”قدموں پر زور،جاہل مچارہے ہیں شور“ 

 ”قدموں پر زور،جاہل مچارہے ہیں شور“ 
 ”قدموں پر زور،جاہل مچارہے ہیں شور“ 

  

 بات پُرانی ہے مگرمیں نے دہرانی ہے۔یہ واقعہ جتنی بار بھی سنایاجائے،نیالُطف آتاہے۔ کسی زمانے میں ایک گیڈر کے ہاتھ ایک کاغذ لگ گیا اور ایک کھیت کا ایسا راستہ بھی نظر آ گیا جہاں کوئی نگرانی نہیں کرتاتھا۔ گیڈر نے اپنے دوستوں کوبڑے فخرسے بتایا ”حکومت نے مجھے خربوزے کھانے کاپروانہ دے دیا ہے۔تم لوگوں کے بھی مزے کروا دوں گا“۔چند دن گروہ جاتا رہا اور خوب موج میلہ کرتارہا۔ایک دن کسان نے نظر رکھی اور چند لڑکے لاٹھیاں لے کرکھڑے ہوگئے۔ گیڈر کوجب صورتِ حال کا اندازہ ہواتواُس نے سب کو کہا واپس چلیں۔چند نوجوان گیڈراصرار کرنے لگ گئے کہ ہمارے پاس تو پروانہ ہے۔ہمارے گیڈرنے جواب دیا”یہ لوگ پڑھ لکھ نہیں سکتے۔جاہل ہیں،ان کو پروانے کی اہمیت کاپتہ نہیں۔جان عزیزہے توبھاگو“۔نوجوان بدمزاتوہوئے مگرقدموں پرڈالازور،کیونکہ دل میں تھا چور اور باہرتھاشور۔ایک دفترمیں ایک صاحب رفقاء کی چغل خوری میں کاملیت حاصل کرچکے تھے۔اُن کاپسندیدہ مشغلہ صاحبِ ضلع سے لوگوں کاگلہ کرناتھا۔ایک دن صاحب کواچھے موڈ میں دیکھ کرایک جونیئرافسرکے بارے میں کہنے لگے ”وہ روزانہ گیارہ بجے دفتر آتا ہے“ صاحب کو غصہ آگیا۔جونیئرافسر پرنہیں چغل خورپر۔شدیدغصے سے کہنے لگے ”مجھے یہ تو بتائیں آپ نوبجے آکر کیا کرتے ہیں؟کل سے بھلے آپ بارہ بجے آئیں،کسی کی غیرموجودگی میں اس طرح کی گفتگو نہ کیجئے گا۔

“ ایک صاحب کوملازمت نہیں مل رہی تھی۔آخرکارایک ادارے میں اُن کو بھرتی کرلیا گیا۔ایک عجیب شرط عائد کی گئی۔ انہیں کہا گیا کہ وہ دفتر بارہ بجے آیاکریں گے۔ شدید حیرت سے وجہ پوچھی۔بتایاگیا ”دفترمیں کام کابوجھ زیادہ نہیں۔جولوگ صبح نو بجے آتے ہیں وہ بھی بارہ بجے تک دوسروں کی غیبت کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ان کے اس رویے سے مزید مسائل پیداہوتے ہیں۔آپ تشریف ہی بارہ بجے لائیں تاکہ مسائل کچھ توقابومیں رہیں“۔ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی اپنے نام کے ساتھ”حاجی“کالفظ لگالیتے ہیں جوپیدا حج والے دن ہوئے ہوتے ہیں۔ جو بھی آدمی کسی ڈاکٹرکے پاس چند دن رہا ہو،وہ بھی اپنے علاقے میں ”ڈاکٹر“ ہی کہلاتاہے۔کئی لوگ بی اے کرنے کے بعد نجی تعلیمی اداروں میں بنیادی جماعتوں کوپڑھاتے ہیں۔اُن کے نام سے پہلے ہمیشہ ”پروفیسر“ کالفظ آتاہے۔ کئی لوگ تو اپنے نام سے پہلے کچھ نہ کچھ صرف اس لیئے لگالیتے ہیں کہ یہ اُن کے بزرگوں کی روایت ہے۔روایت پسندی اگر مشرق میں بھی نہ رہی تودنیاکاکیابنے گا۔

کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے ہاں MBAکرنے کااتنارواج نہیں تھا۔خال خال لوگ ہی اس ڈگری کے حامل تھے ایک محلہ میں ایک صاحب کے گھر کے باہرتختی پراُن کے نام کے ساتھ MBA لکھاہواتھا۔ نوجوان اُن سے شدید متاثر تھے۔ ایک دن ایک نوجوان نے بڑی عقیدت سے پوچھا”سرآپ نے کب اورکہاں سے MBAکیا“۔وہ مسکرائے اورکہنے لگے ”بندہ کیا کرسکتا ہے، بس اللہ تعالیٰ کاکرم ہونا چاہیئے“۔ نوجوان اپنے سوال پربضد رہا۔آخرشرماتے ہوئے کہنے لگے ”ہم جانی یاروں نے ایک ایسوسی ایشن بنائی ہوئی ہے۔میرے MBA کا مطلب ہے ”ممبرآف بی لوڈ“ایسوسی ایشن“۔میڈیکل کے ایک طالب علم نے طبِ اطفال کے زبانی امتحان میں تمام سوالوں کے نہایت بچگانہ جواب دیئے۔ استادنے مگر نہایت مدبرانہ بات کہی ”ڈاکٹرصاحب ویسے تو آپ ہرمعاملہ میں ہی خوش قسمت ہوں گے۔ اتنے اچھے ادارے میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔میرے خیال میں، آپ کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ جب آپ کم عمر تھے تو آپ کاواسطہ اپنے جیسے کسی قابل ڈاکٹر سے نہیں پڑا۔ اگرآپ کے بچپن میں بھی ڈاکٹروں کامعیارآج کل جیساہوتاتو شاید مجھے آپ سے شرف ملاقات حاصل نہ ہوسکتا“۔دورفقاء کارآپس میں دوست بن گئے۔ایک صاحب ذراتیز مزاج کے تھے۔دوسرے کی حس مزاح بہت اچھی تھی۔ایک دن جھگڑا ہواتوغصیلے صاحب ایک جانور کانام لے کرکہنے لگے ”میں تو اپنے گھر میں تمہارے جیسا۔۔۔۔ بھی نہ رکھوں“۔نہایت اطمینان سے جواب ملا”میں تورکھ لوں بلکہ کل ہی آپ جیسے دو  رکھے ہیں“۔دو ہم جماعت دوست تھے۔دونوں نام سے پہلے چوہدری لگاتے تھے۔ایک چوہدری صاحب تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیرون ملک چلے گئے۔

دوسرے چوہدری صاحب سے کوئی رابطہ نہ رکھا۔طویل مدت بعد واپس وطن آئے اوراپنے دوست کو فون کیا۔ دوسری طرف سے پوچھا گیا کہ آپ کون ہیں۔شدید غصے سے کہنے لگے ”آپنے مجھے پہچانانہیں،میں چوہدری ہوں“۔نہایت بے زاری سے جواب ملا”بھائی! یہاں توہربندہ ہی چوہدری ہے آپ نام بتاؤ نام،اورکام بتاؤ،کیوں فون کیاہے؟“۔ہماری ایک دوسرے سے بے زاری بڑھتی جارہی ہے۔لوگ ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتے جارہے ہیں۔رشتوں کاحسن کم ہوتاچلاجارہا ہے۔دوست اجنبی بنتے جارہے ہیں۔ہرشخص اپنے خول میں سمٹتاجارہا ہے۔دوسروں کووقت دیناہم نے کم کردیاہے مگر اپنی ذات پربھی ہمارا وقت صرف نہیں ہورہا۔زندگی ایک دوسرے سے جڑے رہنے کاہی تونام ہے۔انسان سماجی حیوان ہے۔ہمارے جدِ امجد جنت میں بھی اکیلے نہ رہ سکے۔ہم دن بدن خودکوتنہاکرتے جارہے ہیں۔زندگی کاحسن اردگردکے لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات پرمنحصرہے۔دین خیرخواہی اور حسن سلوک کادوسرا نام ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے معاشرے میں باہمی عزت اورمحبت کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

درخت کٹ گیا لیکن وہ رابطے ناصرؔ

تمام رات پرندے زمیں پہ بیٹھے رہے

مزید :

رائے -کالم -