3 نومبر کو پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تھی یا مارشل لاء ؟

3 نومبر کو پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تھی یا مارشل لاء ؟
 3 نومبر کو پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تھی یا مارشل لاء ؟

  



جنرل پرویز مشرف نقب لگا کر اقتدار میں آیا تھا۔ ۱۰ سال سے اقتدار پر قابض تھا اور آئندہ بھی اقتدار چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔ عدلیہ بحال ہوچکی تھی اور جنرل مشرف کی دو عہدوں سے متعلق آئینی درخواست عدالت عظمی میں زیر سماعت تھی۔ عدلیہ کا آئینی کردار دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ جنرل پرویز مشرف غیر آئینی طور پر صدارت کے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ ایسے میں جنرل پرویز مشرف کو انتہائی اقدام اٹھانے کے مشورے دیے جانے لگے۔ جنرل مشرف کے قانونی مشیر شریف الدین پیرزادہ اور قیوم ملک جیسے وکلا تھے۔۔ یہ وکلا عدالت عظمیٰ میں تو جنرل مشرف کا آئینی تحفظ کر نہیں سکتے تھے۔ البتہ انتہائی اقدام اٹھانے کا مشورہ دینے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہ تھی۔ انہی مشیروں کے مشورے سے جنرل پرویز مشرف نے ۳ نومبر کو ایمرجنسی کا اعلان کردیا۔ یہ عجیب و غریب ایمرجنسی تھی جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

آئین کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ صدر پاکستان کرتا ہے لیکن یہ ایمر جنسی چیف آف آرمی سٹاف نے لگائی تھی۔

ایمرجنسی آئین کے تابع رہتی ہے اس سے آئین معطل نہیں ہوتا  لیکن اس ایمر جنسی نے آئین ہی معطل کردیا۔

ایمرجنسی میں چونکہ آئین برقرار رہتا ہے اس لیے پی سی او کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ پہلی ایمرجنسی تھی جو اپنے ساتھ پی سی او کا تحفہ بھی لے کر آئی۔

ایمر جنسی میں چند بنیادی حقوق معطل ہوتے ہیں جبکہ اعلیٰ عدالتیں برقرار رہتی ہیں۔ یہ ایمرجنسی پی سی او عدالتوں کا سندیسہ لے کر آئی۔

اس ایمر جنسی کے تحت فرد واحد نے آئین میں ترمیم کا حق حاصل کرلیا اس لحاظ سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایمر جنسی ہے۔

اس ایمرجنسی کا طرفہ تماشا یہ ہے کہ ایک شخص چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار استعمال کرتا ہے اور ایکرجنسی کے نفاذ کے بعد ایجرجنسی اٹھانے کا اختیار صدر پاکستان جو سونپ دیتا ہے اور صدر پاکستان بھی وہ خود ہے۔

مندرجہ بالا حقائق سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایمر جنسی درحقیقت مارشل لا تھا جو آٹھ سال بعد جنرل مشرف نے دوبارہ لگایا ۔ پہلا مارشل لا ایک آئینی حکومت جب کہ دوسرا مارشل لا ایک فعال اور آئین کی نگہبان عدلیہ پر شب خون تھا۔(یہ اقتباس لکھاری کی کتاب"جہد بے مثال" سے جو  پنجاب بار کونسل کی مطبوعہ ہے)

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...