دوسروں کے کام آﺅ

دوسروں کے کام آﺅ
دوسروں کے کام آﺅ

  

دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی جمہوریت پر زور ہے۔اسی جمہوریت پر جس کے لئے کہا جاتا ہے کہ عوام کی حکومت عوام کے ذریعے اور عوام کے لئے ۔کہیں کہیں اس رائے سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ جمہوری دور میں بظاہر فیصلہ عوام کا ہوتا ہے، لیکن غیر راست طورپر فائدہ اٹھانے والے خواص ہوتے ہیں، جبکہ اصل فائدہ خاص الخاص شخصیات کے حصے میں آتا ہے۔مخصوص نشستوں پر بھی عموماً صورت یہی رہتی ہے کہ ان کا حتمی انتخاب فرد واحد کے اختیار میں ہوتا ہے۔جمہوریت کسی کے نزدیک بہترین انتقام ہے تو کسی کے لئے بہترین انعام۔جہاں تک عوام کا تعلق ہے، انہیں اگلے انتخابات، یعنی اپنی باری آنے تک وہ سب بھگتنا پڑتا ہے جو جمہوری حکومت ہوتے ہوئے بھی خواہ کتنا ہی غیر جمہوری کیوں نہ ہو۔چودھری ناصر میو کا کہنا ہے کہ جب قومی شاعر نے جمہوریت کی تعریف کا تعین کرتے ہوئے فرما دیا کہ یہ ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے تو پھر دماغ کھپانے کا کیا فائدہ۔یوں بھی گننا فائدے کی علامت ہے کہ تولے ماشے کا زمانہ گزر گیا۔اب گرام سے کلو گرام تک سفر کا زمانہ ہے۔پھر جب فائدہ سب کا ہو تو جمہوریت میں کیا برائی ہے۔

چودھری ناصر میو کی دیگر باتوں سے اختلاف تو ناممکن نہیں، لیکن سب کے فائدے والی بات نے تو جیسے بھس میں چنگاری ڈال دی۔”نئی جمہوریت کے گزرے ایک سال میں زیادہ نہیں، سب کے فائدے والی دوچار باتیں بتاﺅ“.... مرزا خالد مرتضیٰ نے تڑخ کر پوچھا: ”کیا ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی سب کے فائدے کی بات ہے“؟چودھری ناصر نے نسبتاً نرمی سے کام لیا۔توقع یہ تھی کہ جواب نہ دینے پر ناصر میو کی دانشوری پر ٹھپہ لگ جائے گا۔”جمہوریت کی رو سے اپنی رائے کے اظہار کا سب کو حق ہے۔اگر ہم جمہوری حق رائے دہی استعمال کریں تو اس وقت میری بات جمہوری طور پر رد ہو جائے گی، لیکن حقیقت نہیں بدلے گی۔اگر ہم حکمرانوں کے حامی حلقے میں رائے لیں گے تو شاید ہی کوئی اس سے اختلاف کرے،جبکہ مخالف حلقے میں اس سے اتفاق کرنے والے ڈھونڈنا پڑیں گے“۔ تم اس سے ثابت کیا کرنا چاہتے ہو؟ مرزا خالد مرتضیٰ نے سابقہ لہجے میں سوال کیا....”جمہوریت میں سب کا فائدہ ہے، خواہ اصل جمہوریت ہو یا اس کی پیروڈی....“ ناصر میو نے بھرپور انداز میں انہیں بتایا۔

 ”ہم جمہوریت والی ایک حکومت بھگتنے کے بعد دوسری حکومت جمہوریت میں پہلے سے بھی زیادہ بھگت رہے ہیں۔کیا یہ ہمارا فائدہ ہے؟ مرزا خالد نے چودھری ناصر کو بولنے کا موقع نہ دیا، لیکن جیسے ہی ان کا نیا سوال مکمل ہوا۔ناصر میو نے محاذ سنبھال لیا“.... مہنگائی کے فائدے ہم بتاتے ہیں۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ حکومت میں آتے ہی خالی خزانے سے اربوں روپے ادا کرنے والے مہنگائی پر فدا ہیں کہ جو کسی کے قابو میں نہیں آ رہی ہے۔سرکاری نرخ نامے کو خاطر میں نہ لانے والے مہنگائی روک چھاپہ مار مہم اور سزاﺅں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔رمضان شریف میں سستا بازار سجانے والوں کی لوٹ مار اور مقرر کردہ نرخ سے زائد وصولی کے واقعات شہروں میں نظر آتے ہیں۔ اووربلنگ اور اوسط بلنگ عام سی بات ہے۔غلطی ادارے کی ہو، جرمانہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔امن و امان کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔اسی پر بس نہیں، سرکاری احکامات مسترد کرنے والے نجی شعبے کے ادارے ہیں، جن کے خلاف سخت اقدام کے اعلان صرف اعلان ہی رہتے ہیں۔ہاں اور ناں کے اس چکر میں کوفت اور مشکل صرف عوام کے حصے میں آتی ہے۔

