بھولا تے چالاک بڑا اے

بھولا تے چالاک بڑا اے
بھولا تے چالاک بڑا اے

  

اتوار کے روز مٹر گشتی کی دھن سمائی تو وسیع و عریض بلاک کے تین چکر لگا لیے۔ چوتھے چکر کے لیے قدم بڑھانے ہی والا تھا کہ اچانک آواز کانوں میں پڑی: 

" ناصر میاں، آج تو آپ زمین کے گز بنے پھرتے ہیں۔ پاوں پر سنیچر سوار ہے۔ صبح دم منھ بنوا، خط گھٹوا، چترالی ٹولی سر پر جما، بوئے گل کی طرح کہاں چل کھڑے ہوئے ہیں۔  کچھ ہمیں بھی وقت دیجیے۔ دو دو باتیں ہو جائیں۔" 

ہمارے بزرگوار اپنے دوست وڑائچ صاحب کے ساتھ پارک کے گوشے میں بیٹھے گپیں اڑا رہے تھے۔ میں نے مٹر گشتی کو خدا حافظ کہا اور علیک سلیک کے بعد بزرگوار کی محفل میں بیٹھ گیا۔ بات چیت کا موضوع تھا: شعر و شاعری۔ ترقی پسند تحریک پر بات ہوئی تو میں نے ظہیر کاشمیری کا ذکر کیا۔ وڑائچ صاحب نے کہا ان کی کوئی نظم سنائیں۔ میں نے موبائل نکالا، ظہیر کاشمیری کی ایک نظم منتخب کی، گلا صاف کر کے کہا : 

"ظہیر کاشمیری کی یہ سننے والی نظم ہے۔" 

"سننے والی ہے؟" بزرگوار نے تیکھی چتون سے بھرپور نظر مجھ پر ڈالتے ہوئے کہا۔"میاں سننے والی نہیں سنائے جانے کے لائق ہے۔ یا سننے سے تعلق رکھتی ہے۔ " 

وڑائچ صاحب مسکرانے لگے۔ میں جھینپ سا گیا۔

" معافی چاہتا ہوں لیکن بول چال میں تو کچھ گنجائش ہونی چاہیے۔" میں نے دھیمے لہجے میں احتجاج کیا۔ 

"مقام استعجاب یے ناصر میاں!!  کیا بے ٹھکانے کی بات کہتے ہو؟ کیوں کند چھری سے ریتتے ہو؟ صافی مذاق آدمی کو یہ بات زیبا نہیں۔ بول چال میں روزمرہ کا خیال نہیں رہے گا تو لکھنے میں خاک دھیان دیا جائے گا۔ چلو اس بات کو اب جانے دیجیے۔  ذری ظہیر کاشمیری کی نظم تو سنائیے۔" بزرگوار نے قدرے خفگی سے کہا۔ 

میں نے جھینپ مٹانے کے لیے ذرا بلند آواز سے نظم پڑھنی شروع کی۔ مصرعہ پڑھا: "شور نہ ڈالو"

بزرگوار نے ہتھے پر ٹوک دیا: 

"خدا کی سنوار اس شاعری پر۔  شور نہ ڈالو؟ بھلا کوئی بات بھی ہے۔  یہ اردو ہے کیا؟ میاں، شور ڈالنا نہیں،  شور مچانا ہوتا ہے یا شور کرنا ہوتا ہے۔ ان شاعر صاحب کا تو روزمرہ صاف ہے۔ ایسی شاعری کو دور ہی سے ڈنڈوت ہے۔ سن کر طبیعت کو کلفت ہو گئی ہے۔  ایسا ایک مصرع زبان پر آئے تو پونے دو سو گھڑوں سے زبان صاف کیجیے۔ میاں، کیوں بے دیکھے بھالے ایسے شعرا پر ریجھتے ہو۔ ایسے میں تو آپ کا اپنا روزمرہ صاف ہو جائے گا۔"

" پھر کن شعرا کو پڑھیں؟ نئی پود کو تو آپ ماننے سے رہے؟"  میں نے نیم دلی سے کہا۔ 

" میاں، نئی پود کے شعرا تو نرے چونچ ہیں واللہ۔ لام کاف بکنا اپنی وضع کے خلاف ہے لیکن صاف تو یوں ہے کہ نئی پود تو فقط زٹل قافیے اڑا رہی ہے۔ 

