ایک اور حادثہ

ایک اور حادثہ

صادق آباد کے قریب لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس لوپ لائن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی اور شدید دھماکہ ہوا،جس کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق اور کئی درجن زخمی ہو گئے،بوگیاں اُلٹ گئیں اور ایک دوسرے میں دھنس گئیں، فوجی دستے کے تعاون سے اکثر مسافروں کو بوگیاں کاٹ کر نکالنا پڑا،اس سے قبل مسافر حضرات نے اپنی مدد آپ کے تحت خود کو اور دوسرے مسافروں کو بچایا،یہ حادثہ دو روز قبل ہی ایک اور حادثے کے بعد ہوا،اس کی کئی بوگیاں انجن سے کٹ گئیں کہ لنک ٹوٹ گیا اور انجن ایک بوگی سمیت ریلوے سٹیشن پر پہنچ گیا۔ مسافر ویرانے میں کئی گھنٹے خوار ہوئے تھے، اس سے بھی پہلے کوٹری کے قریب ایک مسافر گاڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی، اب تک18حادثات ہو چکے ان میں جاں بحق ہونے والے سو سے کہیں زیادہ اور زخمی بھی سینکڑوں ہی ہیں،ان حادثات کی روشنی میں وزیر ریلوے شیخ رشید سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہ اسے درخوراعتنا نہیں جانتے اور کہتے ہیں کہ لوگ گاڑیوں کی چھتوں پر سفر کرتے تھے، مَیں نے ان کو بوگیوں میں بٹھایا ہے،ان کا یہ بھی جواب ہے کہ ریلوے کا نظام پرانا ہو گیا ہے، اسے تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ ہمارے خیال میں خود ان کی اپنی تبدیلی، وقت کا تقاضا ہے وہ ریلوے کی وزارت کے پردے میں سیاسی الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں کرتے۔وزیر ریلوے شیخ رشید باتوں کے دھنی ہیں اب تک ان کا کارنامہ ٹرینوں کا پرانی بوگیوں اور پرانے انجنوں کے ساتھ اجرا ہے یہ مسافروں کو ضروری سہولتیں بھی نہیں دیتیں۔وفاقی وزیر کے مطابق اگر ریلوے کا سگنل نظام اور پٹڑیاں خراب، پرانی اور خستہ حال ہیں تو ان سے یہ پوچھا جا سکتاہے کہ ان کو درست کرنے کی بجائے وہ نئی گاڑیاں کیوں چلا رہے ہیں، کیا ان کے نزدیک انسانی جانوں کی اہمیت نہیں اور مسافر گاڑیوں کی تعداد اہم ہے،شیخ رشید جب اپوزیشن میں تھے تو ذرا ذرا سی بات پر وزراء سے استعفے طلب کِیا کرتے تھے، اب خود کیوں ایسا نہیں کرتے، کیا ان کو مزید حادثات کا انتظار ہے۔ بہتر یہ ہے کہ جو کام پہلے کرنے والا ہے وہ پہلے کیا جائے، نظام اور پٹڑیاں درست کر لیں،پھر گاڑیاں بھی چلا لیجئے گا۔

مزید : رائے /اداریہ