سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 25

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 25
سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 25

  



(9)اسلامی تصوف

اسلامی تصوف پہلی بار غزنوی عہد میں وادی سندھ میں آیا۔ اگرچہ غزنوی دور کے آغاز سے بھی بہت پہلے تصوف اسلامی دنیا میں مقبول ہو چکا تھا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (پ: 10فروری1702ء.....م :10اگست1762ء) نے اپنے زمانے تک تصوف کے چار زمانے بتائے ہیں جن کا مختصر تعارف کچھ یوں ہے:

پہلا زمانہ :۔

رسول پاک ﷺکی ہجرت (622ء)سے لے کر حضرت جنید بغدادیؒ کی وفات (910ء)تک اس دور کے تصوف کی تین نمایاں چیزیں ہیں:

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 24 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

-1نماز -2روزہ -3 ذکر

ذکر سے مراد ذکرِ الٰہلی ہے۔ اس دور کے صوفیا میں حضرت بلال حبشیؒ، حضرت سلمان فارسیؒ، حضرت ابو عبیدہ‘ حضرت عمار بن یاسر‘حضرت ابوذر غفاری‘حضرت اویس قرنی اور وہ مہاجرین مکہ شامل ہیں جو ہر وقت مسجد نبوی(مدینہ) میں قیام پذیر رہتے تھے۔ اس دور کی سب سے بڑی بحث علم کلام کی خلق قرآن کی بحث تھی، جس میں دو بڑے فرقے بن گئے تھے۔ معتزلہ اور اشاعرہ۔ معتزلہ قرآن کو مخلوق بتاتے تھے اور اسلای مابعد الطبیعیات سے انکار کرتے تھے مثلاً وہ قبر کے عذاب‘یا جوج ماجوج‘دجال‘کراماً کاتبین‘حوضِ کوثر پل صراط‘ معراج نبویﷺ اور المیثاق کو نہیں مانتے تھے‘جب کہ اشاعرہ نے ان کا زبردست دفاع کیا۔

دوسرا زمانہ:

جنید بغدادیؒ کی جوانی (880ء) سے لے کر تقریباً 1020ءتک رہا۔ اس دور کے تصوف کی نمایاں خصوصیات میں مراقبہ‘مکاشفہ‘ روحانی تجربات‘ سماع اور جامہ دری ہیں۔

تیسرا زمانہ:

یہ 1020ءمیں شروع ہوا۔ اس دور کے عظیم صوفیاءمیں شیخ ابوالحسن خرقانی(م: 1034ئ)اور شیخ ابو سعید ابوالخیر (م:1049ء)ابتدائی بزرگوں میں سے ہیں سلطان محمود غزنوی شیخ ابوالحسن خرقانی کی بے انتہا تعظیم کرتے تھے۔ وادی¾ سندھ کے اس دور کے عظیم ترین صوفی حضرت داتا گنج بخشؒ ہیں۔ اس دور کے تصوف کی تمایاں خصوصیات میں توجہ‘صوفی اور خدا کے درمیان حجابات کا اٹھ جانا(کشفِ حجاب)استغراق اور بعض سلسلوں میں ترک شریعت ہے۔

چوتھا زمانہ:

شیخ اکبر محی الدین بن عربی(1165ء۔م1240ء)کی پیدائش سے ذرا پہلے شروع ہوا۔ اس دور میں صوفیانے’وجود‘کے نزول(اوپر سے نیچے آنے)کے پانچ درجے مقرر کئے۔

1۔ احدیت(فقط خدا ہے اور کوئی نہیں)

2۔ وحدانیت(خدا ایک ہے دوسری کوئی ہستی خدا نہیں)

3۔ عالم ارواح(وجود کی وہ دنیا جس میں صرف روحیں ہیں)

4۔ عالم مثال(فرشتے اور دوسرے ایسے وجود۔ دراصل عالم مثال کا تصور افلاطون کے اعیان نامشہور ہی کی دوسری شکل ہے)

5۔ دائرہ اجسام(مادی کائنات اور مادی اجسام)

دراصل یہ پانچوں وجود ایک ہی وجود کی یا اس کے نزول کی شکلیں ہیں ارض پاکستان میں تصوف’دوسرے زمانے‘سے آنا شروع ہوا۔ لیکن اس کا اصل آغاز تیسرے زمانے سے ہوتا ہے۔ حضرت داتا گنج بخش نے تصوف کے بارہ سلسلوں کا ذکر کیا ہے جن میں سے دس پسندیدہ ہیں اور وہ”مردود‘و داتا صاحب کے پسندیدہ سلسلے محاسبیہ‘قصاری‘طیفوریہ‘نوریہ‘سہیلیہ‘ حکیمیہ‘حرازی‘ حفیفیہ اور سیاریہ ہیں۔ شاہ ولی اللہ نے چودہ مکاتیب تصوف بتائے ہیں۔ جوکہ تیرھویں صدی تک بن چکے تھے۔ ان میں سب سے بڑے مکتبہ کا نام نقشبندیہ تھا۔ اس کے علاوہ قادریہ‘ سہروردیہ‘کبراویہ‘قلندریہ‘شطاریہ‘شطاریہ‘ چشتیہ نور بخشاویہ مشہور سلسلے تھے۔ جس طرح فلسفے میں مکتب فکر ہوتا ہے۔ اسی طرح تصوف میں ”مکتب فکر و عمل“ہوتا ہے۔ یعنی ایک مکتب فکر اور اس میں کچھ روحانی اعمال و اشغال عبادات وغیرہ۔ تصوف کے ہر مکتب فکر و عمل کو”سلسلہءتصوف“ کہتے ہیں سلسلہءتصوف۔

