عید الفطر خوشیوں بھرا تہوار!
عید الفطر احکامِ خداوندی کی پاسداری کرتے ہوئے گزاریں
عید کے دن کوحضور پاک ﷺ نے بہت مبارک قرار دیا
حضورِ اکرم ﷺ نے عید کے دن غریبوں، مسکینوں، یتیموں، محتاجوں، ضرورت مندوں، بیواؤں کو اس خوشی میں شریک کرنے کے لئے صدقہئ فطر ادا کرنے کا حکم دیا
رانا فاروق دلدار
عید الفطر کی بڑی فضیلت ہے، ایک حدیث میں حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا کہ جب عید کی رات آتی ہے تو اسے انعام کی رات سے پکارا جاتا ہے۔جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ پاک اپنے فرشتوں کو فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”یہ ہیں میرے بندے جو عبادت میں لگے ہوئے ہیں، بتاؤ کہ جو مزدور اپنا کام پورا کرلے اس کا کیا صلہ ملنا چاہیے؟ جواب میں فرشتے فرماتے ہیں کہ جو مزدور اپنا کام پورا کرلے اس کا صلہ یہ ہے کہ اسے اس کی پوری پوری مزدوری دے دی جائے،اس میں کوئی کمی نہ کی جائے۔اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ یہ ہیں میرے بندے میں نے رمضان کے مہینے میں ان کے ذمے ایک کام لگایا تھا کہ روزے رکھیں اور میری خاطر کھانا پینا چھوڑ دیں اور اپنی خوہشات کو ترک کردیں، آج انہوں نے اپنا فریضہ مکمل کردیا۔اب یہ اس میدان کے اندر جمع ہیں اور مجھ سے دعا مانگ رہے ہیں۔اپنی عزت اور جلال کی قسم کھاتا ہوں کہ میں آج اِن کی سب دعائیں قبول کروں گا اور میں اِن کے گناہوں کی مغفرت کروں گا، اِن کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دوں گا۔”اور جب روزہ دار عید گاہ سے واپس جاتے ہیں تو اس حالت میں جاتے ہیں کہ اِن کی مغفرت ہوچکی ہوتی ہے“
عید الفطر کا دن ہماری زندگی کاسب سے اہم دن ہے،یہ سال میں ایک بار آتا ہے۔ اس لئے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس دن کو احکامِ خداوندی کی پاسداری کرتے ہوئے گزاریں۔ اہل وعیال کی ضروریات کی چیزوں پر خرچ کریں، نہا دھو کر سب سے اچھے کپڑے زیب تن کریں اور خوشبو لگائیں اور عزیز و اقارب اور دوست احباب کو خوش دلی سے ملیں۔عید کے دن کوحضور پاک ﷺ نے بہت مبارک قرار دیا ہے۔
ایک مرتبہ عید کے دن حضورِ اکرم ﷺ کے گھر میں کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا، جب آپ عید گاہ جانے لگے تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ”آج آپ ﷺ کی کسی بی بی کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔“آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم غمگین نہ ہو۔“ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: میں خوش ہوں، مگر عادت کے مطابق فقراء، بیوائیں اور یتیم آئیں گے، اُن سے شرمندگی ہوگی“۔حضوراکرم ﷺ نے فرمایا ہمیں اور انہیں اللہ پاک دے گا“۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو دیکھا کہ آپ ﷺ کے دروازے سے فقرا ء کھانا لیے جاتے ہیں۔جب آپ ﷺ گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ”صحابہ کرامؓ کو بلا لیجیے آکر کھانا کھالیں“۔حضور اکرمﷺ نے پوچھا: یہ کہاں سے آیا۔ انہوں نے فرمایا: حضرت عثمانؓ نے ساٹھ اونٹ آٹے،دس اونٹ روغن اور شہد، سو بکریاں اور پانچ سو دینار نقد بھیجے ہیں۔ آپ ﷺ نے جوشِ شفقت ورحمت سے فرمایا: اے اللہ تعالیٰ عثمان بن عفانؓ پر حساب آسان کردے۔حضرت جبرائیل ؑ نے حاضرِ خدمت ہوکر کہا: ”اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی دعا حضرت عثمانؓ کے حق میں قبول کی، حضرت عثمانؓ سے روزِ قیامت حساب نہیں ہوگا“۔
