حلقہ 120میں صدر ٹرمپ آئے گا

حلقہ 120میں صدر ٹرمپ آئے گا
 حلقہ 120میں صدر ٹرمپ آئے گا

  

سابق صدر زرداری نے بلاول ہاؤس لاہور میں میٹنگ تو حلقہ 120میں انتخابی تیاریوں پر بحث کے لئے بلائی تھی لیکن ان کی تقریر سن کر یوں لگا کہ وہ حلقہ 120میں انتخابی معرکہ نواز شریف کے خلاف نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف لڑنے جا رہے ہیں۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ اول تو سابق صدر اس میٹنگ کی صدارت کے لئے مقررہ وقت سے لگ بھگ تین گھنٹے تاخیر سے پہنچے اور اس کا سبب یہ بتایا کہ وہ صبح چھے بجے ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ تقریر سن کر سوئے جس میں انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی بیان کی تھی ، پھر اس کے بعد انہوں نے پوری تقریر ٹرمپ کو جواب دینے میں گزار دی !

انہوں نے بتایا کہ وہ واشنگٹن کی سیاست کو خوب اچھا سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی گلہ کیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف ، جنھیں انہوں نے مودی کا یار کہہ کر بھی بلایا، نے وہاں کسی لابنگ فرم کو پاکستانی بیانیہ عام کرنے کے لئے ہائر نہیں کیا جس کا نتیجہ صدر ٹرمپ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے جب اپنے سامعین کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں بتاؤں گا نہیں کہ کب پاکستان سے جنگ لڑوں گااور ساتھ ہی لقمہ دیا کہ وہ صدر ٹرمپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم پاکستانی سچے مسلمان ہیں اور پاکستان افغانستان نہیں ہے تو جیالوں نے شیروں کا شکاری ، زرداری زرداری کے فلک شگاف نعرے بلند کرنے شروع کردیئے ، یہاں تک ایک جیالا بہت زیادہ جذباتی ہوگیا اور روہانسی آواز میں کہنے لگا کہ زرداری صاحب ! ٹرمپ کو بتادیں کہ ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہنی ہوئی ہیں .....بس جناب ! پھر تو مولا دے اور بندہ لے کے مصداق اگلی واری پھر زرداری کا غلغلہ بلند ہو گیا اور زرداری صاحب نے اپنے سر کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس دھرتی (پاکستان ) کو دماغ سے بچائیں گے جیسے بنگلہ دیش بننے کے بعد بھٹو نے اپنے دماغ اور کام سے پاکستان کو بچایا تھا، ہم نے پاکستان کا بیانیہ دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔ صدر زرداری نے احتیاطاً آرمی چیف کی ستائش بھی کردی اورکہا کہ انہوں نے افغان بارڈر پر تار لگا کر بڑا اچھا کام کیا ہے!

سابق صدر زرداری سے قبل پارٹی کے اکابرین حلقہ 120میں انتخابی حکمت عملی کو اپنی تقاریر میں زیر بحث لا رہے تھے کہ اچانک ایک پرانا جیالا واجد علی شاہ اپنی کرسی پر کھڑا ہوگیا اور آصف زرداری سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ صدر صاحب ! میں نے اخبارات میں پڑھا ہے کہ آپ موہنی روڈ پر آنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو حلقے کی صورت حال ہے اس کے پیش نظر میراآپ کو مشورہ ہوگا کہ آپ یا بلاول حلقے میں تشریف نہ لائیں کیونکہ ہم حلقے میں رہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ حالات ہمارے حق میں نہیں ہیں ۔ اس پر حاضرین میں چھائی خاموشی بتارہی تھی کہ انہیں واجد علی شاہ کی بات سے اتفاق ہے کیونکہ کسی نے بھی اس کو ٹوکا نہ روکا اور نہ ہی اس کی بات مکمل ہونے کے بعد کوئی تنقید کی البتہ جب سابق صدر زرداری تقریرکرنے آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن فیصل میرکا نہیں آپ کا اور میرا ہے اور لوگ جن خدشات کا اظہار کر رہے ہیں اس کا سبب 2013میں ہونے والا آراوز کا الیکشن تھا ۔ میں نے وہ الیکشن اس لئے مانے تھے کہ میں جمہوریت بچانا چاہتا تھا اور جمہوریت کتنی بھی بری ہو، آمریت سے بہتر ہوتی ہے ۔ اب میں بھی حلقے میں آؤں گا اور بلاول بھی آئیں گے ، اس پر ایک مرتبہ پھر اگلی واری پھر زرداری کا ورد بآواز بلند شروع ہو گیا اور واجد علی شاہ ’کامعاملہ دب گیا‘!

بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں 2018کے بعد بننے والی پیپلز پارٹی کی حکومت کی نوید سناتے ہوئے بتایا کہ اس مرتبہ خواتین کے بعد نوجوانوں کے لئے بھی بے نظیر انکم سپورٹ کا اجراء کیا جائے گا اور یونیورسٹی تک نوجوانوں کے لئے تعلیم مفت کردی جائے گی ، صحت کی سہولیات مفت کردی جائیں گی وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ بلاول زبانی تقریر کر رہے تھے اس لئے یہ اعلانات کرتے ہوئے الفاظ کا چناؤ کرنے میں ناکام رہے اور الفاظ گڈ مڈ کرنے لگے تو جیالوں نے صورت حال کو سنبھالنے کے لئے ان کے حق میں نعرے لگانے شروع کر دیئے۔

مختصر یہ کہ حلقہ 120پر منعقدہ اجلاس میں دنیا بھر کی بات ہوئی ، نہیں ہوئی تو لیڈرشپ کی طرف سے حلقے میں الیکشن جیتنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس بات نہیں ہوئی ، ایسا لگا جیسے آصف زرداری سمجھتے ہیں کہ حلقہ 120تو ان کی جیب میں پڑا ہے ، البتہ اگر کوئی مسئلہ ہے توصدر ٹرمپ کی تقریر کا ہے !

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں!

مزید : کالم