غزنوی عہد میں نقشبندی یہ سلسلہ سب سے زیادہ مقبول ہوا۔ اور اس سلسلے کے اس عہد کے عظیم ترین صوفی حضرت شیخ علی ہجویری المعروف حضرت داتاگنج بخش ہیں جن کتاب کشف المحجوب تصوف کے تعارف کے سلسلے میں آج بھی دینا کی بہرین کتاب ہے اور جو شخص تصوف کو سمجھنا چاہتا ہے اس کے لئے اس کا مطالعہ نہ صرف ضروری ہے بلکہ کافی بھی ہے اس کتاب میں تصوف کی فلسفیانہ بحثیں ہیں۔ تمام صوفیاءکا فرداً فرداً تعارف ہے۔ اس کے بعد تصوف کی اصطلاحات کی تشریح ہے گویا فرہنگ ہے اور پھر اسلام کے زیر اثر زندگی گزارنے کے آداب کا ذکر ہے یہ کتاب گویا” آداب زندگی کی کتاب“ Etiquette book ofبن جاتی ہے یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس دور کا تصوف ایک مسلمان کی روحانی اور دنیاوی زندگی گزارنے کی تعلیمات پر مشتمل ہے اور بہت زیادہ عقلیت پسندی پر انحصار کرتا ہے۔

داتا صاحب (پ 1009ء۔م1072ء)غزنی کے ایک گاﺅں ہجویر میں پیدا ہوئے تھے اور بچپن کا کچھ عرصہ غزنی کے ایک دوسرے گاﺅں جلاب میں گزارا۔ اسی لئے شیخ علی ہجویری جلابی کہلائے۔ آپ 1039ءمیں لاہور آئے‘جب کہ غزنوی سلطنت کا پایہءتخت ابھی غزنی تھا اور سلطان مسعود بن محمود غزنوی برسرِ اقتدار تھے۔ غزنوی دور میں آنے والے دوسرے صوفیاءمیں شیخ صفی الدین حقانی گازرونی(پ:962۔ اُچ شریف میں آمد:979ءبعمر 45سال۔ مزار اُچ شریف نزو بہاولپور)شیخ اسماعیل بخاری لاہوری سید1005ءمیں بخارا سے لاہور آئے۔ ان کی مجلس وعظ میں روزانہ سینکڑوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوتے۔ وفات 1134ء(شروع اسلام کے ادوار میں جو لوگ اپنا شجرہ¾ نسب رسول پاک سے ملانے کا دعویٰ کرتے تھے‘وہ اپنے آپ کو شیخ لکھتے تھے۔ سیّد کا لفظ ہر انسان کے لئے جناب اور مسٹر کے معنوں میں استعمال ہوتا تھا۔ یہ بہت بعد کی بات ہے کہ برصغیر اور ایران میں سیّد سے مراد اولاد رسول ہوگیا۔ اسی طرح امام حسن صنعانی لاہور کے والد ماوراءالنہر سے آکر (لاہور)میں آباد ہوئے اور آپ لاہور میں 1181ءمیں پیدا ہوئے۔ سلطان سخی سرور (سید احمد)کرسی کوٹ نزد ملتان پیدا ہوئے۔ لاہور میں مولوی اسحٰق لاہوری سے تعلیم حاصل کی۔ حضرت غوث اعظم اور شیخ شہاب الدین سہروردی (سہرورد : ایران)سے بھی فیض حاصل کیا۔ سوہدرہ نزد وزیر آباد میں مستقل قیام کیا۔ بعد میں کئی سال دھونکل نزد وزیر آباد میں بھی رہے۔ آخر میں شاہ کوٹ ضلع ڈیرہ غازی خان میں مقیم ہو گئے۔ حاکم ملتان نے اپنی بیٹی ان سے بیاہ دی 1181ءمیں دشمنوں نے قتل کر دیا ساتھ ہی ان کی بیوی‘بیٹے اور بھائی کو بھی قتل کر دیا۔ ان کی مقبولیت مسلمانوں کے علاوہ ہندوئوں میں بھی تھی اور وہ ان کے باقاعدہ مرید تھے۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو سلطانی کہتے تھے۔ ان سب بزرگ صوفیا اور ان کے شاگردوں نے ہزاروں بودھوں اور ہندوﺅں کو مسلمان کیا اور ایک نئی طرزِ زندگی کے سانچے میں ڈھالا۔

(جاری ہے)

مزید : کتابیں /سلطان محمود غزنوی


loading...