سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 9

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 9
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 9

  

ملکہ جو صلیب کے نام پر مشرقی شہروں اور قلعوں کا شکار کھیلنے نکلی تھی دمشق کے نقصان زدہ محاصرے سے اکتا گئی تھی اور لوئی کی لجلجاتی قربت سے اکسانے لگی تھی۔ دمشق کے مشرق میں دور دراز مقامات سے رسد لانے والے لشکر پر امیر ہو کر ستاروں کی چھاؤں میں سوار ہوئی۔ مسلح نارمن عورتوں کے ہجوم میں وہ اس کی باگ سے باگ اڑتا چلا جا رہا تھا ۔ جر بہ کے چھوٹے سے ویران قصبے کو کوستے ہوئے جب وہ آگے بڑھے تو دمشق بیس میل پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ اس صحرائے شام کے سلسلے نظر آنے لگے تھے جس کا سلسلہ عربستان تک چلا جاتاہے اور جہاں کا موسم دن رات میں دو مرتبہ مزاج بدل لیتا ہے اور مستقل طورپر دمشق سے مختلف رہتا ہے ۔ یہاں اس نے ببول اور سنا کے جنگلوں کے ٹیڑھے میڑے راستوں میں الجھا کر ملکہ کو لشکر سے کاٹ لیا اور لشکر کی سمت مخالف میں اڑا لے گیا۔ پلٹ کر دیکھا تو گرمی سے پریشان ایلس، اس کی کچھ رفیقوں اور ذات خاص کے محافظ رسالے کے چند سواروں کے سوا کوئی نہ تھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 8 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اب دھوپ تیز اور ہوا معتدل ہونے لگی تھی اور زرہ بکتر جلنے لگے تھے اور پانی کی چھاگلیں خالی ہونے لگی تھیں اور ملکہ کا ’’آبدار خانہ ‘‘ لشکر کے ساتھ بچھڑ چکا تھا۔ وہ آگے بڑھ کر ملک شاہ سلجوقی کی ویران رصد گاہ کے سامنے اتر پڑا جو لاتعداد کھجوروں کی چھتریوں میں منہ چھپائے کھڑی تھی۔

اس کی اکثر چھتیں گر چکی تھیں اور دروازے نکل چکے تھے اور فرش کے منقش پتھر غائب ہو چکے تھے۔ داخلے کی محراب میں لوہے کے بجائے کانٹے دار جھاڑیوں کا دروازہ کھڑا تھا۔ جسے اس نے تلوار سے گرا دیا۔ اس کے اردگرد سواروں کو پھیلا کر اندر گھسا اور لق و دق صحن میں اتر پڑا۔ اس کے وسط میں آٹھ دس سیڑھیوں کے نیچے باؤلی کا سبز پانی مردہ پڑا تھا اور اس کے چاروں طرف چبوترا تھا جس پر کنیر اور کھجور کے درخت تھے اور ہر چہار طرف بھورے پتھر کے کوشک اور دوہرے دالان اور صخچیاں تھیں جن کی چھتیں گر چکی تھیں یا گرنے کا انتظار کر رہی تھیں اور اب جن میں کبوتر اور ابا بیلیں پڑاؤ کئے ہوئے تھیں اور ملک شاہ سلجوتی کو دعائیں دے رہی تھیں۔

داخلے کی محراب پر بھاری قبہ تھا جس کے بیٹھے ہوئے زینے پر دہ تلوار ٹیک کر چڑھ گیا۔ قبہ سلامت اور خشک تھا۔ وہ نیچے اترا اور اپنے گھوڑے محراب میں اس طرح دھانس کر باندھ دیئے کہ وہ زندہ پھاٹک ہو گئے۔ایلس نے کینر کی گھنی چھاؤں میں چادچادر بچھا دی اور ملکہ کا بکتر کھولنے لگی۔ بلکہ زردمخمل کا زیر جامہ پہنے اٹھتے آفتاب کی چڑھتی گرمی میں وسیع وعریض باؤلی کے ٹھنڈے ہرئے پانی کو گھور رہی تھیں ار آستین چڑھا رہی تھیں اور وہ ان کے جسم کی قاتل گولائیوں میں کھو گیا تھا۔ پھر وہ بیدار ہوا اور ایلس سے اپنا بکتر کھلواتے ہوئے بولا۔

