ردالفساد اور پنجاب پولیس کی دعوت فساد

ردالفساد اور پنجاب پولیس کی دعوت فساد
ردالفساد اور پنجاب پولیس کی دعوت فساد

  


اپنے تحفظ کے نام پرامریکہ کی افغانستان پر چڑھائی اور پاکستان دشمنوں کی طرف سے لگائی گئی دہشتگردی کی آگ میں پاکستان ایک طویل عرصے تک سلگتا رہاہے۔دہشت کے اس دور میں گھر سے نکلتے ہوئے کسی کو واپسی کایقین نہ ہوتاتھا۔ اس زمانے میں امن کے لئے آپریشن ’’ راہ نجات‘‘ شروع کیا گیا ، پھر سابق سپہ سالار راحیل شریف نے آپریشن’’ضرب عضب ‘‘شروع کرنے کا اعلان کیا جسے حکومت وقت کی مکمل حمایت بھی حاصل تھی۔اس آپریشن کے نتیجے میں دہشتگردوں کا وزیرستان سے خاتمہ ہوا لیکن کچھ دہشتگرد افغانستان اور چند ملک کے دیگر حصوں میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔پاک فوج کے موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئے ملک بھر میں آپریشن ’’ردالفساد‘‘شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں بھاگنے والے دہشتگردوں کا انٹیلی جنس بنیادوں پر پیچھاکرنے کا مرحلہ شروع ہوا۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پولیس اور دیگراداروں کو بھی اس آپریشن کا حصہ بنایاگیا۔فوج اول روز سے قربانیاں دیتی آئی ہے۔ لیکن کیا واقعی پولیس بھی پاک فوج کی طرح چابکدستی سے کام کررہی ہے ؟

ضلع میانوالی کے تھانہ چکڑا لہ کی حدود میں ہونیوالے ایسے ہی ایک آپریشن سے متاثرہ اور دلبرداشتہ پاک فوج کے سابق افسر کا جواب بھی نفی میں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس آپریشن کی آڑ میں اپنے سیاسی و ذاتی مقاصد پورے کررہی ہے۔ وہ پولیس کی کارروائی کیخلاف نوحہ کناں تھے اور اس کے خلاف مختلف فورمز سے رجوع کرنے پر غور کررہے تھے لیکن ساتھ ہی اس پر بھی متردد تھے کہ آخر کس فورم سے رجوع کریں۔ ۔۔ اس عدالت سے جہاں زیرسماعت مقدمات میں پولیس شواہد بھی پیش نہیں کرتی ، ہائیکورٹ تک کو پنجاب کے متعلقہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں بند کرانا پڑتی ہیںیا پھر گرفتاری تک کے احکامات دینے پڑتے ہیں۔ جی ہاں وہی نئی وردی والی پولیس ، جس کی زیتونی شرٹ پر نہ تو نام ہے تو نہ ہی کوئی عہدے کی شناخت۔۔ ۔دوسرا آپشن عسکری فورم ہے لیکن وہ اسے استعمال کرنے سے گریزاں تھے کیونکہ اس آپریشن کے دوران پویس کے ساتھ پاک فوج کے اہلکار موجود نہیں تھے ۔ نیم قبائلی علاقے چکڑالہ ، وادی نمل کے مقامی سیاست سے بالکل کنارہ کش تاہم برادری میں اثرورسوخ رکھنے والے اس سابق فوجی افسر کا بنیادی سوال ’’ چادر اور چاردیواری کے تحفظ ‘‘ کا تھا۔

اس سابق فوجی افسر نے جو تفاصیل بتائیں اس نے میرے جسم میں جھری جھری پیدا کردی۔ ’’چادر اور چار دیواری‘‘ ۔۔۔ کئی جلسوں، ٹی وی شوز اور مختلف لوگوں سے یہ سن چکا ہوں لیکن آج اس کا مفہوم کہیں گڈمڈ ہوگیا ہے،ایسے آپریشن کے احکامات دینے والے افسران، نگہبان ، عدلیہ ، کوئی بھی متعلقہ ادارہ یا اس کا سربراہ اس جملے کا مطلب سمجھا دے یا پھر اس جملے پر ہی پابندی لگوادے تاکہ آئندہ کیلئے یہ اصطلاح ذہنی اذیت نہ دے۔ ۔ ۔

دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والے اسی پاکستانی کے بقول ’’ میں گھر پر موجود نہیں تھا،دوپہر کے وقت پولیس کی گاڑیاں آئیں ،جہاں دروازہ کھلادیکھا، وہیں اہلکار گھس گئے، ایک گاڑی میرے صحن میں آکر رکی ، آتے ہی مرد اہلکاروں نے چھلانگیں لگائیں اور گھر میں موجود خواتین سے بدتمیزی شروع کردی، ان کیساتھ کوئی بھی خاتون اہلکار موجود نہیں تھی اور نہ ہی عدالتی وارنٹ کا سوال کرنیوالا کوئی مردگھر میں موجود تھا۔ ۔ ۔میری انٹرمیڈیٹ کی طالبہ بیٹی گھبرا کر پڑوسیوں کے گھر کی طرف بھاگ گئی، میری اہلیہ کو اہلکاروں نے گھر کے کمروں میں لے جانے کی کوشش کی لیکن اس نے مرداہلکاروں کے ساتھ کمرے میں جانے سے انکار کردیااور دروازے کو پکڑ کر کھڑی ہوگئی، اہلکاروں نے خاندان کے سربراہ اور اسلحہ کے بارے میں استفسار کیا جس کا جواب ملتے ہی اہلکاروں نے اسلحہ اٹھایا اور ڈراتے دھمکاتے گاڑیوں میں سوار ہوئے اور یہ جا، وہ جا۔۔۔ان کے گھر سے جاتے ہی اہلخانہ سے ٹیلی فون پر اطلاع ملی تو پاک فوج کی متعلقہ برانچ، ڈاکخانہ اور ضلع میانوالی کی اسلحہ برانچ میں رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ ہونے کی وجہ سے تھانے جا کراسلحہ لے آئے ۔ ۔ ۔ اسلحہ لے جانے یا آپریشن پر کوئی اعتراض نہیں لیکن تحفظات ہیں تو ان کے منفی طریقہ کار پر ۔ ۔ ۔‘‘ اس سابقہ فوجی افسر کی گفتگو کے دوران اس آپریشن سے بھی دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ گزشتہ دنوں انہی کے ایک عزیز نے اپنی پانی کی موٹرچوری ہونے پر پولیس کو اچھا خاصا امتحان میں ڈالا تھا ،دعووں کے برعکس کوئی ہاتھ پاؤں ہلانے کی بجائے پولیس روایتی طور پر لیت و لعل سے کا م لیتی رہی لیکن مقامی سیاسی شخصیت ہی ڈرامائی طورپر اصل ملزمان کا سراغ لگاکر سامنے لے آئی تھی ۔ موٹرچور ڈھونڈنے میں ناکام وہی زیتونی وردی والی پولیس نے مدعی کے عزیز وں کے گھر پر چڑھائی کردی۔ خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔

پاک فوج میں دوران سروس پیش آنیوالے واقعات اور ساتھیوں کے قصے سنانے والے اس 55سالہ شہری نے بتایاکہ وہ نیم قبائلی علاقے میں رہتے ہیں ۔ خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ہے اور نہ ہی کسی غیرمرد کو گھر کے اندر آنے کی، نانی دادی بننے کے بعدہی خواتین سودا سلف لینے گھر سے باہر نکلتی ہیں ، ایسے روایتی دیہی معاشرے میں مردوں کا کسی بھی گھر میں دھاوابول دینا اور عورتوں سے بدتمیزی کرنا’’فساد کو رد کرنا‘‘ نہیں بلکہ فساد کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ ۔۔ اگر کوئی بھی مرد اپنی بہن یا بیٹی کو باوردی مرد اہلکاروں کے ہاتھوں تذلیل دیکھ کر ناخوشگوار قدم اٹھا لے۔ ۔ ۔ اسے جوابی کارروائی میں مار دیا جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟؟ کون کہاں سے انصاف مانگے گا؟ اسی پولیس سے جو اس وقت مقابلہ قراردے کر اپنے نمبر ٹانگنے کی کوشش میں جتی ہوگی یا پھر عدالت سے جہاں سے متاثرہ خاندان عدالتی نظام کے ہاتھوں عمر بھر خوار ہوتا رہے گا، یہ بھی ممکن ہے کہ مقابلے میں مارے جانے کے اعلانات کے بعد متاثرہ خاندان سامنے آنے سے گھبرائے ۔ ۔ ۔ ‘‘بات میں دم تھا ، میں تھوڑی دیر خاموش رہا کیونکہ میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ آرپی اوسرگودھا، ڈی پی او میانوالی اور متعلقہ ایس ایچ او سمیت ان آپریشنز سے متعلقہ تمام افراد کو اپنی حکمت عملی پرنظر ثانی نہیں کرنی چاہیے اور مرد اہلکاروں کے ساتھ ساتھ لیڈیز اہلکاروں کی موجودگی بھی یقینی بنانی چاہیے۔اور پولیس کو ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی کسی بھی حرکت سے گریز نہیں کرنا چاہیے جس کی وجہ سے ملک بھر میں دہشتگردی کیخلاف جاری آپریشنز یا پاک فوج کے عزت و وقار پر سوالیہ نشان لگے۔

ہم ایک ہی نسخہ ہر مرض کے علاج کے لیے کیوں آزما تے ہیں۔ شہری اور دیہی علاقوں کے اپنی اپنی روایات ہوتی ہیں اور معاشرے اپنی روایات کے تحفظ کے لیے ڈٹ جایا کرتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں کوئی بھی یہ توقع نہیں کرتا کہ اس کی بہن ، بیٹی ، بیوی یا ماں کو کوئی بھی ہراساں کرے یا زبردستی کسی کام پر مجبور کرے بالخصوص قبائلی معاشروں میں ہرممکن حدتک مزاحمت ہوتی ہے ۔ ۔۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