سمارٹ لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج آنا شروع کورونا کیسز میں نمایا ں کمی،،مزید 27افراد جاں بحق 721نئے کیسز رپورٹ

سمارٹ لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج آنا شروع کورونا کیسز میں نمایا ں کمی،،مزید ...

  

اسلام آباد، کراچی، لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان میں کورونا سے مزید27 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ، 721 نئے کیسز سامنے آئے جس سیملک میں مریضوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 48 ہزار 856 ہوگئی ہے جب کہ 5 ہزار 197 افراد اس مہلک وائرس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔اب تک پنجاب میں 2006، سندھ میں 1747 اور خیبر پختونخوا میں 1087 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ اسلام آباد میں 152، بلوچستان میں 126، آزاد کشمیر میں 43 اور گلگت بلتستان میں 36 افراد کا انتقال ہوا ہے۔اتوار کو ملک بھر سے کورونا کے مزید721 کیسز اور27 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جن میں سیپنجاب میں 21 ہلاکتیں اور565 کیسز، اسلام آباد میں 96 کیسز اور پانچ ہلاکتیں، ا?زاد کشمیر میں 32 کیسز اور ایک ہلاکت جب کہ گلگت بلستان میں 28 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔پنجاب میں کورونا کے565 کیسز اور 21 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جن کی تصدیق نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے پورٹل پر کی گئی ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق پنجاب میں کورونا کے مریضوں کی کْل تعداد 86556اور ہلاکتیں 2006 ہوچکی ہیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آْباد میں 96 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد وہاں مریضوں کی کل تعداد 14 ہزار 23 اور مزید ہلاکتوں کے بعد اموات کی تعداد 152 ہوگئی ہے۔ گلگت بلستان میں 26 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد وہاں اب تک مریضوں کی تعداد 1658 ہوگئی ہے جب کہ وہاں اموات کی تعداد 36 ہے۔آزاد کشمیر میں 32 نئے کیسز اور ایک مریض کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔بلوچستان میں کوئی نیا کیس ابھی تک رپورٹ نہیں ہوا۔

کورونا ہلاکتیں

کراچی (این این آئی)ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے،کورونا کے مصدقہ کیسز میں نمایاں کمی آگئی ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے بتایا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی طرف سے متعارف کرائے گئے ایس او پیز پر عملدرآمد اور ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں کورونا کے تشویشناک حالت والے مریضوں میں 28فیصد کمی آئی ہے۔ کورونا کیخلاف یہ کامیابی اسمارٹ لاک ڈاؤن، ایس او پیز پر عملدرآمد اورعوام کے رویوں میں تبدیلی کی مرہون منت ہے۔انہوں نے کہا وزیراعظم عمران خان پہلے شخص ہیں جنہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کی، اس فیصلے پر ہم پر تنقید بھی کی گئی تاہم اب پوری دنیا اس حکمت عملی کی طرف آ رہی ہے۔دنیا بھر میں اس بات کااحساس کیا گیا کہ پورے پورے ملک کو بند کرنا ممکن نہیں ہے اور صرف ایک حل ہے ہے کو ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں بہت زیادہ کورونا کیسز سامنے آرہے ہیں۔ادھر لاہور میں کورونا کے تشویشناک مریضوں کی تعداد گزشتہ 10 دنوں میں 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے، 7 بڑے سرکاری ہسپتالوں کے آئی سی یو مریضوں سے مکمل خالی ہیں، کورونا کیلئے مختص 178 آئی سی یو بیڈز اور وینٹی لیٹرز میں سے 110 خالی ہو گئے۔محکمہ صحت پنجاب کے مطابق لاہور میں کورونا وائرس کے تشویشناک مریضوں کا زور ٹوٹنے لگا ہے، محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق شہر کے 16 سرکاری ہسپتالوں میں کورونا کیلئے مختص 178 آئی سی یو بیڈز اور وینٹی لیٹرز میں سے 110 خالی ہو گئے، آئی سی یوز کے وینٹی لیٹرز کا مجموعی آکوپینسی ریٹ 38 فیصد تک رہ گیا ہے، شہر کے 16 سرکاری ہسپتالوں میں کورونا کیلئے مختص 499 ہائی ڈیپنڈینسی بیڈز میں 400 خالی پڑے ہیں، شہر کے سرکاری ہسپتالوں کے ہائی ڈ یپنڈینسی بیڈز کا مجموعی آکوپینسی ریٹ 19.8 فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق میو ہسپتال کے 50 وینٹیلیٹرز میں 39 خالی جبکہ 11 پر مریض ہیں، 227 ہائی ڈیپنڈینسی بیڈز میں سے 195 خالی جبکہ 32 پر مریض موجود ہیں، پی کے ایل آئی میں 20 وینٹی لیٹرز میں 10 خالی اور 10 پر مریض زیر علاج ہیں، پی کیایل ا?ئی میں ایچ ڈی یو کے 16 بیڈز میں 11 خالی اور 5 پر مریض ہیں۔ جناح ہسپتال کے 15 وینٹی لیٹرز میں سے 6 خالی اور 9 پر مریض زیر علاج ہیں، سروسز ہسپتال کے 32 وینٹی لیٹرز میں سے 14 خالی اور 18 پر مریض زیر علاج ہیں۔

