تشدد کا ذمہ دار کون ؟احتجاج کی کال دینے والے کسی سڑک پر نظرنہ آئے

تشدد کا ذمہ دار کون ؟احتجاج کی کال دینے والے کسی سڑک پر نظرنہ آئے
تشدد کا ذمہ دار کون ؟احتجاج کی کال دینے والے کسی سڑک پر نظرنہ آئے

  

یوم عشق رسول منانے اور شرانگیز فلم کے خلاف فرزندان توحید کا جذبہ دیدنی تھا مگر پرامن مظاہرے پرتشدد اس لئے بن گئے کہ سڑکوں پر آنے کی کال دینے والے ملک بھر میں کسی سڑک پر نظر آئے نہ کسی مظاہرے میں اگر عشق رسول میں باہر آنے والے معصوم نوجوانوں کو گائیڈ لائن اور قیادت کرنے والی ہستیاں موجود ہوتی تو کبھی گاڑیاں نذر آتش ہوتیں نہ 4 بے گناہ مارے جاتے نہ املاک جلائی جاتیں نہ بینک لوٹنے کی کوششیں ہوتیں اور ہم دنیا میں ایک مہذب معاشرے اور محبت کرنے والی قوم کے طور پر سامنے آتے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو اکیلے کیوں چھوڑ دیا گیا اگر قیادت موجود نہ تھی تو سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات ہی کر لئے جاتے تو یہ کچھ نہ ہوتا جو یوم عشق رسول کے موقع پر ہوا کراچی ،پشاور جیسے شہروں میں وزراءاعلیٰ ہاﺅسز تک کی سیکورٹی اداروں کے منہ پر طمانچہ تھا ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت سب کچھ کرایا جا رہا ہے یہ سب باتیں اپنی جگہ مگر ناموس رسالت کے لئے میں اور میرے بچے والدین و عزیز اقارب میرا مال جان سب کچھ قربان میرے سمیت تحفظ ناموس رسالت کے لئے ملت اسلامیہ کا بچہ بچہ کٹ مرنے کے لئے تیار ہے اور ہمیں تیار بھی رہنا چاہئے چونکہ ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک آنحضور سے ہر مسلمان کے اپنی محبت کا اظہار اپنی اولاد جان و مال والدین سے زیادہ نہ کرے اس کا اظہار گزشتہ روز یوم عشق رسول کے موقع پر ہر شہر شہر ،گلی ،گلی ،کوچہ کوچہ اور قریہ قریہ نظر آیا۔ لوگ اپنے اہل و عیال معصوم اور شیر خوار بچوں کے ہمراہ ذوق در ذوق سڑکوں پر امنڈ آئے اور ہر ایک نے گستاخانہ فلم بنانے والے مردود اور ملعون فلم ساز پادری اس کے پروڈیوسر کے خلاف نفرت و غصہ کا اظہار دل کھول کر اظہار کیا اس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بڑا مضبوط پیغام دیا حضور اکرم کے غلاموں پروانوں نے ایسا پیغام دیا ہے امریکہ کے وائٹ ہاﺅس میں بیٹھے صدر اوباما اور اس کے اتحادیوں ساتھیوں پر بھی ایک وقت کے لئے لرزہ ضرور طاری ہوا ہو گا اور ہونا بھی چاہئے۔ اسے معلوم ہو جاناچاہئے کہ یہ حضور کے پروانے ان کی ناموس کے تحفظ کے لئے بچہ بچہ کٹ مرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ پہلا موقع ہے ہم پوری قوم ایک زبان ہو گئی تحفظ ناموس رسالت کے لئے سڑکوں پر تمام تر سیاسی پارٹیاں رنگ و نسل کی تمیز کئے بغیر یہ عاشق رسول آ گیا۔ مگر جہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سڑکوں پر پرامن مظاہرے جب پرتشدد بنے تو اس کے پیچھے کون تھا؟ جن لوگوں نے سب کو باہر نکلنے کی کال دی وہ لیڈر شپ کہاں گئی جس نے نوجوانوں اور معصوم نوجوانوں کے جذبات کو قابو کرنا تھاوہ سین سے کیوں غائب ہو گئی اس کے ساتھ ساتھ میڈیا خصوصاً الیکٹرونک میڈیا میں بریکنگ نیوز اور مقابلے کی دوڑ میں کہاں تک جائیگا۔ دنیا و عالم میں بریکنگ اور مقابلہ کی دوڑ بھی ہے مگر پاکستان میں ہمارا ترقی کے ارتقا سے گزرتا یہ الیکٹرانک میڈیا کس حد تک جانا چاہتا ہے کیا کیا گل کھلوانا چاہتا ہے دنیا کا میڈیا جب ان کے کیمرے کی آنکھ گھیراﺅ جلاﺅ یا اپنے ہی وطن کے منافی یہ آنکھ ہونے کا خدشہ ہوا تو وہ میڈیا ہمارے میڈیا کی طرف مقابلے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوتا اور اپنے کیمرے کی آنکھ کا رخ کسی اور طرف موڑ لیتا ہے مگر سنا جائے ہمارے میڈیا کو یہ سوچ کب آئیگی۔ اگر یوم عشق رسول پر پرتشدد مظاہروں کا ذمہ دار مختلف جھنڈوں والی مذہبی جماعتوں کی اس قیادت کو ٹھہرایا جائیگا تو پھر جو لاہور سمیت پورے ملک میں کہیں مظاہرے میں نظر آتی نہ قیادت کرتی ہوئی تو پھر ترقی کی طرف بریکنگ نیوز کی دوڑ میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کا بھی نام آتا ہے چونکہ جب بعض چینلز نے پرتشدد مظاہرے پشاور میں لائیو دکھائے تو پھر یہ سلسلہ پورے ملک میں ایسا شروع ہوا کہ 4 جانیں بھی گئیں 100 سے زائد بے گناہ زخمی بھی ہوئے ایک غریب پولیس اہلکار کراچی میں مار دیا گیا پشاور میں کئی سینما گھر نذر آتش ہوئے عمارتیں جلائی گئیں بینک لوٹے بھی گئے جلائے بھی گئے۔ بند عمارتوں میں توڑ پھوڑ ہوئی گاڑیاں جلانا بھی معمول بنا رہا۔ مگر یہ اس وقت ہوا جب پشاور کے مناظر دکھائے گئے اگر میڈیا بریکنگ نیوز کے چکر میں ایسا نہ کرتے تو شاید ایسا نہ ہوتا دوسرا کہ میڈیا کے علاوہ اس کی ذمہ داری ان پس پردہ قوتوں پر بھی ڈالنا ہو گی وہ مذہبی ہوں کالعدم تنظیمیں ہوں ،ایجنسیاں ہو جس بے قابو حالات کو قابو کرنے میں نہ صرف موقع سے غائب نظر آئیں بلکہ انہوں نے سیکورٹی صرف امریکی اور دیگر غیر ملکی سفارتخانوں کونسل خانوں کی حفاظت تک محدود رکھی مگر جہاں ان قوتوں کو مجبور کرنا ہو گا کہ وہ آئندہ ایسے واقعات کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے مغرب میں بھی حضور کی شان اور عظمت کو متعارف کرانے کے لئے قانون سازی کریں اور دوسری طرف اپنے اندر ان ”قوتوں“ کو تلاش کرنا ہو گا جو مذہب کے نام پر نوجوانوں کو پرتشدد بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ورنہ ایسا ہوتا رہے گا۔ گزشتہ روز پرتشدد مظاہروں میں ہر طرف ڈنڈا بردار نوجوانوں کے دستے نظر آئے اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ سارے سین فلمانے کی پلاننگ پہلے سے کی گئی تھی مگر اس کے پلانر موقع سے غائب تھے جنہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے مگر کوئی حکومت انہیں تلاش کرکے سامنے لانے کی طاقت نہیں رکھتی۔

مزید :

تجزیہ -