قادریہ لانگ مارچ ”مداخلت“ کی چہ میگوئیاں زور پکڑنے لگیں

قادریہ لانگ مارچ ”مداخلت“ کی چہ میگوئیاں زور پکڑنے لگیں
قادریہ لانگ مارچ ”مداخلت“ کی چہ میگوئیاں زور پکڑنے لگیں

  



قادریہ لانگ مارچ کے امیر ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد پہنچ کر اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں پر دستک ہی نہیں دی کپکپی بھی طاری کردی ہے لیکن یہ چہ مگوئیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں کہ مداخلت ہونے والی ہے اور اگر مداخلت ہوئی تو پھر حکومت گھر جائے گی اور حکومت گئی تو پھر وزیراعظم سمیت ایوان صدر بھی خالی کرائے جاسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایسی ”مداخلت“ پر پاکستان مسلم لیگ ن کو طاہر القادری کا شکریہ ادا کرنا پڑے گا اور، گھی کے چراغ بھی جلائے گی کیونکہ جو کام مسلم لیگ ن 4 سال میں نہیں کرسکی وہ کام کینیڈا سے آکر پاکستان میں ہلچل مچانے والے طاہر القادری نے دنوںمیں کر رکھا ہےلیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ جمہوریت صرف دھرنوں، احتجاجوں، لانگ مارچ کا نام ہی رہ گیا ہے۔ دالخراش اور ظلم کی انتہا سے معمور سانحہ کوئٹہ کے خلاف دھرنا ، بلوچستان کی حکومت کی رخصتی کا باعث بنا جس کا اظہار رقم الحروف نے اپنے دور روز پہلے تجزیہ میں کردیاتھا کہ حکومت کی اگر جان بلوچستان کی حکومت کو معطل کرنے سے چھوٹ جاتی ہے تو یہ سودا مہنگا نہیں ہے سو ایسا ہی ہوا۔ اب رہ جاتا ہے طاہرالقادری کے لانگ مارچ سے دھرنے میں تبدیل ہونے والے ”شو“ کا سوال طاہر القادری کی پلاننگ اور منصوبہ بندی کے بعد ان کے تیوروں سے لگتا ہے کہ وہ کچھ کرائے بغیر اسلام آباد سے واپس نہیں لوٹیں گے۔ حکومت یہ دھرنا ختم کرانے میں مکمل ناکام واقع ہوجائے گی اور اس دھرنا کو ختم کرانے کے لئے باہر کے اداروں کو مداخلت کرنا پڑے گی۔ دھرنا کو ختم کرانے کے لئے پہلا اقدام یہ ہوسکتا ہے کہ صدر مملکت بلوچستان کی حکومت کومعطل کرنے کے بعد اپنی حکومت کو ختم کرنے کا اعلان کرکے نئی عبوری حکومت کے قیام اور آئندہ انتخابات کا اعلان کرسکتے ہیں۔ اگر صدر مملکت نے خود فوری سٹیپ نہ لیا تو ”دھرنے“ کی مدت طویل ہونے کی صورت میں یہ اختیار بھی صدر مملکت کے ہاتھ سے نکلتا ہوا دکھائی دے گا اور پھر کوئی اور ادارہ سامنے آئے گا، وہ دو ادارے ہوسکتے ہیں ایک سپریم کورٹ آف پاکستان اور دوسرا افواج پاکستان....

سپریم کورٹ دُہرا حکم دے کر ایک مرتبہ پھر جمہوریت اور جمہوری اداروں کو ممکنہ خطرات سے بچاسکتی ہے۔ وہ وزیراعظم کو حکومت ختم کرکے نئے انتخابات کے لئے عبوری حکومت کا فی الفور اعلان اور ساتھ ہی امیر لانگ مارچ کو اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو سامنے رکھتے ہوئے لانگ مارچ اور دھرنا ختم کرنے کا حکم جاری کردیں تو جمہوریت اور جمہوری اداروں کے سر پر منڈلانے والے تازہ خطرات ایک مرتبہ پھر ٹل سکتے ہیں اگر اس طریقہ کار کے تحت سانپ اور لاٹھی دونوں محفوظ رہ سکتے ہیں اور جمہوریت کے لئے سانپ ثابت ہونے والے ہوسکتے ہیں ۔