میاں پڑھنا ہے تو جوش، حفیظ، ناصر، ابن انشا، داغ، غالب کو پڑھیے۔ خدا کی قسم قلم توڑ دیے۔ روزمرہ تو ان کی گھٹی میں ہے۔ ناصر میاں، میرا تو مشورہ ہے کہ  سب کو چھوڑ کر پہلے غالب کو پڑھیے۔" بزرگوار نے بلند آہنگ لہجے میں کہا۔ 

" بے ادبی معاف، غالب کو پڑھنا اور پھر سمجھنا کون سا آسان کام ہے۔" میں نے اپنی مشکل بیان کی۔ 

" غالب کب سے مشکل ہو گیا؟ غالب تو بہت آسان ہے۔ اگر مشکل ہے تو ہمارے وڑائچ صاحب ہیں نا مشکل کے حل کے لیے۔" بزرگوار نے وڑائچ صاحب کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ 

" وڑائچ صاحب؟" میں نے سوالیہ لہجے میں کہا۔  

"ہاں میاں، وڑاۂچ صاحب دیوان غالب  اور اس کے منظوم پنجابی ترجمے کے حافظ ہیں۔ آپ غالب کا کوئی شعر پڑھیے، یہ آپ کی مادری زبان پنجابی میں اس کا منظوم ترجمہ بیان کر دیں گے۔ ترجمہ بھی ایسا کہ تشریح کی حاجت ہی نہ رہے گی۔" 

"اچھا جی" میں نے کچھ بے یقینی سے کہا۔ 

"آزمائش کے لیے کوئی شعر پڑھیے۔" بزرگوار نے میرا استفہامیہ چہرہ پڑھتے ہوئے نادری حکم صادر فرمایا۔

" اچھا جی، اس شعر کے معنی سمجھا دیجیے وڑائچ صاحب: 

دل نہیں ورنہ دکھاتا تجھ کو داغوں کی بہار

اس چراغاں کا کروں کیا، کار فرما جل گیا"

وڑائچ صاحب (لہک کر): وااہ۔

دل ہندا تے آپے تینوں بلدے داغ وکھانداں

میں ایہہ دیوا کتھے بالاں، بالن والا بلیا

"واقعی پنجابی شعر نے اردو شعر کی تفہیم آسان کر دی ہے۔" میں نے وڑائچ صاحب کی تحسین کرتے ہوئے مزید  فرمائش کر دی: 

" سر جی،  ذرا اس شعر کا مطلب بھی بتا دیں: 

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا 

دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا 

وڑائچ صاحب: 

کیہہ آہناں ایں، دینا نہیئوں ، دل جے سانوں ڈگا لبھیا

دل تے اگے کول نئیں میرے، چور تے دل دا لبھیا

" کیا بات ہے۔ وااہ سر، اس غزل کے کچھ اور شعر بھی ہو حائیں۔" میں نے جوش سے کہا۔ 

" کیوں نہیں اعوان صاحب، ضرور" وڑائچ صاحب نے سر ہلا کر کہا۔ 

میں نے شعر پڑھا: 

سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری 

حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا 

وڑائچ صاحب: 

بھولا تے چالاک بڑا اے، بے پروا تے طاق بڑا اے

عشق ہمیشہ عشاقاں نوں بن انجان ازماندا لبھیا

" واہ، میرا خیال ہے کہ اس سے زیادہ آسان تشریح میں نے اس شعر کی نہیں سنی۔ اچھا اس کا مطلب بھی بتا دیں:

شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا 

آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا 

وڑائچ صاحب: وااہ یہ بہت آسان شعر ہے: 

متاں دے شور شرابے لون میرے پھٹاں تے سٹیا

ملاں جی نو بندہ پچھے، کیہہ ایہناں نوں چسکا لبھیا

" وااہ۔ سر جی، وڑائچ صاحب سے تو دیوان غالب سبقا سبقا پڑھنی چاہیے۔ " 

"کیوں نہیں، آ جایا کیجیے، ہر اتوار کو صبح کی سیر کے بعد ہم اسی گوشے میں آن براجتے ہیں۔" 

غالب کی غزل کا منظوم ترجمہ سن کر پورا دن سر شاری میں گزرا۔ 

آپ کو پسند آئی تو اگلے اتوار کو  بزرگوار کی محفل سے کچھ اور سوغات لاوں گا۔ 

۔

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

 ۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -