ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار

ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار
ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار

  

1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد ہندو لیڈروں نے اقلیتوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیئے نعرہ لگایا تھا کہ بھارت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ یہ ایک سیکولر سٹیٹ ہو گی۔ مگر بھارت کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ انہیں تعلیم، کاروبار، عبادت غرض زندگی کے ہر شعبے میں مذہبی تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں بھی مسلمانوں کے لیئے رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ مسلمانوں کے لیئے 5 فیصد کوٹہ تعلیم میں مختص کیا گیا تھا مودی حکومت نے وہ کوٹہ ختم کر دیا۔ مسلمانوں کی مساجد، مدارس پر حملے اور انہیں زبردستی ہندو بنانے کی مہم بھی زور و شور سے جاری ہے۔

بھارت میں مسلمان کل آبادی کا 14.2 فیصد ہیں۔ سرکاری اعدادو شمار مطابق قریب 19 کروڑ مسلمان ہندوستان میں موجود ہیں۔ جبکہ حقیقت میں تعداد پچیس کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔افسوس سب سے بڑی اقلیت ہونے کے باوجود تعلیمی، سماجی، سیاسی و معاشی لحاظ سے دلتوں سے بھی بدتر ہیں۔

مسلمانوں کی پسماندگی کی بڑی وجہ بھارتی حکومتوں سمیت دیگر سرکاری اداروں کا وہ متعصبانہ رویہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔ مسلم دشمنی اور تعصب کی بنیاد پر جیلوں میں بند قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔ 14 فیصد آبادی کے تناسب سے 22 فیصد مسلمان غیر قانونی طور پر سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم عروج پر ہیں۔ ہر روز کتنے ہی کشمیری نوجوانوں کو چھلنی کر کے اور بموں سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس جہان فانی سے رخصت کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 10 لاکھ بھارتی فوج گزشتہ 30 سال سے آگ و خون کے کھیل میں مصروف ہے۔ مودی حکومت نے ایک منظم منصوبے کے تحت ہندوستانی مسلمانوں کو تنہا کر کے رکھ دیا ہے۔ لوک سبھا میں ان کی کوئی آواز نہیں رہی۔ ریاستی انتخابات میں مسلمانوں کو بری طرح شہہ مات دی ہے کہ ان کا کوئی نام لیوا نہیں رہا۔ حالیہ اترپردیش ریاستی انتخابات میں 403 اراکین کی اسمبلی میں صرف 25 مسلمان امیدوار جیت پائے ہیں۔ جب کہ اترپردیش میں مسلمانوں کی تعداد تین کروڑ چوراسی لاکھ ہے۔ گائے ذبح کرنے اور گوشت کے استعمال پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ گائے ذبح کرنے کے خلاف مہم کے بل پر مسلمانوں کو ہراساں اور قتل کرنے کا ایسا سلسلہ شروع کیا گیا ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتا ہے۔ اب تک متعدد مسلمان ہندو بلوائیوں کے تشدد سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ہندو بلوائی گائے کا گوشت فروخت کرنے کے شبے میں مسلم قصابوں کو تشدد کا نشانہ بناتے رہتے ہیں یا ان کی دکانوں کو نذر آتش کر دیتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ دادری کے گا ؤں بسارا میں یہ افواہیں پھیل گئیں کہ محمد اخلاق نے اپنے گھر میں نہ صرف گائے کا گوشت ذخیرہ کر رکھا ہے بلکہ ان کا خاندان گوشت کو استعمال بھی کر رہا ہے۔ ان کے گھر پر ایک ہجوم نے حملہ کر دیا اور تشدد کر کے خاندان کے سربراہ 50 سالہ محمد اخلاق کو ہلاک جبکہ ان کے بیٹے کو شدید زخمی کر دیا۔ ہلاک ہونے والے شخص کی 18 سالہ بیٹی نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فریج میں گائے کا نہیں بلکہ ’’' بکرے کا گوشت تھا‘‘۔

نریندر مودی جب گجرات کے وزیراعلٰی تھے ان کے دور حکومت میں خونی فسادات میں 1000 سے زیادہ افراد لقمہ اجل بنے جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ ہندوستان میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں میں جو خوف کی فضا ہے اس کا کھلم کھلا اظہار سابق نائب صدر مملکت حامد انصاری نے اپنے الوداعی پیغام میں کیا ’’مسلمان اس ملک میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے‘‘۔ حامد انصاری کے تحفظات دور کرنے کی بجائے آر ایس ایس اور بی جے پی نے سابق نائب صدر کی مذمت کرنا شروع کر دی۔ مودی حکومت کا ہر نیا دن مسلمانوں کے لیئے ایک نیا باب کھول رہا ہے۔ لیکن دنیا بھر میں سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ملک کے طور پر پہچانے جانے والے بھارت کے خلاف نہ تو اقوام متحدہ خواب خرگوش سے جاگتی ہے اور نہ ہی امریکا اور یورپی ممالک کو یہاں پر اقلیت کے خلاف ہوتا ظلم نظر آتا ہے۔

ہندو انتہا پسند جماعت شیواسینا نے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ ہم سے اچھا سلوک چاہتے ہیں تو ہندو دھرم قبول کرنا ہوگا۔ شیواسینا کا مطالبہ ہے کہ بندے ماترم کا نعرہ لگائیں، ہندو بنیں بصورت دیگر پاکستان چلے جائیں۔ مودی سرکار کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کا سلسلہ نہ تو رک رہا ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی صورت نظر آ رہی ہے۔ اندھے قانون بنائے جا رہے ہیں جس کے باعث مسلمانوں کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ یوگی ادیتا ناتھ ہندو دیوتا کا اتنا بڑا پجاری ہے کہ مودی بہت جلد اس کے سامنے ایک اعتدال پسند سیاست دان نظر آئے گا۔ نفرت اور تنگ نظر سیاست کا ہمیشہ یہی انجام ہوتا ہے کہ اس میں نئے آنے والے بہت تیزی کے ساتھ اپنے پیشرو کے مقابلے زیادہ انتہا پسند ثابت ہوتے ہیں۔

اس موقع پر یہ بات اٹھانا ضروری ہے کہ کچھ دانشور حلقے تسلسل سے اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ تقسیم ہند کی بنیاد دو قومی نظریہ ختم ہو گیا ہے۔ قائداعظم نے ہندو سیاسی جماعتوں کی سیاست کو دیکھتے ہوئے بھانپ لیا تھا کہ یہ ہندو اکثریت کی بنیاد پر مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیں گے۔ پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کو اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ اس نے ہمیں ایک آزاد ملک دے کر اتنی بڑی نعمت سے نوازا جہاں ہم اپنی مرضی سے کاروبار زندگی اور مذہبی آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جسے پاکستان کی قدر جاننی ہے وہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی حالت زار پر نظر دوڑائے۔ اللہ ہمیں پاکستان کی قدر نصیب فرمائے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