اگر ایسا نہ ہوا تو حالات واقعات گواہی دے رہے ہیں کہ پھر تیسری قوت شہریوں اور ملک کے وسیع تر مفاد کے نام پر میدان میں آسکتی ہے اور اگر تیسری قوت نے مداخلت کی تو پھر ملک کا آئندہ منظر نامہ اور نظام حکومت یہی قوت طے کرے گی اور اگریہ صورت ہوئی تو پھر شاید پیپلزپارٹی کہ ایوان صدر بھی خالی کرنا پڑ سکتا ہے؟ اور یہی وہ تبدیلی ہے جس کی خواہش لے کر امیر لانگ مارچ اسلام آباد میں جاپہنچے ہیں۔ حالات کچھ بھی ہوں تبدیلی کیسی بھی ہو یہ ملک وقوم کے حق میں ہونی چاہیے۔ یہاں میں پاکستان کے نام نہاد جمہوری کلچر کا ذکر کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا جمہوریت ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور ایک دوسرے کی رائے سے اتفاق یا اختلاف کرنے کا نام ہے، مشاورت اور اتفاق رائے سے فیصلے ہوتے ہیں مگر پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا کلچر ہی نرالا ہے جہاں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کیاجاتا ، کرسی کے حصول کے لئے جنگ میں کوئی تبدیلی کے نام پر لڑتا ہے تو کوئی کرپشن لوٹ مار نااہل اور ناکامی کے نام ہے جہاں ملک قوم کا کسی کو خیال نہیں ہے کرسی کی جنگ جو کبھی اس کے لئے لڑتے ہیں اور کبھی جمہوریت کے لبادے میں آمریت کے چہرے چھپائے ہوئے سیاستدان سانحہ کوئٹہ کے خلاف لاہور سمیت پورے ملک میں جو کامیاب دھرنے ہوئے ان سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ کوئٹہ اور بلوچستان کو فوج کے حوالے کرو اس حساب سے طاہر القادری نے بھی لانگ مارچ ختم کرنے کے لئے گارنٹی آرمی چیف یا چیف جسٹس آف پاکستان کی مانگی تھی اس حساب سے سانحہ کوئٹہ کے خلاف دھرنے دینے والوں اور علامہ طاہر القادری کامطالبہ ایک ہے وہ ہے فوج کے اقتدار کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ علامہ صاحب کی تبدیلی اور اور انقلاب کے نعروں اور دعوﺅں کے پیچھے کیا کچھ پوشیدہ ہے دل کے بھید اللہ جانتا ہے لیکن حالات واقعات بتاتے ہیں کہ حکومت دھرنا ختم نہ کراسکی تو پھر ”مداخلت“ ہوگی جو مرضی سے فیصلے اور احکامات جاری کرے گی اس کھینچا تانی میں عبوری حکمران ہی نہیں ایوان صدر اور وزیراعظم مشاورت سے نہیں آرڈر سے تبدیلی آئے گی ۔ یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی صدارتی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے مشکل سے مکشل ترین اور بد سے بدترین بحرانوں سے نکلنا سیکھا ہے وہ نکلتے آئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کے سرپر کھڑے دھرنے کی شکل میں مشکل ترین بحران سے خود اور اپنی حکومت کو کس طریقے سے باہر نکال کر ثابت کرتے ہیں کہ وہ مر د آہن ہیں اگر وہ اس بحران سے محفوظ طریقے سے خود کو اور اپنی حکومت کو نکال باہر کرتے ہیں تو پھر آنے والا وقت صدر آصف علی زرداری کا ہوگا وہ ہونگے۔

قادریہ لانگ مارچ

مزید : تجزیہ