انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 30

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 30
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 30

  



مڈل ایسٹ میں انسانی سمگلنگ کی ایک اہم وجہ ’’عارضی شادیاں‘‘ بھی ہیں ۔ان کو سنی مسلمان عارضی شادیاں جبکہ شیعہ مسلمان متعہ کہتے ہیں ۔متعہ ایک مخصوص وقت تک مقرر کردہ مدت کے لیے کیا جاتا ہے جس کا ذکر شادی کے وقوع پذیر ہونے کے وقت طے کر دیا جاتا ہے۔ یہ مدت چند گھنٹوں سے لے کر چند ماہ تک بھی ہو سکتی ہے۔ عارضی شادیوں کو اگر عارضی تصور کیا جائے تو یہ غیر اسلامی قرار پاتی ہیں لیکن ایسی شادیوں کا انجام خاوند کی چھٹیاں ختم ہونے یا اس کا جی بھر جانے کے بعد طلاق کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ایسی شادیاں سعودی عرب کے خوشحال گھرانوں کے نوجوان مصر اور ایشیائی ممالک (انڈیا) کے غریب معاشروں میں کرتے ہیں ۔ جوان لڑکیوں کی قیمت حق مہر کی شکل میں دلالوں یا لڑکی کے والدین کو ادا کر دی جاتی ہے۔ ایسی شادیاں جن میں فریقین پر پابندی لازم نہیں ہوتی عورتوں کے معاشی طور پر کمزور ہونے سے فائدہ اٹھانے کے مترادف ہے۔ فوری طور پر طلاق شدہ عورت کو معاشرے کا کمتر فرد سمجھا جاتا ہے اور اسے بالآخر جسم فروشی کی دلدل میں اترنا پڑتا ہے۔

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 29 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اگر جسم فروشی اور انسانی سمگلنگ کے باہمی تعلق کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اول الذکر کو قانونی جواز حاصل ہو یا اسے برداشت کیا جاتا ہو وہاں سمگل شدہ عورتوں اور بچوں کی طلب میں اضافہ ہونا ایک لازمی امر بن جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی سرحدوں کو عبور کرنے والے افراد میں 80 فیصد عورتیں ہوتی ہیں جن میں پچاس فیصد بچے ہوتے ہیں ۔ان کی ایک بڑی تعداد قحبہ خانوں کی زینت بنتی ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ مڈل ایسٹ میں سیاحت جنس کے ساتھ فروغ پا رہی ہے۔ اگر ہم مصر کی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں جہاں جسم فروشی غیر قانونی قرار دی گئی ہے تو وہاں یہ عارضی شادیوں یا متعہ کی صورت میں ترقی پا رہی ہے۔ عورت جسے مڈل ایسٹ میں پہلے ہی دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے جنسی بد اخلاقی سے وابستگی اس کو ذلت اور رسوائی کی اتھاہ گہرائیوں میں اتار دیتی ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا اس صورتحال کے متعلق کہنا ہے کہ ’’ یہ ذلت جسم فروش عورتوں اور بچوں کو جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی طور پر تباہ و برباد اور پارہ پارہ کر دیتی ہے جس سے بحالی کے لیے کئی دہائیاں صرف ہو سکتی ہیں اور شاید نقصان کی کبھی تلافی نہ ہو سکے‘‘۔

انسانی سمگلنگ کو روکنے کی پالیسی موثر ہے؟

سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ نے اس کے بین الاقوامی تاثر کو بری طرح داغدار کر رکھا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے مطابق یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ سعودی عرب میں مقامی پالیسیاں اور قوانین عورتوں کے خلاف امتیازی حیثیت کے حامل ہیں۔ تنقید سے بچنے کے لیے مئی 2002ء میں سعودی عرب نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں شامل ہونے کی کوشش کی۔ اسی سال اس نے عورتوں کے خلاف پائے جانے والے امتیازی سلوک کے حامل قوانین کے خاتمے کے کنونشن میں شامل ہونے کی خوب تشہیر کی۔ دستخط کرتے وقت سعودی عرب نے اسلامی قوانین کے احترام پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ۔اس موقع پر اس کا کہنا تھا کہ اگر کنونشن کی شرائط اور اسلامی قوانین کے درمیان تضاد پایا گیا تو ان کا ملک کنونشن کی متنازع شقوں پر عمل کرنے کا پابند نہ ہو گا۔ دراصل اسلامی قوانین کے اطلاق کی آڑ میں دستخط کرنا کنونشن میں رسمی شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔

عورتوں کے خلاف پائے جانے والے امتیازی قوانین کے خاتمے کے کنونشن پر دستخط کر کے اسی سال سعودی عرب ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا رکن بننا چاہتا تھا۔ اس اقدام سے اس کے عالمی کھلاڑی بننے کی خواہش عیاں ہوتی ہے۔ کنونشن پر دستخط کرنے کے باوجود خواتین کی حالت زار میں کوئی بہتری نہ آئی اور ان کی حیثیت کو کبھی بھی سعودی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیاتاہم اب ملکی قوانین میں غلامی اور انسانی سمگلنگ ممنوع قرار دی جا چکی ہے اور سعودی حکومت اسے ایک اہم مسئلہ سمجھتی ہے ۔

برا عظم آسٹریلیا ، تعارف اور انسانی سمگلنگ 

براعظم آسٹریلیا سب سے چھو ٹا ملک او ر سب سے بڑ ا جزیرہ ہے ،جو جنوبی نصف کر اہ ار ض کے ایک بڑے زمین کے ٹکرے پر محیط ہے ۔ یہ جزیرہ تسمانیہ ، انڈین سمند ر اور بحر الکاہل کے کئی جزیروں پر مشتمل ہے ۔ یعنی صرف اس زمین کے ٹکڑے کو ایک ملک ، ایک براعظم اور ایک جزیرہ کہا جا تا ہے ۔اس کے ہمسایہ ممالک میں شمال کی طرف انڈو نیشیا ، مشرقی تیمور اور پا پو نیو گینیا واقع ہیں جبکہ شمال مشرق میں سو لمن کے جزیرے وینا وتواو رنیوکیلنڈو نیا پا ئے جا تے ہیں ۔ نیوز ی لینڈ آسٹریلیاکے جنو ب مشرق میں وا قع ہے ۔

آسٹریلیا کا نام لا طینی لفظ آسٹریلس سے ما خوذ ہے ۔ جس کے معنی جنوب کے ہیں ۔ ’’جنوب کے ایک نا معلوم علاقے ‘‘کی روایات کے مطابق تاریخی طور پر اس کا سراغ رومن زمانے تک لگا یا گیا جو قرون وسطی کے جغرافیہ میں ایک عام جگہ کی حیثیت رکھتا تھا ۔ لیکن یہ کسی بر اعظم کے دستا ویزی ریکارڈ کی بنیا د پر معروف جگہ نہ تھی ۔ پہلی دفعہ یو رپین با شندوں میں ہسپا نو یو ں نے 1521 عیسو ی میں بحر الکا ہل میں جہا ز رانی کی تو یہ برا عظم یو رپ میں متعارف ہو ا ۔ انگلش زبان میں آسٹریلیاکا لفظ پہلی دفعہ 1625میں آسٹریلیاپر ماسٹر ہا ک لیوئے ٹس کے نوٹ میں استعمال ہو ا ۔ اس نوٹ کا نام ’’ڈیل ایسپرچونیٹو‘‘تھا ۔ ڈچ (جرمن)زبان میں آسٹریلس تو صیفی صورت میں 1638 ء میں پہلی با ر ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے حکام نے با ٹاو یامیں اسے جنوب کی طرف نئے دریا فت ہونے والے علاقوں کے نام کے طور پر لکھا ۔ اسی طرح فرانسیسی زبان میں ’’گیبرل فواگنے ‘‘ کے لکھے گئے نا ول کے تر جمے میں آسٹر یلیا کا نام پہلی مر تبہ 1676 ء میں استعمال ہو ا۔ یہ نا ول سمند ر ی سفر پر لکھا گیا تھا ۔ 1771ء میں الیگزنڈر ڈالسیمپل نے اس لفظ کو جنوبی بحر الکاہل کے سمندروں کے اسفارکی تاریخی تفصیلات جمع کر تے ہوئے استعمال کیا جو انہوں نے جنوبی بحر الکاہل کے علاقوں میں داخل ہونے کے لیے فراہم کی تھیں ۔ جارج شاہ اور سر جیمز سمتھ نے 1793ء میں نیو ہالینڈکی ذوالوجی اور باٹنی شائع کی جس میں انہوں نے آسٹریلیاکے متعلق لکھا کہ ’’یہ ایک وسیع جزیرہ ہے یا چھو ٹا سا براعظم ؟‘‘۔اس کے علاوہ یہ بھی لکھا ’’آسٹریلا یا نیوہا لینڈ ‘‘یہ الفاظ سر جیمز ونسن کے 1799ء کے چارٹ میں بھی تحریر تھے۔ دراصل آسٹریلیا کے لفظ کو میتھو فلنڈرز نے شہر ت بخشی جس کو 1804ء میں اس لفط کو رسمی طور پر اپنانے کی ترغیب دی گئی ۔ وہ 1814ء کے لیے آسٹر یلیا کی طرف کیے جانے والے سمندری سفرکے حالات کا مسودہ اور چارٹ تیا ر کر رہا تھا ۔ میتھو فلنڈ رز کو اس کے ساتھی سر جوزف نیکسن نے ’’ٹیر ا آسٹریلیا ‘‘کا لفظ لکھنے کا مشورہ دیا کیونکہ یہ عوام میں مستعمل ہو چکا تھا۔ فلنڈرز نے ایسا ہی کیا ا ور مسودے کے فٹ نوٹ میں اس کے استعمال کا جو از اور تفصیل تحریر کی دی ۔(جاری ہے )

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 31 پڑھنے کیلئے یہاں کریں

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ


loading...