قائداعظم کی وہ تقریر جب ’’تانگے والی اردو ‘‘سامنے آئی

قائداعظم کی وہ تقریر جب ’’تانگے والی اردو ‘‘سامنے آئی
قائداعظم کی وہ تقریر جب ’’تانگے والی اردو ‘‘سامنے آئی

  



پہلے مرحلے(1945 ء ) میں مرکزی اسمبلی کے انتخابات ہوئے ۔مسلم لیگ نے تیس کی تیس مسلم نشستیں جیت لیں۔اپنے اتحاد کو یوں ثمر آور دیکھ کر مسلمان نہال ہوگئے۔ انھوں نے جلسے جلوس منعقد کیے ۔مسلم لیگ نے 11جنوری کو یوم فتح منایا۔ صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب کا مرحلہ ابھی باقی تھا۔

یوم فتح کے سلسلے میں دہلی میں ایک شان دار جلسہ ہوا۔اس موقع پر مسلم دستکاروں نے قائداعظم کی خدمت میں ہاتھ سے بنے ہوئے بہت سے تحائف پیش کیے ۔ ان میں سے ایک چھوٹی سی توپ اور اس کے کارتوس بھی تھے۔ لوگ بہت پرجوش نعرے لگا رہے تھے۔ ان نعروں میں پاکستان کے لیے جان قربان کرنے اورسر دینے کی باتیں تھیں۔اس موقع پر قائداعظم نے بھی تقریر کرنی تھی۔ قائداعظم ہمیشہ انگریزی زبان میں تقریر کرتے تھے۔ وہ اپنی اردو کو ’’تانگے والے ‘‘کی اردو کہا کرتے تھے۔ اس دن قائداعظم نے اردو میں تقریر کی۔ آپ نے فرمایا:

’’بھائیاں

آپ نے لکھأو کی اردو سنی ۔آپ نے دہلی کی اردو سنی ۔اب آپ بمبئی کی اردو سنیں۔ آج آپ نے مجھے کئی کھلونا چیزیں دی ہیں۔ اس کے بھی کچھ معنی ہیں۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہٹلر نے اپنے ریفرنڈم میں سوفی صدی رائیں حاصل کی تھیں۔ اس کے پاس فوجیں تھیں، ائیر فورس تھی، نیوی تھی، توپ خانے تھے، گستاپو(خفیہ جابر پولیس) تھی۔ آپ نے مرکزی اسمبلی کی سو فی صدی سیٹوں پر قبضہ کیا ہے۔ مسلمانوں کی تیس سیٹیں تھیں یہ سب مسلم لیگ نے لے لیں۔ ہمارے پاس نہ فوج ہے ، نہ ائیر فورس ہے ، نہ نیوی ہے، نہ پولیس ہے، نہ خزانہ ہے۔ مسلم لیگ کو یہ فتح آپ کی مدد سے حاصل ہوئی ہے۔ میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں۔

آپ کہتے ہیں کہ آپ پاکستان کے لیے جان دیے دیں گے اور آپ پاکستان کے لیے سر دے دیں گے۔ بے شک آپ یہ سب کریں گے۔ مگر میں آپ سے نہ جان مانگتا ہوں اور نہ سر مانگتا ہوں۔ صوبے کے الیکشن دہلی میں نہیں ہوں گے اور سب جگہ ہوں گے۔ میں مسلمانوں سے کہتا ہوں کہ آپ اپنے ووٹ مسلم لیگ کو دے دو پھر انشااللّٰہ ہم سب سنبھال لیں گے۔ ‘‘

بقول سید حسن ریاض ’قائداعظم نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر ایسے اعتماد سے کہا ’’انشااللّٰہ ہم سب سنبھال لیں گے‘‘ کہ پورے مجمع کے دلوں میں یہ اعتماد منتقل ہوگیا۔ لوگوں نے بڑے جوش سے نعرے بلند کیے۔

جناح واقعی قوم کے عٖظیم قائد تھے۔ قوم کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ کسی شبے سے بالا تھی۔ ان کی اردو ، اردو معلٰی نہ سہی ،ان کا اخلاص کوثر و تسنیم میں دھلا ہوا ضرور تھا۔ اس اخلاص کی بدولت انھوں نے اپنا اعتماد ایک ایک فرد کے سینے میں منتقل کردیا تھا۔

صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ نتائج نکلے تو مسلم لیگ صوبائی اسمبلی کی 492 میں سے 428 نشستیں جیت چکی تھی۔ کہاں 1937ء کی 108نشستیں اور کہاں موجودہ 428 نشستیں۔ان انتخابات کے بطن سے پاکستان کا ظہور ہوا۔

صرف ایک سال بعد __ 1947 ء میں__ مسلمان اپنا نصب العین پانے میں کامیاب ہوگئے۔وہ خواب جو انھوں نے 23مارچ 1940ء کو دیکھا تھا اس کی تعبیر انھیں 14اگست 1947ء کو مل گئی ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...