مریض کمی

نیویارک(این این آئی)دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1 کروڑ 28 لاکھ 47 ہزار 288 تک جا پہنچی ہے جبکہ اس موذی وائرس سے ہلاکتیں 5 لاکھ 67 ہزار 734 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 47 لاکھ 96 ہزار 308 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 58 ہزار 794 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 74 لاکھ 83 ہزار 246 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی اب تک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 1 لاکھ 37 ہزار 403 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 33 لاکھ 55 ہزار 646 ہو چکی ہے۔کورونا وائرس کے امریکا میں 17 لاکھ 27 ہزار 797 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 15 ہزار 819 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 14 لاکھ 90 ہزار 446 کورونا مریض اب تک شفایاب ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ممالک کی فہرست میں برازیل دوسرے نمبر پر ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد 18 لاکھ 40 ہزار 812 تک جا پہنچی ہے جبکہ یہ وائرس 71 ہزار 492 زندگیاں نگل چکا ہے۔بھارت کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے ساتھ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے، جہاں کورونا سے 22 ہزار 687 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 8 لاکھ 50 ہزار 358 ہو گئی۔کورونا وائرس سے روس میں کل اموات 11 ہزار 205 ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 7 لاکھ 20 ہزار 547 ہو چکی ہے۔پیرو میں کورونا کے باعث 11 ہزار 682 ہلاکتیں اب تک ہو چکی ہیں جبکہ یہاں کورونا کیسز 3 لاکھ 22 ہزار 710 رپورٹ ہوئے ہیں۔چلی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 6 ہزار 881 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 3 لاکھ 12 ہزار 29 ہو گئے۔ادھرجنوبی جاپان میں دو جزائر میں متعین امریکی میرینز میں بھی کرونا کی وبا پھیل گئی حکام کا کہنا تھا کہ جنوبی جاپان میں دو فوجی اڈوں میں کرونا پھیلنے سے دسیوں فوجی اس کا شکار ہوئے۔ حکام نے اس حوالے سے امریکی فوج سے تمام تر تفصیلات سامنے لانے کو کہا۔اوکیناوا کے صوبے کے عہدیداروں نے کہا کہ وہ صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ چند درجن کیسزحال ہی میں سامنے آئے ہیں کیونکہ امریکی فوج نے اصل تعداد ظاہر نہ کرنے کو کہاہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ یہ وبا میرین کور فوٹنما ایئر فورس بیس اور ہینسن کیمپ میں پھیل رہی ہے۔انڈونیشیاء میں ایک فوجی اکیڈمی میں تقریباً 1300افراد کا کروناوائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے، یہ بات ایک اہلکار نے بتائی ہے جب ملک وباء پر قابو پانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اندیکا پرکاسا نے گزشتہ رات کہا ہے کہ ملک کے سب سے زیادہ گنجان آباد صوبے مغربی جاواکی انڈونیشئین آرمی افیسر کینڈیڈیٹ سکول کو قرنطینہ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور 30افراد کو ابتدائی طور پر درمیانے درجے کی علامات کے ساتھ ہسپتال لے جایا گیا

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -