نئے صوبوں کا کھیل

نئے صوبوں کا کھیل
نئے صوبوں کا کھیل

  

پنجاب کی تاریخ کا جائز لیں تو صوبہ پنجاب گزشتہ دو سو سال سے(1799ءسے لے کر تک1947ئ) یعنی سکھ حکمران رنجیت سنگھ کے پنجاب کے قبضے (1799ءسے1849ئ) اور1849ءسے1947ء انگریزی برطانوی حکومت کے سامراجی دور میں بہت آفات اور ظالمانہ مصائب کا شکار رہ چکا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ1799ءمیں پنجاب پر رنجیت سنگھ اور سکھوں کے قبضہ کرنے کے بعد پنجاب کی تمام مساجد میں اذان پر پابندی عائد کر دی گئی، حتیٰ کہ پاکستان کی سب سے بڑی عالمگیری بادشاہی مسجد لاہور کو اصطبل بنا کر اِس میں گھوڑے باندھ دیئے! اِس کے بعد1849ءمیں جب انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر پنجاب پر قبضہ کیا تو پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی کی اکثریت کا تناسب75فیصد سے بھی زیادہ تھا اور پنجاب کی سرحد یں جنوبی مشرق کے شہر انبالہ سے لے کر پشاور سے آگے شمال مغربی علاقوں طور خم تک تھیں!

مسلمان آبادی کی فیصلہ کن اور غالب اکثریت کا تناسب برطانوی، انگریز حکمرانوں کو بہت کھٹکتا تھا، چنانچہ انہوں نے صریحاً، ناانصافی پرمبنی ڈنڈی مارتے ہوئے پنجاب کے مسلمانوں کو کمزور اور غیر مو¿ثر کرنے کے لئے آج سے 112سال قبل، یعنی 1901ءمیں اٹک کے شمال میں دریائے سندھ کے پار شمالی علاقوں میں واقع شہروں پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان،ایبٹ آباد وغیرہ کے99فیصد مسلم اکثریت کے شہروں اور علاقے کو پنجاب سے الگ کرتے ہوئے1901ءمیں شمال، مغربی سرحدی صوبہ کا نام دے کر ایک علیحدہ صوبہ بنا دیا۔ اب انگریز حکمرانوں نے باقی ماندہ پنجاب کے پانچ ڈویژن بنا دیئے، یعنی(1) انبالہ، (2) جالندھر ، (3) لاہور، (4) راولپنڈی، (5) ملتان اور اضلاع کی تعداد29کر دی، یعنی (1) انبالہ، (2) چسار، (3)رہتک،(4) گوڑ گانوہ،(5)کرنال،(6) شملہ، (7) جالندھر،(8) کانگڑہ،(9) ہوشیارپور، (10) لدھیانہ،(11) فیروز پور،(12) لاہور (13) امرتسر، (14) گورداسپور (15) سیالکوٹ، (16) گوجرانوالہ، (17) شیخوپورہ،(18) راولپنڈی،(19) گجرات، (20) سرگودھا،(21) جہلم،(22) اٹک، (23) میانوالی، (24) ملتان، (25) منٹگمری (ساہیوال)، (26) لائل پور(فیصل آباد)،(27) جھنگ، (28) مظفر گڑھ،(29) ڈیرہ غازیخان۔

انگریزوں کے ہاتھوں پنجاب میں مسلمانوں کو کمزور اور غیرمو¿ثر کرنے کے لئے پنجاب کو تقسیم کرنے کے باوجود پنجاب میں مسلم اکثریت تو قائم رہی، لیکن مسلم اکثریت کا تناسب کم ہو کر صرف56فیصد رہ گیا۔ قیام پاکستان کے وقت1947ءمیں ریڈ کلف، ماﺅنٹ بیٹن کے ذریعے پنجاب کو ایک بار پھر تقسیم کیا گیا اور پنجاب کے مذکورہ پانچ ڈویژنوں میں سے تین ڈویژن لاہور، راولپنڈی اور ملتان پاکستان کے حصے میںآئے! یہاں پھر ماﺅنٹ بیٹن، نہرو اور ریڈ کلف کی ملی بھگت سے لاہور ڈویژن میں شامل مسلم اکثریت کا ضلع گورداس پور بھارت کے حوالے کر دیا کہ گورداس پور کی تحصیل پٹھان کوٹ سے کشمیر کو راستہ جاتا ہے۔ اس ناانصافی سے بھارت کے لئے کشمیر پر قبضہ کرنا آسان ہو گا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ65سال سے کشمیری مسلمانوں کی تیسری نسل بھارتی ہندو متعصب غاصب حکومت کے ظلم کی چکی میں پس رہی ہے۔

1947ء میں پنجاب کی تقسیم سے مشرقی پنجاب کے دو ڈویژنوں، یعنی انبالہ اور جالندھر سے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کا لاکھوں کی تعداد میں جو قتل ِ عا م ہوا اور جس طرح تہذیبی اور عمرانی و سماجی تباہی مسلمانوں کی ہوئی۔ آج تقریباً پون صدی کا عرصہ گزر جانے کے باوجود دہلی، سہارن پور،اُتر پردیش (یوپی) اور بہار سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی طرح مشرقی پنجاب سے پاکستان آنے والے مسلمانوں کی تیسری نسل کو اب بھی سکھوں اور ہندوﺅں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام بھولا نہیں ہے۔ اب2013ءمیں پشاور سے حاجی عدیل کے علاوہ فرحت اللہ بابر اور کراچی سے فاروق ستار جیسے لوگ پنجاب کے نئے صوبہ بنانے کے لئے سرخیل بنے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کو پنجاب کی رائے عامہ اور پنجاب کے لوگوں کی نفسیات سے آگاہی کے سلسلے میں دُور پار کا واسطہ بھی نہیں ہے۔

