جسٹس دوست محمد کو سلام

جسٹس دوست محمد کو سلام

میں جسٹس دوست محمد کو نہیں جانتا، یوں بھی کہ میں لاہور میں رہتا ہوں اور وہ خیبر پختونخوا میں ۔۔۔ نہ کبھی ان سے ملاقات ہوگی نہ میرا کوئی کام ان سے متعلق تھا۔ مگر میں کہ ایک عام پاکستانی دیگر لاکھوں پاکستانیوں کی طرح جسٹس دوست محمد خان کو مورخہ 19 مارچ ان کی ریٹائرمنٹ پر سلام پیش کرتا ہوں۔

میرا ان سے تعارف پہلے پہل اخبارات کی خبروں سے ہوا، جب جنرل پرویز مشرف کے دور میں لاپتہ لوگوں کے بارے میں انہوں نے سماعت شروع کی اور بنیادی آئینی حقوق کی یاددہانی کرائی ۔۔۔ پتہ چلا کہ پشاور ہائیکورٹ میں ایک حساس دل رکھنے والا جواں ہمت جج بھی موجود ہے۔ پھر 3 نومبر کا پی سی او آیا تو جیسا کہ مجھے توقع تھی جسٹس دوست محمد خان اس آزمائش پر بھی پورا اترے بلکہ پیش پیش ٹھہرے!

پھر ججز کی بحالی تحریک میں بھی جسٹس دوست محمد خان نے تحمل اور اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کیا۔ ججز بحال ہوئے تو اگرچہ سبھی ججز سے قوم کو بہت سی توقعات تھیں، مگر چند ہی ان توقعات پر پورا اترے جن میں جسٹس دوست محمد خان بھی تھے۔ اکثر اوقات میں اخبارات میں پڑھتا کہ وہ بنیادی آئینی حقوق کے بارے میں کیسز کی سماعت کرتے ہوئے نہایت جرأت مندی سے ایسے سوال پوچھ جاتے جنہیں پوچھنے سے عقل مندوں نے منع کر رکھا ہے۔ تاہم وہ بنیادی آئینی حقوق کے دفاع کے لئے لڑتے رہے، حکم نامے جاری کرتے رہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ بنے تو ٹرائل میں تاخیر کے خلاف اقدامات شروع کیے۔ صوبے میں موبائل عدالتیں تشکیل دی گئیں، مصالحت اور ثالثی کے مراکز قائم کئے گئے۔ عام شہریوں کی داد رسی کے لئے ای سسٹم شروع کیا گیا۔

اس کے بعد میں نے اخبارات میں ہی پڑھا کہ وہ سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوگئے مگر انسانی حقوق کے کیسز وہ یہاں بھی سنتے تھے۔ پھر ایک دن اخبارات میں ان کا ایک ایسا ریمارک چھپا کہ میرا دل ان پر فدا ہوگیا۔ جسٹس صاحب نے لاپتہ اشخاص کے مقدمے میں فرمایا تھا کہ بہتر ہوگا کہ ایجنسیوں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کو آئین پڑھایا جانا چاہئے۔

مجھے نہیں معلوم کہ کیا معزز عدالت کے حکم پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے یا نہیں، تاہم میں اتنا جانتا ہوں کہ اس ملک میں، اس فضا میں، جہاں ہر آزادی مطیع کئے جانے کا عمل جاری ہے، جج صاحب کا فرمان کرنا ہی کافی تھا وگرنہ ہم نے دیکھا ہے کہ کیس لگتے ہیں، بوڑھے ماں باپ روتے پیٹتے ہیں مگر وہ منصف بھی ایک آہ بھر کر واپس چیمبر کو ہی جانا مناسب سمجھتے ہیں، جو بات بات پر ملک کے وزیراعظم کو اڈیالہ جیل یاد دلاتے اور چشم زدن میں گھر بھجواتے ہیں۔