حضورِ اکرم ﷺ نے عید کے دن غریبوں، مسکینوں، یتیموں، محتاجوں، ضرورت مندوں، بیواؤں کو اس خوشی میں شریک کرنے کے لئے صدقہئ فطر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔صدقہ ئ فطر ادا کرنے کے تین فائدے ہیں، روزوں کا قبول ہونا، موت کی سختی سے محفوظ ہونا اور عذابِ قبر سے بچنا۔صدقہئ فطر دینے والے کے تمام روزے اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے، تمام گناہ بخش دیتا اور مرنے کے بعد فرشتے اس کی قبر کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔وہ قیامت کے دن بُراق پر سوار ہو کر جنت میں جائے گا۔صدقہئ فطر ادا کرنے والے کو ہر دانے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایک سال کی عبادت کا ثواب دیتا ہے اور ہر دانے کے بدلے میں جنت میں اس کے لئے ایک گھر بنایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”بے شک،اُس نے نجات پائی،جس نے تزکیہئ نفس کیا، رمضان میں روزے رکھے اور اپنے پروردگار کا ذکر کیا،رمضان میں تراویح ادا کی اور نماز پڑھی،دوگانہ عید ادا کی“۔
عید الفطر اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزے دار کے لئے ایک انعام ہے تاکہ روزہ دار عید پر خوشی منا سکے۔ آپ بھی خوب خوشیاں منائیں،مسرتوں کا اظہار کریں۔ نئے کپڑے،نئے جوتے خریدیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی ہے کہ خوشی کے اس پُر مسرت موقع پر اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو بھی نہ بھولیں۔یہ غریب لوگ آپ کے دائیں بائیں،آپ کے پڑوس میں، آپ کے محلے میں،آپ کے علاقے میں، آپ کے ملک میں اور دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوسکتے ہیں۔جس کی جتنی ہمت و سکت ہے،اُس کو عید کی خوشیوں میں دوسروں کو شامل کرنے کے لئے حصہ لینا چاہیے۔ایک عام مڈل کلاس انسان اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں کا خیال رکھے تو ایک صاحبِ ِثروت انسان ملک بھر اور دنیا بھر کے غریب مسلمان بھائیوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔ریاستیں اور حکومتیں بھی اپنی سطح پر عید کی خوشیوں میں دیگر کو شامل کریں مختلف ادارے،این،جی،اوز،اور مذہبی و سیاسی جماعتیں بھی یہ کام کریں۔ ہم میں سے ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ حسب ِتوفیق غریبوں کو بھی عید کی خوشیوں میں ضرور شریک کرے۔عید اصل میں دوسروں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنے کا نام ہے یا دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونے کانام ہے۔
اسلام دین ِفطرت ہے۔ اس کا کوئی بھی حکم حکمت و مقصد سے خالی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاحب ِنصاب مسلمانوں پر زکوٰۃ اور صدقہئ فطر واجب کرکے یہ آفاقی پیغام دیا ہے کہ غریبوں اور مصیبت زدہ انسانوں کو عام حالات میں بالخصوص عید کی خوشیوں میں اپنی زکوٰۃ و صدقات اور خیرات کے ذریعے شامل کیا جائے۔آج جیسے حالات ملک کے بن چکے ہیں غریب بندے کے لئے زندگی بسر کرنا مشکل ہوگیا ہے۔آج پاکستان میں لوگ آٹے کے ایک تھیلے کے لئے جس طرح اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں،اس سے آپ ملک میں غربت کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں کہ ملک کن حالات کا شکار ہے۔ ہم سب کو اس عید پر اپنے اخراجات کم کرکے اِن لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہوگا تاکہ وہ لوگ بھی اس پُرمسرت موقع پر عید کی خوشیوں میں شامل ہوسکیں۔ کچھ لوگ تو اس موقع پر اپنا ہاتھ پھیلاکر اپنا گزارا کرلیتے ہیں لیکن کچھ لوگ اپنی عزتِ نفس کو مجروح نہیں کرتے، ہمیں اپنے عزیزو اقارب میں ان لوگوں کو بھی دیکھنا ہوگا تاکہ وہ اور اُن کے بچے بھی اس عید پر خوشی مناسکیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلات ختم فرمائے۔رمضان اور عید مبارک کے صدقے تمام مسلمانوں کو ہر قسم کی پریشانی اور مصیبتوں سے نجات عطا فرمائے۔ آمین۔