فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر570

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر570
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر570

  

نسیم بانو (ہم اسی نام سے ان کا تذکرہ کریں گے) فلمی دنیا میں۔۔۔کس طرح پہنچ گئیں؟ یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔ کہتے ہیں کہ انہیں فلموں سے دلچسپی تھی اور فلموں میں کام کرنے کا شوق تھا۔ والدہ نے کبھی ان کی کوئی خواہش تشنہ نہیں چھوڑی تھی۔ اپنی نور نظر کی یہ خواہش پوری کرنے کے لیے اہوں نے مزاحیہ جریدہ ’’چونچ‘‘ کے ایڈیٹر عنایت دہلوی سے رجوع کیا۔ آپ اس رسالے کے نام پر نہ جائیے ۔ اپنے زمانے میں ’’چونچ‘‘برصغیر کا بہت مقبول، با اثر اور کثیر الاشاعت پرچہ تھا۔ عنایت دہلوی اس کے ایڈیٹر کی حیثیت سے ایک اہم آدمی تھے جن کے ہر جگہ اور ہر شعبے میں مراسم تھے۔

عنایت دہلوی نے کلکتہ کے ارب پتی گجراتی سیٹھ سکھ لال کرنانی سے رابطہ قائم کیا جو کلکتہ کے بہت بڑے فلم ساز بھی تھے۔ ان کے دوسرے کاروبار بھی تھے۔ جہاز رانی میں بھی ان کا نام تھا۔ پنجاب کے معروف فلم ساز سیٹھ دل سکھ پنچولی کو سرمایہ فراہم کرنے والے بھی یہی سیٹھ کرنانی تھے۔ پنچولی سیٹھ ان کے لیے کلکتہ میں بھی فلمیں بناتے رہے اور پھر لاہور میں آکر بھی اسٹودیو بنایا اور بہت کامیاب فلمیں بنائیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر569 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کرنانی سیٹھ صورت شکل کے معاملے میں بہت گئے گزرے تھے لیکن بڑے حسن پرست اور عاشق مزاج تھے۔ شباب کیرانوی مرحوم کے دوست اور مہربان کیمرہ مین اے حمید(جو علمی صنعت میں بھائیا حمید کے نام سے مشہور تھے) کرنانی سیٹھ کے دلچسپ واقعات سنایا کرتے تھے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔

کرنانی سیٹھ کلکتہ کے سب سے بڑے فلم ساز اور اسٹوڈیو کے مالک تھے۔ بڑے بڑے فنکار اور ہنر مند ان کے باقاعدہ ملازم تھے جو کہ اس زمانے کا دستور تھا۔

عنایت دہلوی نے نسیم بانو کی سفارش کی تھی مگر جب کرنانی سیٹھ نے انہیں دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے اور نسیم بانو کا حسن و جمال ہی دراصل ان کی سفارش ثابت ہوا۔

کرنانی سیٹھ کے پاس نہ پیسے کی کمی تھی نہ فلموں کی۔ انہوں نے اپنی زیر تکمیل فلم ’’اللہ کی تلوار‘‘ میں نسیم بانو(روشن آرا) کو ہیروئن منتخب کر لیا۔ اس فلم کے ہیرو اختر نواز تھے جو خالص اور کھرے پٹھان مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ اداکار تھے۔ سرحد کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے مگر فلمی اداکاری اور ہدایت کاری کا شوق انہیں کلکتہ لے گیا جو کہ فلم سازی کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ وہ انتہائی خوب رو، دراز قد اور وجیہہ آدمی تھے۔ کرنانی سیٹھ نے فلم ’’اللہ کی تلوار‘‘ میں انہیں ہیرو کے طور پر کاسٹ کر لیا۔

’’اللہ کی تلوار‘‘ میں اداکاری شروع کی تو ہیرو اور ہیروئن کی حیثیت سے اختر نواز اور نسیم بانو کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملا۔ یہ دونوں انتہائی شائستہ اور مہذب تھے۔ کسی اوچھی حرکت کی ان سے توقع نہیں کی جا سکتی تھی مگر فلمی دنیا کبھی اسکینڈلز سے خالی نہیں رہی ۔ اس زمانے میں بھی اسکینڈلز بنا کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انڈیا کی فلمی دنیا میں کجن بائی کا شہرہ تھا۔ سارے ملک میں ان کے حسن کا چرچا تھا اور وہ ایک مقبول اور کامیاب ہیروئن تھیںَ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کرنانی سیٹھ کی منظور نظر بھی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب انہوں نے نسیم بانو جیسی بے مثال حسینہ کو سیٹھ کرنانی کی کمپنی میں دیکھا تو حسد اور رقابت کا شکار ہوگئیں۔ انہوں نے سیٹھ کرنانی تک یہ خبر پہنچائی کی اختر نواز اور نسیم بانو میں محبت کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ کرنانی سیٹھ یہ کیونکر برداشت کر سکتے تھے۔ انہوں نے پہلے تو اختر نواز صاحب کو بلا کر ان سے بات کی اور وضاحت چاہی۔ اختر نواز ٹھہرے اکھڑ پٹھان۔ انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ آپ کومیرے ذاتی معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی میں آپ کے سامنے جواب دہ ہوں۔

