’مجھے سزا نہیں دی جاسکتی کیونکہ میں۔۔۔‘ معصوم بچے کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے والی استانی نے عدالت میں ایسی بات کہہ دی کہ جج کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک خاتون ٹیچر کو اپنے شاگرد کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے الزام میں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے ایسی بات کہہ دی کہ جج کا منہ بھی کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق 31سالہ چارلی جونز پارکرالباما سکول میں پڑھاتی تھی جہاں اس نے اپنے 16سالہ شاگرد کے ساتھ جنسی تعلق استوار کر لیا۔ جب اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے کہا کہ ”شاگرد کے ساتھ جنسی تعلق رکھنا غیرآئینی نہیں ہے، چنانچہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا اور مجھے اس پر سزا نہیں دی جا سکتی۔“
چارلی کا کہنا تھا کہ ”میرے خلاف مقدمہ ختم کیا جائے اور کسی بھی استاد کو اپنے شاگرد کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے سے نہیں روکناچاہیے۔ استادوں کو اس کام سے روکنا غیرآئینی ہے۔“رپورٹ کے مطابق خاتون ٹیچر نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ ”ملک کے اس قانون کو بھی ختم کر دیا جانا چاہیے جس کے تحت ٹیچر کے 19سال سے کم عمر کے طالب علم کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔اگر جنسی تعلق استاد اور شاگرد دونوں کی رضامندی سے ہوتا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے خواہ شاگرد کی عمر 16سال ہی ہو۔یہ قانون صرف اساتذہ پر ہی لاگو کیا گیا ہے، کسی اور شعبے سے وابستہ مردوخواتین اس کی زد میں نہیں آتے، چنانچہ یہ بھی ایک طرح کا امتیازی سلوک ہے جو ٹیچرز کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...