صدر مملکت نے کمپنیز ایکٹ 2017میں آرڈیننس کے ذریعے ترامیم کی منظوری دیدی

صدر مملکت نے کمپنیز ایکٹ 2017میں آرڈیننس کے ذریعے ترامیم کی منظوری دیدی

  

سلامآباد(سٹاف رپورٹر) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کمپنیز ایکٹ 2017میں آرڈیننس کے ذریعیاہم ترامیم کی منظوری دے دی۔، کمپنیز ایکٹ میں ان ترامیم کا مقصد سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سٹارٹ اپ کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے لئے کاروبار کو سہل بنانا ہے۔تفصیلات کے مطابق کمپنیز ایکٹ میں یہ ترامیم سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سٹارٹ اپ کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے لئے کاروبار کو سہل بنانے کے لیے تجویز کی گئیں تھیں، کمپنیز ایکٹ میں آرڈینس کے ذریعے کی گئی ترامیم میں قانون میں سٹارٹ اپ کی جامع تعریف شامل کر دی گئی ہے جبکہ کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کو کمپنیوں کے شئیرز دینیکے لئے ایمپلائز اسٹاک آپشن اسکیم اور کمپنیوں کی جانب سے مارکیٹ سے کمپنیوں کے حصص کی واپسی خریداری کے لئے ضروری ترامیم بھی متعارف کروا دی گئیں ہیں۔ چھوٹی کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے30دن کے اندر سبسکرپشن منی جمع کروانے اور آڈیٹر سرٹیفیکٹ جمع کروانے کی شرائط بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ کمپنیز ایکٹ میں ترامیم کے بعد اب کمپنی کا بانی رکن کمپنی کو شئیرز واپس فروخت کر کے کمپنی سے الگ ہو سکتا ہے جبکہڈیفرنشئیل رائٹکے ذریعے کمپنی کے شئیرز کے اجرا کی شرائط بھی نرم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی بھی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے ویلیوائیشن کا طریقہ کار بھی تبدیل کی گیا ہے۔ اس کے لئے کمپنیز کے حصص کے اجرا کے ریگولیشنز میں ترامیم کی جائیں گی۔ کمپنیز ایکٹ میں ایک نئی شق متعارف کروائی گئی ہے جس کے تحت کمیشن کو کاروباری آسانیاں فراہم کرنے کے لئے اختیارات بڑھا دئے گئے ہیں۔

صدر مملکت

مزید :

صفحہ اول -