر سکیں گے ، کیا یہ قانون سازی صرف گلی محلوں میں بیٹھے عاملوں کے خلاف ہو گی یا مساجد کے ساتھ بیٹھے علماء بھی اس کی ذد میں آئیں گے اور مزارات کی رجسٹریشن تو شاید ممکن ہو جائے لیکن کونسا مزار اصلی ہے یا کونسا جعلی اس کا فیصلہ کیسے ہو سکے گا یہی عالم پیروں کا ہو گا کہ اگر صرف بااثر پیر ہی پیر قرار پائیں گے اور غریب پیر اس کی رو سے جیل میں بند ہوں گے تو اس قانون کو کیسے مانا جا سکے گا ، اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں کوئی بھی دینی جماعت یا مسلک اس حوالے سے ان عیبوں سے مکمل طور پر مبراء ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا۔ اگر کسی آستانے یا بہروپیئے پیر کے ہاتھوں کسی کی عزت لٹتی ہے تو کیا اس طرح کے کیس مولانا صاحبان کے حوالے سے  سامنے نہیں آتے ؟ کیا اعلی تعلیم کے ادارے اس الزام سے بری الذمہ ہیں ؟ بات نکلے گی تو دور تک جائے گی اس لیے آستانوں اور عاملوں کو بھی اسی طرح لینا ہو گا جس طرح معاشرے کے باقی سب حصے ہیں اگر کہیں پر کوئی برائی نظر آتی ہے تو اسے روکنا سب کا فرض ہے اور مزارات یا عاملوں کی آڑ میں ہونے والے اس طرح کے اکا دکا واقعات کی ہمیشہ ہی علمائے اہلسنت نے مذمت کی ہے  اور اس عوام کو تصوف کا حقیقی پیغام دینے اور صوفیاء کی پہچان کروانے میں مدد دی ہے  اس حوالے سے سنی اتحاد کونسل سے وابستہ 50مفتیان شرعی اعلامیہ اور تجاویز بھی جاری کر چکے ہیں جن پر عمل کر کے معاشرے کو ایسے نام نہاد اور جعلی پیروں اور عاملوں سے چھٹکارہ دلایا جاسکتا ہے ، اس میں کالے جادو کے اشتہارات دینے والے اور کالا جادو کرنے والے عاملوں کے خلاف سخت کاروائی اس طرح کے اشتہارات پر پابندی ، شریعت سے دور عاملوں کے اڈوں کی بندش اور ایسے افراد کی نشاندہی کے لیے ہر علاقے میں علماء اہلسنت پر مشتمل کمیٹیوں کا قیام بھی شامل ہے لیکن سو باتوں کی ایک بات جہاں پر جو بھی پیر یا نوری علم کا عامل ہو تو اسے اس کے اپنے مسلک کے مدرسے میں کم از کم ایک سال کے لیے داخل کروایا جائے اور اس کی تعلیم و تربیت کے لیے علماء کرام خصوصی نصاب بھی تیار کریں تا کہ اس کی دین کا ضروری علم دیا جاسکے ایسے ہر شخص کو داتا گنج بخش رح کی کشف المحجوب اور تصوف کی دیگر بنیادی کتب ضرور یاد کروائی جائیں  کیونکہ علمائے اہلسنت کے نزدیک بھی پیر وہ ہی ہے جو خود بھی دین کا علم رکھتا ہو اور اپنے عقیدت مندوں کو بھی ضروی مسائل سمجھا سکے ، لیکن صرف چند زبانی کلامی باتوں پر کسی پر پابندی لگادینے کے قوانین کو قبول نہیں کیا جاسکتا   ، کیونکہ محکمہ اوقاف کے اپنے ٹھیکیدار مزارت پر ایسی غلط بدعات کو خود فروغ دلواتے ہیں اور راقم الحروف ایسے کئی واقعات کا عینی شاہد بھی ہے اس لیے پہلے تو محکمہ اوقاف کا قبلہ بھی درست کرنا ہو گا پھر آگے کی اصلاح ممکن ہو سکے گی ۔

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -