خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا

خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا

                                موت العالمِ موت العاکم.... ایک عالم کی موت گویا پورے عالم کی موت ہے۔مولانا مفتی محمد اسحاق کی رحلت پر عربی کی یہ ضرب المثل صادق آتی ہے۔28اگست 2013ءبروز بدھ ایک بیباک انسان، عالم بے بدل، واعظ شریں مقال، مقررِ اثر پذیر، مفتی، مجتہد اور بندہِ مولا صفات جیسے الفاظ بھی مولاناؒ کی شخصیت کا کلی احاطہ نہیں، جزوی طور پر ہی کرسکتے ہیں۔ میری علمی کم مائیگی اور محدود علمی سطح اتنے متبحر عالم کا نقشہ کھینچنے سے قاصر ہے....محترم عابد مسعود صاحب ریٹائرڈ ٹیچر مولانا سے طویل رفاقت اور قربت اور قرابت داری کے علاوہ حضرت مولاناؒ کے سفر و حضر کے ساتھی ،گاﺅں بھی ایک، عمر میں مولانا سے چار سال چھوٹے، ذہنی، قلبی، دینی ہم آہنگی، محبت، مروت اور الفت جیسے رشتوں کے امین، ایک نشست میں مولانا کے حالات زندگی راقم کو بتا رہے تھے۔

رٹرا ا ٹاہلی جھمرہ روڈ فیصل آباد میں مولانا 1935ءمیں ایک چھوٹے سے زمیندار میاں منشی کے گھر پیدا ہوئے۔لڑکپن میں بھی سنجیدگی اور متانت کے پیکر تھے، لڑکوں جیسی شرارتوں اور کھیلوں سے اجتناب کرتے، پڑھائی کی طرف فطری رغبت اور خداداد ذہانت اور یادداشت نے سکول میں اساتذہ کو متاثر بھی کیا اور حیران بھی۔ گورنمنٹ کالج لائل پور سے ایف اے فرسٹ ڈویژن میں کیا۔میتھ کا مضمون اضافی پڑھا۔ ہم جماعتوں میں ممتاز بھی تھے اور ہر دلعزیز بھی۔ دوستوں نے مشورہ دیا، محمد اسحاق بی اے کرکے سی ایس ایس کرلو۔کسی دن ڈی سی اور کمشنر بنو گے۔نوجوان محمد اسحاق نے جواب دیا،نہیں مَیں چمنِ محمدی کے پھول چنوں گااور اپنی زندگی دین اسلام کے رنگ میں رنگ دوں گا،چنانچہ اکتسابِ علم نے روح کو بے چین کردیا۔دینی کتابوں کو سمجھنے کے لئے عربی،فارسی،اردو حتیٰ کہ انگلش پر عبور حاصل کیا۔صبح سے شام تک لائبریریوں میں معروف کتب کو عرق ریزی اور باریک بینی سے اور تحقیقی نظر سے پڑھا۔ مولانا والد کے ساتھ کھیتی باڑی میں بھی ہاتھ بٹاتے اور جونہی فارغ ہوتے، محو مطالعہ ہو جاتے۔

عابد مسعود نے بتایا کہ مولانا کے شغف کا یہ عالم تھا کہ ایک ہاتھ میں بیلوں والے ہل کی ہتھی اور دوسرے ہاتھ میں کتاب ہوتی تھی۔سر پر چارے کا گٹھا اور کتاب پڑھتے ہوئے گھر کی طرف رواں دواں، تھوڑی سی زمین، گھر میں مفلسی کے ڈیرے، نوجوان محمد اسحاق پڑھنے کا شوقین، صاف ستھری، عادات اور نیک باعمل مسلمان کے طور پر جانا جاتا تھا۔قریبی رشتہ داروں نے اسی بناءپر کہ لڑکا نیک ہے،شادی کا عندیہ دیا، چنانچہ شادی کرلی۔بیوی بھی اللہ نے،شاکر و صابر دی، روکھی سوکھی جو ملتی کھا کے رفاقت نبھاتی رہی۔عابد مسعود راوی ہیں کہ مَیں نے اپنی آنکھوں سے میاں بیوی کو کونڈی میں نمک مرچ کے ساتھ روٹی کھاتے ہوئے دیکھا ہے....نامساعد حالات بھی مولانا کی تحصیل علم دین کے شوق کے آگے دیوار نہ بن سکے۔آپ احمدیوں کے متعلق فسٹ ہینڈ علم کے لئے پیدل ربوہ جاتے اور مہینوں وہاں رہ کر ان کی لائبریریوں کو کھنگالتے۔سرگودھا روڈ فیصل آباد پر مولانا اسماعیل کے مدرسے میں فارسی پڑھاتے اور ان کی لائبریری سے استفادہ کرتے۔ مولانا اسماعیل اہل تشیع کے معروف مناظر تھے۔مولانا ان کی محرم کی مجلسوں کی تقاریر پر تبصرہ کرتے اور مولانا اسماعیل کو بتاتے کہ آپ نے فلاں بات غلط کی ہے کہ آپ کی فلاں کتاب میں اس طرح لکھا ہے اور جو وہ زیبِ داستاں کے لئے اضافہ کرتے ،اس کی نشاندہی بھی مولانا کردیتے۔

مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بلا کا حافظہ عطا فرمایا تھا، جو کچھ ایک بار پڑھ لیتے،آپ کے ذہن پر نقش ہو جاتا اور پھر اپنی تقریر یا گفتگو میں پورے حوالے سے بات کرتے اور پھر اس پر ڈٹ جاتے، چنانچہ بعض علماءآپ سے نالاں رہتے۔تنقید بھی کرتے کہ مولانا اسحاق نہ اہل حدیث پورے ہیں اور نہ پورے شیعہ، دیوبندی.... مولانا اتحادِ اُمت کے زبردست مبلغ تھے۔ آپ کسی مسلک کو بھی شدت سے رد نہیں کرتے تھے،یہی وجہ تھی کہ آپ احباب میں سبھی مسالک کے لوگ تھے۔مولانا برملا کہا کرتے کہ: ”مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا“

اور میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

مولانا ہر مسلک کی صحیح بات کو، جو قرآن و حدیث سے ثابت ہوتی ، من و عن تسلیم کرتے، مگر جہاں حدیث کے راویان میں جھول ہوتا ،وہاں صحیح حدیث کی تشریح کرتے اور اس سلسلے میں کوئی رورعایت نہ کرتے، چنانچہ فرمایا کرتے۔دین اللہ اور رسول پاک کے ارشادات کا نام ہے اور صحیح حدیث کے لئے مغز ماری کرنی چاہیے اور لوگوں کو درست بات بتانی چاہئے۔آپ فرمایا کرتے کہ کوئی مسلک بھی بنیادی طور پر غلط نہیں ہے۔یہ اس کے علماءہیں، جنہوں نے لوگوں کو تقسیم کر رکھا ہے۔آپ کے نزدیک اہل حدیث کا وجود توحید باری تعالیٰ، بریلوی ،عشق رسول، دیو بندیوں کا محبت صحابہ کرام اور اہل تشیع کا محبت اہل بیت کا امین ہے، اس لئے اللہ سارے مسالک کو زندہ رکھ کر ہر کسی سے اپنے دین کا مخصوص کام لے رہا ہے،اس لئے کسی سے نفرت نہ کرو۔ہر کسی کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے۔غرض مولانا ساری عمر امت کو جوڑنے میںلگے رہے۔معترضین کے اعتراضات کو کبھی خاطر میں نہ لاتے۔حق اور سچ ببانگِ دہل کہتے رہے۔1985ءسے لے کر تادم وفات جامعہ محمدی جمال خانوآنہ میں جمعہ پڑھاتے رہے۔مسجد چھوٹی ،گلی تنگ ،مگر مولانا کے معتقدین اُمڈ کے آتے اور مولانا کے خطابات سے علم و عمل کی ترغیبات لے کر لوٹتے۔

آپ اردو، پنجابی یکساں روانی سے بولتے، لہجہ سادہ، الفاظ سلیس، مگر جذبات سے بھرپور، خود بھی روتے اور سامعین کو بھی رُلاتے ،ہزاروں شعر ازبر تھے اور ان کا برمحل استعمال مولانا کا خاصہ تھا۔اہل فکر و نظر آپ کے علم کے معترف تھے۔آپ کی تقاریر اور مجلسی گفتگو کیسٹ میں ریکارڈ کی جاتی اور اگلے جمعہ کو لوگ حاصل کرلیتے، پھر سی ڈی میں آئی اور اب تو انٹرنیٹ پر مولانا کو لوگ دنیا بھر میں دیکھتے اور سنتے۔ایک صاحب نے فتویٰ آن لائن کا خرچہ اٹھایا ہوا تھا۔ فون پر لوگ آپ سے سوالات پوچھتے۔ زرعی یونیورسٹی کے قرآن فہمی کے ماہانہ پروگرام میں راقم نے کئی بار مولانا کو بلایا۔ان کے خطاب سننے آپ کے مریدین شہر بھر سے جمع ہو جاتے۔آپ پسند کرتے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ سوال کریں۔خوش ہو کو جواب عنایت کرتے اور پھر جواب عین قرآن و حدیث یا اجتہاد کے مطابق بغیر کسی لگی لپٹی کے دیتے۔

مولانا اسحاقؒ ایک عظیم آدمی تھے۔دورِ حاضر میں ان جتنا بڑاعالم کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔پوری زندگی دین کے لئے وقف کی۔عبادت گزار بھی تھے اور شب زندہ داربھی۔ بوقتِ وفات بھی تہجد کے لئے بیدار ہوئے تھے۔ معمول تھا کہ رات کے تیسرے پہر بیدار ہوتے ،غسل کرتے، اپنے لئے اور اپنی اہلیہ کے لئے چائے خود بناتے، دونوں چائے پی کر نوافل ادا کرتے۔وقتِ وفات بھی اسی معمول کے مطابق اٹھے، مگر طبیعت نے ساتھ نہ دیا۔روشنی بجھا کر دوبارہ لیٹ گئے اور پھر یہ نفسِ مطمئن اطمینان سے اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔

دعا ہے اللہ اس مردِ مومن کو ندخلی فی عبدی۔وادخلی جنتی والے مقام سے نوازے۔

ایسا کہاں سے لاﺅں کہ تجھ سا کہیں جسے

مزید : کالم


loading...