خاکسار تحریک ’’الاصلاح‘‘ کے آئینے میں

خاکسار تحریک ’’الاصلاح‘‘ کے آئینے میں
 خاکسار تحریک ’’الاصلاح‘‘ کے آئینے میں

  


مصطفی کمال پاشا نے جب ترکی خلافت کا خاتمہ کر دیا تو ہندوستان گیر تحریک خلافت از خود دم توڑ گئی۔ ملتِ اسلامیہ ہند سخت پریشانی میں مبتلا ہو گئی کہ اب کیا کرے۔ ان حالات میں دو جماعتیں وجود میں آئیں جنہوں نے مسلمانوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکالنے کی جدوجہد کی۔ وہ تھیں: مجلس احرار اسلام اور خاکسار تحریک۔ احرار کے بانی پنجاب کے خلافتی زعماء تھے۔ اگلے برس یعنی 1930ء میں علامہ عنایت اللہ المشرقی نے خاکسار تحریک کی بنیاد رکھی۔ یہ نیم فوجی قسم کی تنظیم تھی بندوق کی جگہ بیلچہ ان لوگوں کے کاندھے کی زینت بنا۔ علامہ صاحب کا تجزیہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی زبوں حالی کا سبب دین سے دوری ہے۔ اگر وہ اپنے ایمان میں مضبوطی اور استحکام پیدا کر لیں، سپاہیانہ زندگی اپنا لیں، اخوت و مساوات اور خدمت خلق کو اپنا شعار بنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ انہیں گمشدہ عظمت دوبارہ حاصل نہ ہو جائے۔ علامہ صاحب کی کتاب ’’تذکرہ‘‘ نے خاصی دھوم مچائی۔ اس کا مرکزی نکتہ قرآنی الفاظ ’’انتم الاعلون اِن کنتم مومنین‘‘ تھے یعنی اگر ایمان والے ہو تو تمہی غالب رہو گے۔گزشتہ اتوار میں مال روڈ پر پرانی کتابیں دیکھنے گیا تو بابا جی سرور کشمیری صاحب نے سب سے پہلے میرے سامنے ہفت روزہ ’’الاصلاح‘‘ کا فائل رکھ دیا۔ یہ جریدہ خاکسار تحریک کا ترجمان تھا۔ 16صفحات پر مشتمل اس رسالے میں مقالات، مضامین کے علاوہ ہندوستان بھر کی تحریک کی سرگرمیوں کی خبریں ہوتی تھیں۔ مجھے جو فائل دستیاب ہوا ہے اس میں 27 شمارے ہیں جن کا تعلق 1936-37ء کے دور سے ہے۔

وہ غلامی کا دور تھا۔ چونکہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھنی تھی اس لئے وہ کچھ زیادہ ہی دل گرفتہ تھے۔ ان ایام میں جب خاکسار تحریک کے پیر و جواں مخصوص فوجی وردی میں چمکتا دمکتا بیلچہ کاندھے پر سجا کر چپ راست کرتے نظر آتے تو یوں لگتا جیسے طارق یا محمد بن قاسم کا لشکر جا رہا ہے۔ اس پر مستزاد فوجی بینڈ باجے کی دل کی دھڑکنیں تیز کر دینے والی آواز! عام مسلمان جب خاکساروں کی مصنوعی جنگیں دیکھتے کہ گولے برس رہے ہیں، دھوئیں کے بادل اُٹھ رہے ہیں، تلواریں ٹکرا رہی ہیں اور دشمن فوج پسپا ہو رہی ہے تو ناظرین متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے۔ انہیں یوں لگتا جیسے خاکسار تحریک ہی انہیں آزادی کی نعمت دلا سکتی ہے۔ افسوس کہ علامہ مشرقی کی ولولہ انگیز تقریروں اور خاکساروں کی چپ راست دھری کی دھری رہ گئیں اور عملی سیاست کی بازی قائد اعظم اور ان کی جماعت نے جیت لی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دور میں تنظیم اور اطاعت کے لحاظ سے خاکساروں سے زیادہ منظم اور مستحکم پارٹی اور کوئی نہ تھی۔ کارکنان تحریک اپنی دعوتی اور تنظیمی سرگرمیوں کے علاوہ خدمت خلق میں جتے رہتے تھے۔ ’’الاصلاح‘‘ کے ان چند شماروں میں بے شمار ایسی خبریں ملتی ہیں کہ کسی جگہ کوئی غریب آدمی فوت ہوا تو اس کے کفن دفن کا کام خاکساروں نے انجام دیا۔ کہیں آگ لگ گئی تو اسے بجھانے پہنچ گئے، کوئی بھوکا پیاسا ملا تو اُسے کھانا کھلا دیا، کوئی پریشان حال دکھائی دیا تو اُسے مہمان بنا لیا، خدمت کرتے ہوئے ہندو اور مسلمان میں تفریق روا نہ رکھی جاتی۔ ہندو اور سکھ بھی خاکساروں کے جذبۂ خدمت کو سلام کرتے تھے۔ جہلم میں سوشلسٹ پارٹی کا دو روزہ پروگرام تھا، انہوں نے مدد طلب کی تو خاکسار وہاں پہنچے سٹیج بنوایا، دریاں بچھائیں، اگلے روز پروگرام ختم ہوا تو دریاں بھی خود ہی لپیٹیں پروگرام میں شریک ہونے والے جن رہنماؤں کو باقاعدہ سلامی دی، ان میں ڈاکٹر خان صاحب، میاں افتخار الدین، سوہن سنگھ جوش وغیرہ کے اسمائے گرامی ممتاز تھے۔

