پرندوں کے گیت سن کربیمار صحت مند، بچے چست ہوجاتے ہیں

پرندوں کے گیت سن کربیمار صحت مند، بچے چست ہوجاتے ہیں
پرندوں کے گیت سن کربیمار صحت مند، بچے چست ہوجاتے ہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پرندوں کے گیتوں میں عجب راز پنہاں ہیں۔یہ گیت دلوں کے تاروں کو چھیڑتے اور دماغ کے خلیوں کوگدگداتے ہیں تو معجزے ہو نے لگتے ہیں۔

مشینوں ، گاڑیوں اور انسانوں کے شور میں آپ ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں، لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی غور و فکر کرسکتے ہیں۔ لیکن پرندوں کی چہچہاہٹ میںآپ شاعری کرسکتے ہیں، کہانیاں لکھ سکتے ہیں اور مصوری تخلیق کرسکتے ہیں۔ پرندوں کا شور( گیت) آپ کے ارتکاز توجہ میں اضافہ کرتا ہے خلل نہیں ڈالتا۔اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں یہ گیت آپ کے دماغ کو مستعد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ تحقیق ہے Sound Bussiness کتاب کے مصنف جولین ٹریژر (Jullan Treasure) کی جو میل آن لائن میں چھپی ہے۔

دماغ کو مستعد کرنے کا معجزہ تو آپ خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد ہمارا شوگر لیول کم ہوجاتا ہے پپوٹے بھاری ہونے لگتے ہیں اور غنودگی سی چھاجاتی ہے۔ایسے عالم میں کبھی پرندوں کے گیت سنیں ، آپ کی غنودگی کافور ہونا شروع ہوجائے گی اور دماغ ایک دم چوکس ہوجائے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہ تجربات پرائمری سکول کے بچوں پر کیے گئے۔معصوم بچوں کو معصوم پرندوں کے گیت سنائے گئے تو لنچ بریک کے بعدوہ زیادہ مستعد رہے اورانھوں نے اپنی پڑھائی پر زیادہ بہتر انداز میں توجہ مرکوز رکھی۔

دماغی تکان کو دور کرنے میں بھی گیتوں کا یہ نسخہ تیر بہدف ہے۔کسی ڈھلتی شام تھکے ہارے کام سے لوٹیں تو پارک کے کسی گوشے میں بیٹھ کر پرندوں کو سنیں۔تازگی کی پھوار آپ کی روح پر اترناشروع ہوجائے گی اورکسل مندی کی کثافت دھلنے لگے گی۔ ایسے میں فرحت و انبساط کی کیفیات کا نزول شروع ہوجائے گا۔ ڈیلی میل کی ویب سائٹ میل آن لائن میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق پرندوں کے گیت دن بھر کی دماغی تکان سے نجات دیتے ہیں۔

ہم ہزاروں سالوں سے پرندوں کے قربت کے عادی یونہی تو نہیں ۔کچھ تو راز ہے اس میں۔ ہم غور نہیں کرتے لیکن پرندوں کی موجودگی میں ایک عجیب قسم کے تحفظ کا احساس پوشیدہ ہوتا ہے۔ پرندوں کی موجودگی میں ہم خود کو خوف کے سایوں سے آزاد محسوس کرتے ہیں۔ جو لین ٹریژرکے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ :’’پرندوں کی ہزاروں سال کی قربت سے انسان نے یہ سبق سیکھا ہے کہ جہاں پرندے چہچہاتے ہیں وہاں امن اور شانتی ہوتی ہے۔‘‘

شاید یہی وجہ ہے کہ انسان نے امن اور شانتی کی علامت بھی ایک پرندے کو بنارکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ طوفان کے بعد حضرت نوح ؑ نے فاختہ کو حکم دیا تھا کہ جاؤ اور دیکھو سیلاب کا پانی اتر گیا؟ خشکی کا کوئی قطع اُبھرا ، جہاں زندگی کا بیج بویا جاسکے؟ فاختہ پھر سے اڑی اور تھوڑی دیر بعد اپنی چونچ میں تازہ زیتون کی ٹہنی تھامے زندگی کی نوید لائی۔ تب سے فاختہ زندگی اور امن کی پیامبر ہے۔

پرندوں کے گیت آپ کی زندگی میں شانتی لاتے ہیں اور آپ کو تفکرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ انگلینڈ میں بچوں کے سب سے بڑے ہسپتال Alder Hey Children's Hospital میں جائیں تو اس کے برآمدوں میں آپ کو ریکارڈ کیے گئے پرندوں کے گیت سنائی دیں گے۔ محسوس ہوگا کہ آپ ہسپتال میں نہیں پارک میں آگئے ہیں۔ سرجری کراتے وقت اور ٹیکے لگواتے وقت بچے یہ سُر سنتے ہیں۔ ان گیتوں کا معجزہ ہے بچوں کے اندر سے خوف ختم ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر اطمینان سے ان کا علاج کرلیتے ہیں۔

پرندوں کے گیت علاج ہی میں مددگار نہیں ہوتے خود علاج بھی ہیں۔میل آن لائن میں چھپنے والی تحقیق کے مطالق پرندوں کے قرب میں رہنے والے روزمرہ کے دباؤ سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کی دماغی صحت بہتر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ڈینیل کوکس (Dr Daniel Cox)کے بقول :’’گھروں اور فطری ماحول کے ارد گرد پرندے آپ کی صحت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور بیماریوں کے خلاف آپ کے اندر قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں ۔ان پرندوں کی بدولت ہمارے شہر صحت کی دولت اور خوشیوں کی نعمت سے بھرجاتے ہیں۔‘‘

آؤ اپنے شہروں کو چہچہاتے پرندوں سے آباد کریں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