 ادویہ ساز اداروں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دس سے بارہ برسوں میں ادویہ کے نرخوں میں ”اضافہ“ نہیں ہوا،لہٰذا سرکار فوری طور پر اضافے کی منظوری دے۔جمہوری حکومت نے اس دعوے کو سچ مان لیا اور عنقریب لگ بھگ 18فیصد اضافہ متوقع ہے۔ ”اضافہ“ آمدنی میں اضافے کا آسان ترین حل ہے، لہٰذا کوئی بھی محکمہ کام چوری اور فرض ناشناسی پر قابو پانے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔نہ ہی نقصانات کے ازالے میں سنجیدہ ہے۔نجی ادارے بچت اور اس کی تشہیر پر لاکھوں روپے خرچ کرکے اپنی پرانی ڈگر پر لوٹ جاتے ہیں۔کوئی بااختیار ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ جب وہ خصوصی مہم کے دوران نرخوں میں ترغیبی کمی کر سکتے ہیں تو یہ رعایت مستقل کیوں نہیں کرتے ،تاکہ مہنگائی کا کچھ زور تو ٹوٹے۔اپنے طور پر قیمت میں من مانا اضافہ کرکے منافعے کا تعین کرنے والوں پر کنٹرول حکومت کا کام ہے،اسی طرح جیسے نرخوں کا تعین کرنے کے بعد عملدرآمد، مگر ہر حکومت اس میں ناکامی کا یکساں ریکارڈ رکھتی ہے۔ خصوصی اجلاسوں میں بااختیار سربراہ عام طور پر دی گئی بریفنگز پر انحصار کرتے ہیں، جو متعلقہ حکام کی تخلیقی صلاحیتوں کا نمونہ ہوتی ہیں۔حقیقت سے قطع نظر کاغذوں پر درج اعدادوشمار اور احکامات کو سچ مان لیا جاتا ہے۔اشیاءضروریہ ،نرخ نامہ اس کی کھلی مثال ہے، جس پر عمل چھاپہ مار ٹیم کی موجودگی میں تو ہو سکتا ہے، لیکن عام حالات میں اس بارے میں صرف فرض کیا جا سکتا ہے۔ ہم مہنگائی کے خلاف ہوں یا بدعنوانی کے، چوری کے خلاف ہوں یا چور بازاری کے، گداگر اس کا ہدف ہوں یا سوداگر عوام کو عارضی ریلیف بھی نہیں دیتی کہ مشترکہ مفاد رکھنے والے یکجا ہیں اور ان کا شکار عوام بکھرے بکھرے سے ہیں۔ادارے کروڑوں کا بجٹ اور فنڈز رکھنے اور اپنے اپنے دائروں میں ناکام ہونے کے باوجود اپنا بوجھ عوام پر ڈالنے کے لئے ہم آہنگ ہیں۔آبی آلودگی کا مسئلہ ہو تو عوام کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ پانی ابال کر پئیں یا اس میں سکرین ملا لیں۔جو کھانا پکانے کے لئے ایندھن کا انتظام مشکل سے کر پاتے ہیں، وہ پانی کس طرح ابالیں؟ ٹھنڈے اور معطر ماحول میں رہنے والے تو مسائل کے حل تجویز کرتے ہیں اور داد پاتے ہیں۔ڈینگی سے بچاﺅ کے لئے متعلقہ اداروں کو بنیادی طور پر کیا کرنا چاہیے؟ ان اداروں نے اب تک کیا کیا؟ یہ پوچھنے اور احتساب کی کوئی ہدایت نہیں ، یہ ضرور ہے کہ ذرائع کے مطابق جلد عوام کو آگاہ کر دیا جائے گا کہ قانوناً وہ کیا کچھ کرنے کے پابندہیں، ورنہ ....!