حکومت نے پاکستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی کے علاوہ ضروریات زندگی کی اشیاءکی کمر توڑ مہنگائی کرتے ہوئے پاکستانیوں کا بُری طرح استحصال کیا ہے۔ یہاں تمام ضروریات زندگی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کی تفصیل بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے، صرف بنیادی انسان اور گھر کے لئے لازمی ضرورت، یعنی آٹے کی قیمت کا جائزہ لیں تو 2008ءمیں موجودہ حکومت سے قبل آٹا 13روپے کلو تھا جو آج 2013ءمیں37روپے کلو ہے۔ عوام کے مسائل کو نظر انداز کرنے کی مجرمانہ غفلت کا یہ عالم کہ پانچ دریاﺅں کے صوبہ پنجاب کا پانی بھارتی حکومت نے مسلسل روک کر بھارتی علاقے میں ان پر ڈیم اور بند تعمیر کر دیئے۔ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سے بھارت کو روکنے کے لئے حکومت بُری طرح ناکام رہی۔

سقوطِ مشرقی پاکستان سے قبل کشمیر، حیدر آباد (دکن) جونا گڑھ پر بھارتی قبضے کے المیوں کو ابھی پاکستانی بھولے نہیں ہیں اور یہاں باقی ماندہ پاکستان میں نئے صوبوں کے نام پر انارکی پھیلانے کا نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ بھارت سے ہی عبرت حاصل کریں کہ بھارت کا سب سے بڑا صوبہ اُتر پردیش(یوپی) آبادی کے اعتبار سے پاکستان کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے، لیکن بھارتی نیتاﺅں نے سستی شہرت یا ووٹ حاصل کرنے، اپنی نالائق، سکینڈل یافتہ، ملکی دولت لوٹنے پر مبنی عدالتی مقدمات میں ملوث ناخلف اولادوں کو خود ساختہ اور مصنوعی گورنر اور وزیراعلیٰ بنوانے کے لئے اُتر پردیش کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا اور یہاں پاکستان میں، جنوبی پنجاب کا اُشغلہ چھوڑتے ہوئے اپنی نالائق، نااہل اولادوں کو نوازنے کے لئے گھناﺅنے پروپیگنڈوں، ہتھکنڈوں اور گورکھ دھندوں کا لامتناہی سلسلہ اور چکر چلایا جا رہا ہے، جس نے ہر محب وطن اور باشعور پاکستانی کو اندیشہ ہائے دُور دراز میں مبتلا کرتے ہوئے چکرا کر رکھ دیا گیا ہے۔

گزشتہ پانچ سال میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں عوامی نمائندوں کی جو کارکردگی رہی، ناگفتہ ذاتی معاملات اور ذاتیات پر کیچڑ اُچھالنے کو بیان کر تے اور اسے قلم تک لاتے ہوئے حیا اور انسانیت کے تقاضے دامن گیر ہیں۔ 80فیصد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی گونگے پہلوان بن کر مکمل خاموش ہی رہے کہ جعلی ڈگریوں، مالی سکینڈلوں کے مارے ہو ئے، جاہل، اَن پڑھ، مال مست ممبران اسمبلی کے پاس کہنے کے لئے کچھ تھا ہی نہیں، لیکن اسمبلیوں کے الاﺅنس پر مبنی کروڑوں، اربوں روپے کی مراعات کے علاوہ تعیشات سے بھرپور رہائشی سہولتوں اور آمدو رفت کے لئے پیجرو، لینڈ کروزر گاڑیوں سے بھرپور انداز میں مستفید ہوتے رہے۔ ان گونگے پہلوانوں نے قسم کھانے کی حد تک بھی لب کشائی نہیں کی اور بقیہ15،20فیصد بولنے والے اراکین اسمبلی نے سیکنڈلوں اور ذاتیات پر مبنی کیچڑ اُچھالتے ہوئے ایسا طوفان بدتمیزی مچائے رکھا کہ ہر شریف انسان اس کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے:

 اب، جبکہ اسمبلیاں تحلیل ہونے میں چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں، تو ان گونگے پہلوانوں کی زبانیں اگر کھلی بھی ہیں تو انتہائی منفی کارروائی کی تائید، یعنی پاکستان کو صوبوں میں تقسیم کرنے کے لئے.... شاید، اپنے اپنے حلقہ ¿ ہائے انتخابات میں ووٹ مانگنے اور جھوٹے انتخابی وعدے کرنے کے لئے اُن کے پاس تمام جھوٹے وعدے بھی ختم ہو گئے ہیں اور صرف صوبہ صوبہ تقسیم کا کھیل دکھا کر ووٹ حاصل کرنے کا ڈرامہ باقی رہ گیا ہے! اور انہیں صرف اپنے اپنے مفادات اور تحفظات و لابی سے غرض ہے:

دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام

کشتی کسی کی پار ہو، یا درمیاں رہے!

اب جاتے جاتے یہ لوگ ”صوبہ صوبہ کھیل“ کی اس قوالی میں شامل باجا کی طرح راگ الاپ رہے ہیں اور جان بوجھ کر بے سرے ہو رہے ہیں۔      ٭

مزید :

کالم -