یہ بھی جسٹس دوست محمد خان ہی تھے، جنہوں نے فاٹا میں ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دیا اور UN کے ضابطوں کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔ اب اگر آپ کے ذہن میں یہ سوالات کلبلا رہے ہیں کہ پانامہ پیپرز کیس، نااہل پارٹی صدر کیس، 62,63 کیس، وغیرہ وغیرہ میں جج صاحب کی کیا رائے تھی تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ انہیں یہ کیسز سننے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہفتے قبل نہال ہاشمی کیس میں وہ بھی معزز بینچ کے ممبر تھے مگر وہ فیصلے میں شریک نہیں بنے۔

دلچسپ ماجرا جنگ/جیو توہین عدالت کیس میں ہوا (حالانکہ جنگ اور جیو آئین اور جمہوریت کے لئے بڑی جدوجہد کر رہے ہیں) جہاں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس منصور علی شاہ کے ساتھ مشاورت کے بعد توہین عدالت کارروائی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ حسن گمان ہے کہ جسٹس دوست محمد خان نے ضروری بنیادی آئینی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے احترام کو توثیق بخشی ہوگی۔ یہ اندازہ ان کے ریمارکس سے بھی لگایا جاسکتا ہے جب انہوں نے پاکستان کے ایک بڑے تحقیقاتی رپورٹر احمد نورانی جنہیں قوم کی محبتوں کا تحفہ حاصل ہے،کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور ملزمان کے نہ پکڑے جانے پر اظہار افسوس بھی۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ہم لوگوں کو غیر ضروری طور پر توہین عدالت سے نہیں ڈرا سکتے۔ انہوں نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ اس ملک میں قانون و آئین چلے گا یا کسی اور کی چلے گی۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے اگر آنے والی نسلوں کو ایک بہتر ملک دینا ہے تو ایسی باتوں سے نکلنا ہوگا۔

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے جج کے طور پر جناب جسٹس دوست محمد خان نے آئین اور قانون کے علم کو صحیح طور پر تھامے رکھا اور جرأت اور بہادری سے آئین کا دفاع کیا۔ وہ کسی بھی ایسے متنازعہ فیصلے میں شامل نہیں رہے جن پر آج قوم میں بحث جاری ہے اور صحت مندانہ تنقید ہو رہی ہے۔ آج جب ملک کے نامور قانون دان اور موقر اخبار بشمول ڈان اپنے اداریوں میں بعض فیصلوں پر سوال اٹھا رہے ہیں اور عدالت کے بڑھتے ہوئے دائرہ اختیار پر نکتہ چین ہیں، جسٹس دوست محمد خان نے اکثر ایسے فیصلے دئے جن سے بنیادی آئینی حقوق محفوظ ہوتے ہیں۔ انہوں نے جج کے وقار/احترام کو قائم رکھا ہے۔ انہوں نے جمہوریت کے خلاف ہونے والی کسی بھی سازش کا حصہ بننے سے ہمیشہ انکار کیا ہے اور آنے والے ججز کے لئے شاندار مثال چھوڑی ہے۔

آج جب ہر طرف ایک خاص پاپولزم کی لہر ہے اور ٹی وی ٹکرز کی دنیا میں ہم جی رہے ہیں، جسٹس دوست محمد خان نے مناسب یہی سمجھا کہ وہ صرف اور صرف آئین و قانون تک محدود رہیں اور کسی ڈرامائی ڈائیلاگ کا حصہ نہ بنیں۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی ان کے کسی ریمارکس سے کسی کے لئے طنز یا تضحیک کا پہلو نکلا ہو جبکہ ہر طرف ایسے ریمارکس بکھرے پڑے ہیں، جو بنیادی حقوق کے ہی خلاف ہوں۔

مجھے فخر ہے میں جسٹس دوست محمد خان کو ان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر خراج تحسین پیش کر رہا ہوں، کیونکہ آئیڈیل جج وہی ہوتے ہیں جو آئین کے محافظ ہوتے ہیں۔

کالم نگار پاکستان کے پہلے بینکنگ روزنامہ کے ایڈیٹر اور LCCI کے کارپوریٹ ممبر ہیں۔

مزید : رائے /کالم