 ناصر میو صاحب نے اظہار کی آزادی کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور کہتے ہی چلے گئے۔ ”اس میں جمہوریت کا کیا قصور ہے“.... یہ تو روایتی اور محکمہ جاتی کوتاہیاں اور خرابیاں ہیں جو ہر دور میں رہی ہیں اور آئندہ بھی اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہیں۔مرزا خالد مرتضیٰ نے مدہم لہجے میں کہا: ”یہی تو میرا کہنا بھی ہے، لیکن تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ.... جمہوریت ایک نظام حکومت ہے، جس میں اکثریت ترجیح رکھتی ہے۔جمہوریت کی بنیاد یہی اکثریت بنتی ہے،جسے عوام کہا جا سکتا ہے۔ہر منتخب نمائندہ اپنے پورے حلقے کا نمائندہ اور مفادات کا امین ہوتا ہے، مگر حیران کن بات یہ ہے کہ اکثریت سے شروع ہونے والا عمل جوں جوں آگے بڑھتا ہے۔اقلیتی گروپوں میں بٹتا چلا جاتا ہے اور ہر گروپ سازگار حالات کے لئے جمہوری توازن بنانے یا بگاڑنے کا غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔مفادات کے لئے اشتراک کیا جا سکتا ہے، ہمارے سیاست دان یہی سوچ رکھتے ہیں، کاروباری حلقوں نے بھی یہ گر سمجھ لیا ہے اور اپنےطور پر ایسوسی ایشنز بنا لی ہیں ۔جمہوریت پسند عوام کو صرف سیاست کا حصہ سمجھتے ہیں، حالانکہ جمہوری رویہ عام زندگی میں بھی کارگر ہوتا ہے۔ اس کے لئے باہمی تعاون اور اشتراک ضروری ہے جو سماجی زندگی میں کم سے کم تر ہو رہا ہے۔شاپنگ مراکز سے عام بازاروں، محلے کے دکانداروں کے خریداروں کا جائزہ لیجئے، جہاں بھاﺅ تاﺅ کرنے والے صرف دکاندار ہی نہیں،بلکہ دوسرے خریدار بھی تاﺅ کھاتے ہیں کہ وہ ان کا وقت خراب کررہا ہے“۔ جمہوریت کے مطابق تاﺅ کھانے والے درست ہیں اور بھاﺅ پوچھنے والا غلط، لیکن سماجی و اقتصادی اور بیگماتی نقطہ ءنظر سے سب کو بھاﺅ پوچھنے والے کا ہم نوا ہونا چاہیے۔

جمہوریت کا اصل تقاضا بھی مشترکہ مفاد ہے۔یہ بات عوام کی سمجھ میں نہیں آتی، لہٰذا وہ اکثریت میں ہو کر بھی براہ راست اوربالواسطہ نقصان کی زد میں ہیں۔صرف اسی لئے کہ کاروباری اور نجی شعبے کی اقلیتیں یکجا ہیں اور عوام اپنے ہی مفاد کو نظر انداز کرکے منتشر اور ایک دوسرے سے خفا ہیں۔ روزمرہ کی خریداری ہو یا سواری کا حصول کوئی بھی دوسروں کی ضرورت یا مجبوری کا خیال کرنے پر آمادہ نہیں، سیاست دان اپنے مفاد کے لئے دروازے کھلے رکھتے ہیں اور اپنے دھرنوں احتجاج اور ریلیوں کے لئے عوامی قوت کو استعمال کرتے ہیں۔کیا عوام نے بھی کبھی چاہا کہ اپنی کامیابی کے لئے انہیں استعمال کرنے والے کبھی ان کی روزمرہ زندگی اجیرن کرنے والے مسائل پر بھی کوئی دھرنا دیں۔موثر استعمال کریں فیصلہ کن ریلیاں نکالیں۔سیاست دان اور منتخب نمائندے عوام کے لئے میدان میں آئیں کہ جمہوری ہی نہیں، بلکہ یہ اخلاقی تقاضا بھی ہے کہ کام آﺅ دوسروں کے خاص طور پر ان کے جو تمہارے کام آتے رہے ہیں اور آئندہ ان کی ضرورت رہے گی۔٭

مزید : کالم