’’اگر ملکہ عالم غسل فرمائیں تو میں ہٹ جاؤں ‘‘

ملکہ عالم اپنے سرخ بالوں کی ریشمی رسی کھول رہی تھیں۔ وہ اپنا بکتر ایلس کے حوالے کر صرف تلوار لے کر باؤلی میں اتر گیا ۔ گھوم کر دیکھا کوئی صورت اس کے سامنے نہ تھی اس نے اطمینان سے وضو کیا اور محراب میں آیا۔اپنے ابلق کی گردن تھپتھپائی اور اسی کا زین پوش لے کر قبے پر چڑھ گیا ۔ تھوڑی دیر وہ اس پر فضا مقام پر سکوت کے عالم میں بیٹھا رہا۔ پھر کبوتروں کی بیٹ سے سفید فرش پر زین پوش بچھا کر نماز کے لئے کھڑا ہو گیا۔ اتنے دنوں بعد خدا کے حضور میں پہنچا تو خشیت الٰہی کا غلبہ ہوا اور وہ بڑی دیر تک روتا رہا اور پوری محویت کے ساتھ نفلیں پڑھتا رہا۔ معلوم نہیں کب تک پڑھتا رہا۔ ایک بار اس نے سلام پھیرا تو ملکہ سامنے کھڑی تھیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گھورتے رہے۔ جب نگاہوں میں تحیر کی جگہ اجنبیت اور بے اعتمادی بڑھنے لگی اور ملکہ کے بھیگے سرخ بالوں سے دو موتی ٹپک کر ان کی نیلی آنکھوں کی لمبی پلکوں پر تھر تھرانے لگے اور وہ پلکیں جھپکانے لگیں۔ تب اس نے بیٹھے ہی بیٹھے اپنے سامنے سے تلوار اٹھائی اور اسے ٹیک کر کھڑا ہو گیا۔ ملکہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر دھیمے اور تلخ لہجے میں پوچھا۔

’’تم۔۔۔تم مسلمان ہو؟ ‘‘

اس نے گویائی کی ساری طاقت سمیٹ کر بھاری اور مضبوط آواز میں جواب دیا۔

’’ہاں خدا کا شکر ہے کہ ہم اس سے سچے دین اسلام کے نام لیوا ہیں۔‘‘

’’جھوٹے بھی ہو ‘‘

’’غدار بھی ہو ۔‘‘

’’جاسوس بھی ہو ۔‘‘

انہوں نے دیوار کا سہارا لے لیا تھا ار کانپنے لگی تھیں اور ان کی آواز تھرا گئی تھیں ۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

’’ملکہ عالم ۔۔۔ہمارے کان ایسے خطابات سننے کے عادی نہیں۔ اگر ان الزامات میں سے کوئی بھی صحیح ہوتا تو آپ جام بہشت کے کنارے شیر کا لقمہ بن چکی ہوتیں ‘‘۔

’’نہیں ، تم نے وہ خدمت ہماری نگاہ میں اعتبار حاصل کرنے کیلئے انجام دی۔۔۔تم نے اس شجاعت کی بہت بڑی قیمت وصول کی۔۔۔تم نے مغرب کی ایک جلیل المرتبت ملکہ کی ناموس کے لئے سازش کی۔۔۔تم نے جون دی نائٹ بن کر ہمارے شبِ خون کا منصوبہ مٹی میں ملا دیا۔ تم نے دمشق کے محاصرے میں ہمارے جرار لشکر کو دغا دی اور اسے پیاسا مار دیا۔ اور اب ۔۔۔‘‘

’’اب ہمارا خیال ہے کہ ہم جون دی نائٹ کے شامی سواروں کی حراست میں ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں گی اور ہم گندے اونٹ پر سوار دمشق کی ناپاک گلیوں میں گشت کر رہے ہوں گے۔۔۔اور شیر کو ہ یورپ کو ذلیل کر دینے والی شرطوں کا مسودہ رقم کر رہا ہو گا۔‘‘

’’قبل اس کے کہ بیان کئے ہوئے اندیشوں میں سے کوئی اندیشہ مکمل ہونے کی جسارت کرے ۔۔۔قبل اس کے کہ ملکہ عالم کے نا چیز سواروں کے گھوڑوں کی طرف کوئی ناپاک ہاتھ بڑھے۔۔۔قبل اس کے کہ ملکہ عالم کے راستے پر کوئی بے ادب نگاہ اٹھے ہمارا سر آپ کے قدموں میں لوٹتا ہو گا۔‘‘اس نے والہانہ انداز میں پورے تیقن سے کہا ۔(جاری ہے )

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 10 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فاتح بیت المقدس