انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 52

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 52
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 52

  

برطانوی میڈیا کے مطابق اکثریت اپنے سمگلرز کے ساتھ بظاہر قانونی طریقے سے برطانیہ میں داخل ہوتی ہیں لیکن کچھ لوگوں کو بسوں اور کنٹینرز میں بھی بھر کر لایا جاتا ہے۔ان میں سے اکثر اچھی زندگی کے تصور سے برطانیہ میں داخل ہوتے ہیں ۔ویتنام کے دیہی علاقوں کے ٹین ایجر سمگلرزخود انگلینڈ کے ریستورانوں میں کام کرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔انگلینڈ پہنچ کر ان کو چرس کے غیرقانونی کاشت کئے ہوئے فارمز میں مجبوراً کام کرنا پڑتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بہت سی نائیجرین عورتیں برطانیہ روانہ سے پہلے اپنے سمگلر کو قسم دیکر یقین دلاتی ہیں کہ وہ نہ تو وہاں سے بھاگ کر کہیں اور جائیں گی اور نہ ہی حکام سے کوئی شکایت کریں گی۔ان کو برطانیہ پہنچ کر جبری جنس فروشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسی عورتوں کا اضافی قرض اورراستے کے اخراجات کبھی پورے نہیں ہوتے ۔وہ جب تک کارآمد رہتی ہیں ایجنٹ یا خریدار ان سے جسم فروشی کے ذریعے پیسے وصول کرتا رہتا ہے۔مذکورہ رپورٹ کے مطابق دو دلخراش واقعات میں اعضا کاٹنے کے لئے سمگلنگ کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن ا س سے پہلے کہ اعضا کاٹے جاتے سمگلرز پکڑے گئے۔

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 51 پڑھنے کیلے یہاں کلک کریں

برطانیہ میں غیر قانونی طور پر انسانی اعضاء کی خریدو فروخت ممنوع ہے ۔اس لئے وہاں اس عمل کو روکنے کے لئے خاطر خواہ انتظامات موجود ہیں۔ایک تنظیم نے ایسے افراد کی تعداد ایک فیصد ظاہر کی جو اعضاء بیچنے کی غرض سے برطانیہ میں داخل ہوتے ہیں۔مگر ڈانا جوئی اس تفصیل سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب پولیس سمگلنگ کے شکار افراد کو گرفتار کرتی ہے تو گینگ کے اعلیٰ ارکان بھاگ جاتے ہیں۔

انگلینڈ میں جسم فروشی (پیسوں کے بدلے جنسی خدمات کا تبادلہ) بذات خود جرم نہیں ہے لیکن اس سے منسلک کئی سرگرمیاں ،جائے عامہ پر فحش حرکات کرنا ،کسی قحبہ خانے کو چلانا اور دلالی جرائم کی فہرست میں آنے والے افعال ہیں۔انگلینڈ ،ویلز اور شمالی آئر لینڈ میں جبری جسم فروشی میں ملوث عورت کو پیسے دیکر جنسی خدمات حاصل کرنا جرم ہے،اگرچہ گاہک اس چیز سے ناواقف ہو کہ جسم فروش کو جبراً یہاں لایا گیا ۔18سال سے کم عمر فرد کے ساتھ ’’پیسوں کے بدلے جنسی عمل کرنا غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔ایک عورت اپنے کمرے کے اندر جسم فروشی کر سکتی ہے لیکن اگر ایک سے زائد عورتیں اس جگہ کو استعمال کریں تو اسے قحبہ خانہ سمجھا جائے گا جو کہ غیر قانونی اور جرم ہے۔‘‘

حال ہی میں برطانوی پارلیمنٹ میں اس موضوع پر کافی بحث ہوئی ہے ۔کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ جسم فروشی کے خلاف سخت قوانین نافذ ہونے چاہئیں جبکہ اس کے مخالفین کا کہنا تھا کہ جسم فروشی کو نیدر لینڈ ،جرمنی اور نیوزی لینڈ کی طرح برداشت کرنا چاہیے لیکن ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ انگلینڈ سویڈن ،ناروے او ر آئس لینڈ کی طرح جنسی خدمات خریدنے پر پابندی کا مجاز نہیں ہے ۔2006میں حکومت نے جسم فروشی کے قوانین میں نرمی کرتے ہوئے انگلینڈ اور ویلز میں چھوٹی سطح پر قحبہ خانے کھولنے کی اجازت دیدی لیکن جلد ہی اس خوف کی وجہ سے کہ منشیات فروش اور دلال رہائشی علاقوں میں داخل ہو جائیں گے ان کو بند کرنا پڑا اور سخت قوانین کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔لیکن تیسرے انتخاب کے حمایتی سویڈن طرز کی جسم فروشی کی اجازت پر مسلسل زور دیتے رہے اور 2008ء میں حکومت نے اس پر غورکرنا شروع کردیا ۔ قانون میں ترمیم کر کے 2008ء میں اعلان کیا گیا کہ دلال کے زیر اثر افراد کو پیسے ادا کر کے جنسی عمل کرنا ممنوع ہے اور یہ ایک فوجداری جرم تصور ہو گا ۔سمگل شدہ عورت کو پیسے دیکر جنسی خدمات حاصل کرنا گاہک کے لئے جنسی زیادتی کے جرم کے مترادف ہو گا ۔اس قانون کا بنیادی مقصد جنسی خدمات کے عوض پیسے کمانے کے لئے انگلینڈ میں جسم فروشی کے لئے آنیوالوں کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔(جاری ہے)

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 53 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