عید سے قبل چینی سستی ہونے کا امکان ختم

اسلام آباد(آئی این پی ) حکومت نے چینی کی قیمت میں کمی کیلئے بلایا گیا خصوصی اجلاس عید الفط کے بعد تک ملتوی کر دیا جس کے بعد عید سے قبل چینی سستی ہونے کا امکان ختم ہوگیا ۔
میڈیارپورٹ کے مطابق چینی 130 روپے کی قیمت میں دستیاب ہونے کے دعوے کرنے والی حکومت نے اب خود چینی کی سرکاری قیمت میں اضافے کا عندیہ دے دیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت دیے جانے کے فیصلے کے بعد گزشتہ کئی ہفتوں سے چینی مہنگی ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
رمضان المبارک کے آغاز کے بعد چینی کی قیمت مزید بے قابو ہوئی تو حکومت کی جانب سے دعوے کیے جاتے رہے کہ عام صارف کو چینی 130 روپے کی قیمت میں دستیاب ہے۔ تاہم اب حال ہی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت چینی کی قیمت میں اضافے کے معاملے پر ہونے والے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسحاق ڈار نے اجلاس کے دوران چینی کی سرکاری قیمت میں اضافے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمت 164 روپے ہونی چاہیئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں شوگرملز مالکان کمرشل صارفین کے لیے قیمت مقررکرنے کے حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہ ہوئے اور چینی کی ایکس مل قیمت 159 روپے صرف ایک ماہ کے لیے مقرر کرنے پر مشکل سے آمادہ ہوئے۔
ذرائع نے بتایا کہ شوگر ملز مالکان چینی کے 2 نرخ مقرر کرنا چاہتے ہیں مگر حکومتی ٹیم کے مطابق چینی کے 2 نرخ مقرر نہیں کر سکتے اس حوالے سے شوگر ملز مالکان نے کہا کہ گھریلو صارفین کے لیے سستی اورکمرشل صارفین کے لیے مہنگی چینی فراہم کریں گے جب کہ رواں سال گنے کی قیمت 700 سے 750 روپے فی من ادا کی گئی۔حکومتی ٹیم کے مطابق کسان کو گنے کی قیمت 350 روپے فی من ادا کی گئی، کیسے یقینی بنایا جائیگا کہ منڈی میں گھریلوصارفین کے لیے فراہم کی گئی؟ چینی گھریلو صارفین تک ہی پہنچے گی ؟
حکومتی ٹیم نے کہا کہ منڈی والے گھریلو صارفین کے لیے فراہم کی گئی چینی کمرشل نرخ پرمشروبات اوربیکریوں کو ہی بیچیں گے۔ اس فیصلے سے مارکیٹ میں چینی کی کمی ہوگی جس سے نرخ بڑھیں گے۔ ذرائع کے مطابق اختلافات کے بعد اس معاملے پر دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ ہو گا اور چینی کی قیمت پر اگلا اجلاس عید کے فورا بعد بلایا جائے گا۔ یوں اجلاس عید کے بعد تک ملتوی کیے جانے کے باعث عید سے قبل ملک میں چینی سستی ہونے کا امکان ختم ہو گیا۔