’یمن پر حملے کا ذمہ دار ہمارا خاندان نہیں بلکہ ان کو پکڑو جو۔۔۔‘ لندن میں احتجاج کرتے لوگوں سے سعودی شہزادے نے ایسی بات کہہ دی کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی

’یمن پر حملے کا ذمہ دار ہمارا خاندان نہیں بلکہ ان کو پکڑو جو۔۔۔‘ لندن میں ...

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں حوثی باغیوں پر آئے روز سعودی اتحاد کی جانب سے فضائی حملے کئے جاتے ہیں اور کبھی کبھار تو ان حملوں کا نشانہ عام شہری بھی بن جاتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ایک سکول بس حملے کا نشانہ بنی اور اس میں سوار درجنوں معصوم بچے پل بھر میں لقمہ اجل بن گئے۔ یمن میں گزشتہ چند سالوں کے دوران ہزاروں شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں، جس پر انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے سعودی عرب کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ دوسری جانب مغربی ممالک میں بھی آئے روز سعودی عرب کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جاتے ہیں جن میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا ہی مظاہرہ لندن میں کیا جا رہا تھا کہ اچانک وہاں ایک سعودی شہزادہ آن پہنچا اور مظاہرین سے ایسی بات کہہ دی کہ بیچارے احتجاج چھوڑ کر حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔

ویب سائٹ ’مڈل ایسٹ مانیٹر‘ کے مطابق پرنس احمد بن عبدالعزیز السعود اچانک مظاہرین کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ”سارے آل سعود کا کیا قصور ہے؟ شاید کچھ مخصوص لوگ ہیں جو ذمہ دار ہیں۔۔۔ اُن کے سامنے احتجاج کرو جو ذمہ دار ہیں۔“ اُن کا کہنا تھا کہ ”میری تو خواہش ہے کہ یمن کی جنگ کل نہیں آج ختم ہوجائے۔“ جب ایک شخص نے بحرین میں مظالم کی بات کی تو ان کا کہنا تھا ”انشاءاللہ یہ بھی ختم ہوں گے۔“

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری جنگ کے متعلق شاہی خاندان کے اندر بھی اختلاف پایا جاتا ہے، اور پرنس احمد نے مظاہرین سے بات کرتے ہوئے اسی جانب اشارہ کیا ہے کہ یمن کی جنگ کی اصل ذمہ داری فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان پر ہے، نا کہ سارے شاہی خاندن پر۔

سعودی اتحاد نے 2015ءسے حوثیوں باغیوں کے ساتھ جنگ کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں اب تک 15ہزار سے زائد عام شہریوں کی اموات ہوچکی ہیں جبکہ لاکھوں افراد جنگ کی وجہ سے قحط سالی کا سامنا کررہے ہیں اور اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

مزید : برطانیہ