ایم کیو ایم نے واقعی حکومت چھوڑ دی تو سندھ میں نئے جوڑ توڑ شروع ہو جائیں گے

ایم کیو ایم نے واقعی حکومت چھوڑ دی تو سندھ میں نئے جوڑ توڑ شروع ہو جائیں گے

  



ایم کیو ایم کی علیحدگی حکومت سے ہوئی ہے مگر پیپلزپارٹی سے ناراضگی ہے ، ناراضگی اور علیحدگی میں فرق ہوتا ہے، کہ ناراضگی دوبارہ ملنے کے لیے ہوتی ہے۔ اور علیحدگی متاع میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ مگر اگر متاع کی بجائے واقعی ایم کیو ایم نے طلاق دی ہے تو پھر سندھ میں نئے اتحادوں اور جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، اور مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف بھی میدان میں آ سکتی ہیں جو ایم کیو ایم کو اپنے نزدیک لانے کے لیے سامنے آ سکتی ہیں مگر مسلم لیگ (ن) ایم کیو ایم کے قریب آئی تو اسے تحریک انصاف کا خوف اس پر مجبور کرے گا اور مسلم لیگ (ن) کو تحریک انصاف کی وجہ سے ایم کیو ایم کا کڑوا گھونٹ نگلنا پڑے گا۔ اگر ن لیگ یہ کڑوا گھونٹ نہ نگل سکی تو پھر پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی سندھ میں نئی جوڑی کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی بھی چلی تو پاکستان مسلم لیگ (ق) کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ملے گا جو نگران سیٹ اپ اور انتخابات میں پیپلزپارٹی کے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے اپنی شرائط پر جوڑ توڑ کرے گی پوزیشن میں جائے گی سو جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا مگر یہ خطرہ ہے کہ انتخابات 2013ءکا اعلان جوں جوں قریب آتا جا رہا ہے ایسے ایسے ہی ماحول اور فضاءمیں ہلچل مچ گئی ، بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کو ایک دفعہ پھر انسانیت کے دشمنوں نے خون میں نہلا دیا، اور کوئٹہ سمیت پورے ملک کی فضا سوگوار کر دی بلاشبہ کوئٹہ میں 65 بے گناہوں کے خون سے پاکستان کا چپہ چپہ افسردگی میں ڈوب گیا مگر دوسرا اہم واقع سندھ کے صدر مقام کراچی میں ہوا جہاں ایم کیو ایم نے اپنی علیحدگی کی پرانی تاریخ اور روایات کو ایک دفعہ پھر دہراتے ہوئے حکومت سے کنارہ کشی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے ایم کیو ایم کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ان کے کہنے کوئی نئی بات نہیں ہے شاہد یہی وجہ ہے کہ عوام نے ایم کیو ایم کے حکومت کو ”طلاق“ دینے کے اعلان پر عوامی حلقوں نے سنجیدگی سے لیا ہے، نہ سیاسی جماعتوں نے ، بعض سیاسی اور غیر سیاسی لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ایم کیو ایم جاتی ہوئی حکومت سے نگران سیٹ اپ میں من پسند ایسے لوگوں کو شمولیت کرانا چاہتی ہے اور حکومت کو کراچی سمیت سندھ مرکز میں اپنے بااعتماد وزراءاور بیورو کریٹس کو لگانے کے لیے ”ڈرامہ بازی“ کر رہی ہے اگر ایم کیو ایم کی حکومت میں رہتے ہوئے ”ایناں جانیاں“ دیکھی جاتیں تو اس پر جھوٹ نظر نہیں آتا، لگتا یہ بھی ہے کہ وہ اب کے بار موجود تنخواہ پر نہیں کرے گی۔ بلکہ آئندہ انتخابات میں اپنے ”وجود“ اور موجود ”اسٹیٹس“ کو قائم کرنے کے لیے کچھ آگے جا کر کھیلے گی، مگر یہ ضرور ہو گا؟ بعض لوگوں کا ایم کیو ایم کی حکومت سے ناراضگی پر تبصرہ سے کیا ایم کیو ایم ”وفا“ کم کرتی ہے سیڑھی کے آخری ڈنڈے پر چڑھا کر نیچے سے ڈنڈا کھینچ لینا بھی ان کا وطیرہ رہا ہے، جس کو وہ طاہر القادری سے ایم کیو ایم کے سلوک کی مثال دیتے ہیں یہ باتیں اپنی جگہ ایم کیو ایم سندھ کی گورنر شپ کھونا چاہتی ہے۔ نہ آئندہ کر اچی سے اپنا مقام کم کرنا چاہتی ہے۔ آخر حکومت ان کی ”خواہشات“ اور مطالبات کا احترام کر لے تو اب کہ بار بھی ایم کیو ایم اپنے مان کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کا دل نہیں توڑے گی، اگر حقیقتاً ایم کیو ایم کا حکومت کے اتحاد سے باہر آنے کا پروگرام بن چکا ہے اور اٹل فیصلہ ہے جو نظر نہیں آتا مگر سچ ہوا تھا۔ ایم کیو ایم کی حکومت کی علیحدگی اور ناراضگی کا سب سے بڑا فائدہ حکومتی اتحادی پاکستان مسلم لیگ (ق) کو ہو گا جو اس کا بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کی دوری سے پاکستان مسلم لیگ (ق) صدر آصف علی زرداری کے اور قریب آ جائے گی اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سمیت نگران سیٹ اپ میں حکومت سے من پسند فیصلے کرانے اور باقی مراعات حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گی، اور ایم کیو ایم کو حکومتی علیحدگی سے مسلم لیگ ق کو گھی کے چراغ بھی جلانا چاہیں کیونکہ نہ صرف حکومت میں بلکہ نگران سیٹ اپ میں بھی ان کی قدروقیمت بڑھ جائے گی۔ تاہم ہیرو بننے کےلئے مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین ایک مرتبہ پھر میدان میں آ جائیں گے اور ایم کیو ایم کو منانے کی کوشش کریں گے۔ تاہم یہ وقت پاکستان مسل لیگ (ق) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لئے گولڈن چانس ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے انہیں سیاسی انداز میں بھرپور طریقے سے کام کرنا ہو گا۔ اگر ایم کیو ایم حکومت میں واپس نہیں آتی تو پھر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے لئے لوشے ہی لوشے ہیں دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کے لئے سندھ میں ایم کیو ایم سے آئندہ انتخابات کےلئے الائنس میں سندھ کی حد تک رابطے بڑھ سکتے ہیں اگر ایم کیو ایم پیپلزپارٹی علیحدگی سے ن لیگ فائدہ نہ اٹھا سکی تو پاکستان تحریک انصاف ہی کمی کو پورا کرنے کے لئے سامنے آ سکتی ہے اور ایم کیو ایم سے جوڑ توڑ کر کے سندھ خصوصاً کراچی میں بھرپور ان ہونے کےلئے تحریک انصاف کے بہترین موقع ہو گا، اور ایم کیو ایم تحریک انصاف مل کر سندھ میں ن لیگ اور پیلزپارٹی کےلئے ٹف ٹائم کا باعث بن سکتی ہے تاہم ایم کیو ایم اونٹ کسی کروٹ بڑھتا ہے اس کےلئے آئندہ چند روز مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ جہاں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے آئندہ دنوں کے قریب آنے کا چانس زیادہ ہے مگر ایسا ہوا تو تحریک انصاف کو ایک مرتبہ پھر اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ جماعت کا طعنہ سہنا پڑے گا یہ ایک نکتہ ہے جو دونوں جماعتوں میں اتحاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔

مزید : تجزیہ