مجلس احرار کی طرح خاکسار بھی قرآن و حدیث سے باہر کتاب سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ یہ نہیں کہ وہ مطالعہ کے خلاف تھے، اصل میں وہ عملیت پسند تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اب کتابوں میں گم ہونے کا نہیں، میدان میں نکلنے اور جدوجہد کرنے کا وقت ہے۔احرار کے مرکزی رہنما حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اپنے وقت کے بہترین خطیب تھے ان کی تقریروں نے مسلمانوں میں حصول آزادی کی تڑپ پیدا کی وہ کہا کرتے تھے: ’’مَیں نے تو زندگی بھر کتابوں کی گرد بھی نہیں جھاڑی۔‘‘خاکسار تحریک میں علامہ عنایت اللہ المشرقی کا ’’تذکرہ‘‘ اور ان کے دیگر مضامین و مقالات پڑھے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ علامہ صاحب کی تقریریں پہلے ’’الاصلاح‘‘ میں چھپتی تھیں پھر انہیں پمفلٹوں کی صورت میں شائع کیا جاتا تھا۔ انہوں نے ’’مولوی کا غلط مذہب‘‘ کے عنوان سے کوئی30سے زائد پمفلٹ لکھے تھے جنہیں خاکسار لوگ گلیوں بازاروں میں بیچتے پھرتے تھے، آواز لگتی: ’’مولوی کا غلط مذہب دو پیسے میں‘‘، ’’مولوی کا غلط مذہب دو پیسے میں‘‘ ان الفاظ نے علمائے دین کے حلقوں میں خاکسار تحریک کے خلاف آگ لگا دی۔چنانچہ خاکساروں کے خلاف کفر اور زندیقیت کے فتوے آنے لگ پڑے۔علامہ صاحب کا لب و لہجہ مولوی حضرات کے بارے میں کس طرح کا ہوتا تھا اس کی ایک مثال مَیں علامہ صاحب کی سیالکوٹ کیمپ(1936ء) میں کی جا نے والی تقریر کے اقتباس سے پیش کرتا ہوں۔

علامہ صاحب فرماتے ہیں: ’’مسجد کا مولوی اور مُلا جو بے چارہ ایسے تنگ اور تاریک حجرے میں روٹی کے غم میں پھنسا ہے اور جسم کے داؤ اور جال میں تم مسلمان کم از کم ایک سو سال سے پھنسے بیٹھے ہو، قرآن کی عظیم الشان کتاب کو جو کوہ طور بلکہ کوہ ہمالیہ سے بڑی اور بھاری کتاب ہے کچھ نہیں سمجھتا، گھر گھر اور در در کے ٹکڑوں کی فکر میں اسے کچھ نہیں سوجھتا کہ وہ کیا عمل تھا جس نے مسلمان کو 23برس کے اندر اندر تمام عرب کا بادشاہ بنا دیا تھا‘‘۔ ’’الاصلاح‘‘ کے انہی شماروں میں ایک جگہ یہ واقعہ مرقوم ہے کہ کسی کارخانہ دار نے ایک خاکسار کو صرف اس لئے ملازمت سے فارغ کر دیا کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس بے چارے نے بہت منتیں کیں تو اسے کہا گیا کہ دہلی جاؤ اور مفتی کفایت اللہ سے اپنی مسلمانی کے بارے فتویٰ لے کر آؤ۔ وہ بے چارہ دہلی گیا اور مدرسہ امینیہ پہنچا وہاں اتفاق سے مولانا ابوالکلام آزاد بھی موجود تھے۔ اس خاکسار نے دونوں ہستیوں سے اپنے لئے فتویٰ طلب کیا تو جواب میں ان کی طرف سے سرد مہری کا رویہ سامنے آیا۔

البتہ رئیس الاحرار سید عطاء اللہ بخاری اور ان کی جماعت نے خاکساروں کے بارے صلح جوئی اختیار کی ’’الاصلاح‘‘ کے 4ستمبر 1936ء کے شمارے میں اس نوعیت کی ایک خبر ملتی ہے:’’مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب ڈیرہ دون تشریف لائے۔ ان سے لوگوں نے خاکساروں کے اعمال و افعال کے برخلاف کہلانا چاہا، لیکن حضرت سید عطا اللہ شاہ صاحب بخاری نے یہ فرما کر وہاں کی مخالفت کو کم کر دیا، جس کی توقع نہ تھی کہ ’’ہمارا اور علامہ مشرقی کا جھگڑا ہے۔ وہ اور ہم سمجھ لیں گے، لیکن ان خاکساروں کو کچھ نہ کہا جائے یہ جو کچھ کرتے ہیں ان کو کرنے دو۔ یہ ہمارے بچے ہیں‘‘۔

تحریک سے وابستگی کے خواہش مند کو شروع میں باور کرا دیا جاتا کہ یہ راستہ مصائب سے پر ہوگا اس لئے جلدی فیصلہ نہ کیجئے۔ جو لوگ یکسو ہو جاتے وہ ’’خونی معاہدہ‘‘ تحریر کرتے تھے کہ میں دل و جان سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں تحریک کے ساتھ رہوں گا اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا۔ کوئی معاہدہ یہاں تک ہوتا، لیکن کسی میں کہا جاتا اگر میں اس مشن سے بے وفائی کروں تو خدا مجھے جہنم میں ڈالدے۔ کسی میں ’’جہنم کے نچلے درجے میں ڈالدے‘‘ تک کے الفاظ شامل ہوتے تھے۔ عبارت بعض اوقات خون سے لکھی جاتی تھی، اس لئے اسے خونی معاہدہ کہا جاتا تھا۔

ایسا ہی ایک حلف راولپنڈی کے ممتاز ادیب افضل پرویز نے بھی اٹھایا تھا:’’مَیں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اعترافِ گناہ کرتے ہوئے توبہ کرتا ہوں اور اس خونی معاہدے کے ذریعے اعلان کرتا ہوں کہ اپنی جان و مال خدا، خدا کے رسولؐ اور اسلام کے لئے ادارہ علیہ ہندیہ(خاکسار تحریک کا مرکز) کے سپرد کرتا ہوں اور اس کے ہر حکم کی جو اسلام کی خاطر ہو ، ہر گھڑی بسرو چشم تعمیل کرنے کو تیار ہوں۔ خواہ وہ دُنیا میں سب سے پیاری(اپنی جان) کا حکم ہی کیوں نہ ہو تب بھی اسماعیل ؑ کی طرح سُن کر خندہ پیشانی سے اسلام کی خاطر قربان ہونے کے لئے تیار ہو جاؤں گا‘‘۔۔۔’’الاصلاح‘‘ شمارہ4ستمبر1936ء)

تحریک کے ڈسپلن کا یہ حال تھا کہ اگر علامہ صاحب بھی قواعد و ضوابط کے معاملے میں کوتاہی کرتے تو سر عام کوڑے کھاتے۔ نواب بہادر یار جنگ بھی کچھ عرصہ خاکسار رہے، ’’الاصلاح‘‘ کے ایک شمارے میں ان کا مکتوب چھپا ہے کہ وہ اپنی بعض مجبوریوں کی وجہ سے دہلی اجلاس میں شرکت نہ کر سکے اس لئے وہ سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔خاکسار تحریک ایک عظیم الشان جماعت تھی لیکن اس کا انجام علامہ صاحب ہی کے ہاتھوں بڑا افسوسناک ہوا۔ تقسیم کے وقت انہوں نے اپنے پیرو کاروں کو تین لاکھ کی تعداد میں دہلی میں جمع ہونے کا حکم دیا اور کہا کہ اگر تعداد پوری ہو گئی تو وہ کوئی نیا لائحہ عمل دیں گے۔ خاکسار بڑے جوش اور ولولے کے ساتھ دہلی پہنچے مگر اُن کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے آگے نہ بڑھ سکی۔ علامہ صاحب خود سامنے نہیں آئے، پس پردہ ہی کہیں بیٹھ کر لاؤڈ سپیکر پر تحریک کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ پرانے خاکسار بتایا کرتے تھے کہ ’’ہم علامہ صاحب کے اس فیصلے پر دھاڑیں مار مار کر روئے تھے۔ ہماری التجا نہ سنی گئی اور ہم خستہ و نامراد گھروں کو لوٹ آئے‘‘۔

مولانا مودودیؒ نے تو 1938ء ہی میں پیش گوئی کر دی تھی کہ علامہ صاحب جس مزاج کے آدمی ہیں،مجھے خدشہ ہے کہ وہ کسی موقع پر تحریک کی گاڑی کو اچانک کسی گہری کھڈ میں دھکیل دیں گے۔ وہی ہوا، ملت اسلامیہ ہند کی تاریخ میں یوں ایک اور درد ناک باب رقم ہو گیا!!

مزید : کالم


loading...