کرنانی سیٹھ یہ گستاخی اور خودسری برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے اختر نواز کو نہ صرف فلم سے علیحدہ کر دیا بلکہ یہ دھمکی بھی دی کہ انہیں فلمی دنیا سے نکال کر دم لیں گے۔ اختر نواز صاحب نے ان کی نوکری اور اداکاری پر دو حرف بھیجے اور کہا کہ رازق تو خدا ہے۔ میں کلکتہ ہی میں رہوں گا اور آپ کا محتاج بھی نہیں رہوں گا۔ آپ سے جو کچھ ہو سکتا ہے کر لیجئے۔

اختر نواز نے کلکتہ میں ڈیری فارم کھول کر دودھ بیچنے کا دھندا شروع کر دیا اور بہت کامیاب رہے۔

نسیم بانو نے یہ سنا تو انہوں نے بھی فلم ’’اللہ کی تلوار‘‘ میں کام کرنے سے انکار کر دیا اور سیٹھ کرنانی کی دھمکیوں کے باوجود کلکتہ چھوڑ کر بمبئی چلی گئیں۔ کرنانی سیٹھ نے مقدے بازی کے ذریعے انہیں پابند کرنا چاہا مگر کامیاب نہ ہو سکے اور نہ نسیم بانو کا کچھ بگاڑ سکے۔ نسیم بانو اس طرح کلکتہ سے بمبئی روانہ ہوگئیں اور ان کی پہلی فلم نامکمل ہی رہ گئی۔ اختر نواز بھی ڈیری فارم کا دھندا کرنے کے بعد کلکتہ سے لاہور چلے آئے۔ یہاں انہوں نے اداکاری اور ہدایت کاری کی۔ بعد میں آغا جی اے گل نے ان کی خدمات حاصل کر لی تھیں۔ آخری دنوں میں وہ ایورنیو اسٹوڈیوز کے منیجر تھے بڑے دبنگ اور صاف گو آدمی تھے۔ ان کی داستان بھی اس سے پہلے بیان کی جا چکی ہے۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

بعض لوگوں کے خیال میں جہاں ارا کجن بائی کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا کیونکہ اب فلم ’’مائی بی لوڈ‘‘ My Belovedکے زمانے میں ان دونوں میں اختلافات ہوگئے تھے۔ اسی دوران میں نسیم بانو کلکتہ پہنچ گئیں تو سیٹھ نے کجن بائی کی جگہ نسیم بانو کو دینے کا فیصلہ کر لیا لیکن افسوس کہ ان کی یہ حسرت دل ہی میں رہ گئی۔

شاید اللہ کو نسیم بانو کی بہتری مقصود تھی کہ وہ کلکتہ سے بمبئی چلی گئیں۔ بمبئی میں کسی فلم کی شوٹنگ دیکھنے گئیں تو فلم ساز، ہدایت کار اور اداکار سہراب مودی کی ان پر نظر پڑ گئی۔ سہراب مودی معروف فلم ساز و ہدایت کار تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا آغاز اسٹیج سے کیا تھا اور وہاں بھی بہت نام کمایا تھا۔

منروا موویٹون کے نام سے انہوں نے ذاتی اداکارہ قائم کیا اور فلم سازی کا پروگرام بنایا تو اپنی پہلی فلم ’’خون کا بدلہ خون‘‘ کا آغاز کیا جو شیکسپیئر کے ڈرامے ’’ہیملٹ‘‘ سے ماخوذ تھی۔ روشن آرا کو نسیم بانو کا نام سہراب مودی نے ہی دیا تھا۔ یہ نام انہیں بہت راس آیا۔ پہلی ہی فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ یہ فلم اسٹیج فلم کمپنی کے بینر تلے بنائی گئی تھی اور ۱۹۳۵ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس کے ہدایت کار بھی سہراب مودی تھے اور مرکزی کردار بھی انہوں نے ہی ادا کیا تھا۔ اس کی کاسٹ میں نسیم کی والدہ شمشاد بیگم عرف چھمیاں بائی بھی شامل تھیں۔ اس وقت کے دستور کے مطابق فنکار ایک ہی فلم کمپنی کے مستقل ملازم ہوا کرتے تھے اور یہ معاہدہ ایک خاص مدت یا فلموں کی مقررہ تعداد کے مطابق ہوتا تھا۔ اس فلم میں کام کرنے کے بعد نسیم بانو بھی کمپنی کی باقاعدہ ملازم ہوگئیں اور اس کے بعد یکے بعد دیگرے بننے والی سہراب مودی کی فلموں میں وہی مستقل ہیروئن تھیں۔

’’خون کا بدلہ خون‘‘ عرف ہیملٹ کی کامیابی نے نسیم بانو کو راتوں رات سارے ملک میں مشہور کر دیا تھا۔ سہراب مودی نے منرو اموویٹون کے نام سے فلم ساز ادارہ قائم کر لیا تھا۔ اس کمپنی کے ساتھ نسیم بانو کا ساتھ بہت دیر تک رہا اور اس کی بنائی ہوئی اکثر فلمیں سپرہٹ ثابت ہوئیں۔ نسیم نے منرو اور موویٹون کی چھ فلموں میں اداکاری کی تھی جن میں ’’پکار‘‘ بھی شامل تھی۔

ان کی دوسری فلم ’’خان بہادر‘‘ تھی جس کی کاسٹ میں نسیم بانو، سہراب مودی اور صادق علی بھی شامل تھے۔ یہ فلم پہلی فلم سے بھی زیادہ کامیاب اور مقبول ہوئی جس کی وجہ سے نسیم بانو کا شمار سپر اسٹارز میں ہونے لگا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر571 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -