پاکستانی وزارتِ خارجہ کی بصیرت

پاکستانی وزارتِ خارجہ کی بصیرت
پاکستانی وزارتِ خارجہ کی بصیرت

  

اخباری اطلاعات کے مطابق حکومتِ پاکستان نے پانچ ملکوں میں اپنے سفارت خانے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن پانچوں ممالک میں سفارت خانے بند کئے جا رہے ہیں۔ ان میں یورپ میں واقع دو ممالک سربیا اور بوسنیا، افریقہ کے دو ممالک ماریشس اور نائیجیریا کے علاوہ جنوبی امریکہ میں واقع ملک چلی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان پانچ سفارت خانوں کو بند کرنے سے سالانہ اٹھارہ کروڑ روپے کی خطیر بچت ہوگی۔ البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس اقدام سے پاکستان کو کتنا، تجارتی، سیاسی اور سفارتی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ واہ جی واہ، کیا ویژن ہے۔ اٹھارہ کروڑ روپے کی بچت کرنے کے نام پر پاکستانی حکومت دنیا کے تین اہم خطوں یعنی مغربی افریقہ، جنوبی ، موجودہ حکومت نے ابھی تک کوئی مستقل وزیرِ خارجہ مقرر نہیں کیا ہے، بلکہ سر تاج عزیز اور طارق فاطمی کی Tunnel vision مشاورت سے کام لیا جا رہا ہے۔ امور خارجہ جیسے اہم شعبوں کو اس طرح نظر انداز کر دینا اور وقتی طور پر کام چلانے کا طرزِ عمل یقیناً پاکستان کو بین الاقوامی سفارتی محاذ پر نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا۔

وزیراعظم میاں نواز شریف کو وزارتِ خارجہ کی طرف سے جو بریفنگ دی گئی ہے۔ اس میں افریقہ کا ذکر تک نہیں ہے۔ یہ ناقابلِ یقین حد تک قابلِ مذمت بات ہے اور ہماری وزارت خارجہ کی نا اہلی ظاہر کرتی ہے۔ موجودہ صدی افریقہ کی صدی ہے اور ہماری وزارت خارجہ کے مکھی پر مکھی مارنے بیوروکریٹس کا اس کا ادراک ہی نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں اقتصادی ترقی کی سب سے زیادہ شرح براعظم افریقہ میں ہے۔ خاص طور پر مغربی افریقہ میں جہاں واقع تمام ممالک میں یہ شرح دس فیصد کے لگ بھگ بلکہ اس خطے کے کئی ملکوں میں بارہ فیصد یا اس سے بھی زائد ہے۔ مغربی افریقہ ایک ایسا خطہ ہے جو 16 ممالک پر مشتمل ہے، جن میں سے زیادہ تر کو نائیجر کے دارالحکومت نیامے میں واقع ہمارا سفارت خانے سے ڈیل کیا جا رہا تھا۔ مغربی افریقہ میں واقع ممالک میں نائیجر، ٹوگو، بینن، نائیجیریا، سینی گال، برکینا فاسو، کیپ ورڈے ، آئیوری کوسٹ، گیمبیا، گھانا، گنی، گنی بساو¿، لائبیریا، مالی، ماریطانیہ اور سیرالیون شامل ہیں۔ اتنے بڑے اور اہم علاقے کے لئے نائیجر میں پاکستانی سفارت خانے کا سالانہ بجٹ دو یا اڑھائی کروڑ سے زیادہ نہیں تھا۔ چین، بھارت، ترکی، ایران اور کئی یورپی ممالک ان نئی اُبھرتی ہوئی منڈیوں کی افادیت کو سمجھتے ہوئے ان میں تیزی سے تجارتی اور اقتصادی یلغار کر رہے ہیں۔ چین بہت باقاعدگی سے افریقی ممالک کی سربراہی کانفرنس منعقد کر رہا ہے جن میں پچاس کے لگ بھگ افریقی ممالک کے سربراہان شریک ہوتے ہیں۔ اس وقت چین افریقہ میں ایک طرح کا Godfather بن چکا ہے اور ان کی سالانہ تجارت کا حجم200 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور افریقہ میں کاروبار کرنے والی چینی کمپنیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ حال ہی میں دہ ہفتے قبل امریکی صدر باراک اوبامہ نے افریقہ کا دورہ کیا ہے۔ یورپ کے تمام اہم ممالک افریقی منڈیوں تک رسائی کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں۔ بھارت کا افریقہ سے تجارت کا حجم75 ارب سالانہ پر پہنچ چکا ہے۔ اس وقت افریقہ میں بھارت زرعی شعبہ میں 126، انفراسٹرکچر میں 177 اور انرجی سیکٹر میں 34 بڑے منصوبوں سمیت سینکڑوں پراجیکٹس پر کام کر رہا ہے۔ بھارت نے بھی افریقی سربراہی کانفرنس منعقد کی جس میں بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے افریقہ کو بھارت کا اکیسویں صدی کا مستقبل قرار دیا۔ ترکی نے تو کمال کر دیا ہے، وہ نہ صرف انتہائی سرعت سے مغربی افریقہ میں تجارتی پیش قدمی کر رہا ہے بلکہ ماضی کے تاریک براعظم اور جدید دنیا کے درمیان اہم ترین پل ہونے کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔

نائیجریا میں پاکستانی سفارت خانے36 سال سے کام کر رہا ہے، لیکن آج تک پاکستان کے کسی سربراہ ممالکت نے اس افریقی ملک کا دورہ نہیں کیا۔ دوسری جانب دو ماہ قبل ایرانی صدر احمد نژاد اور ترک وزیر اعظم طیب اردگان نائیجیریا کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان ممالک کی ایئر لائنز بھی اب افریقہ میں متحرک ہو چکی ہیں۔ تاکہ ان کے کاروباری افراد اور ادارے آسانی سے وہاں رسائی حاصل کر سکیں۔ بین الاقوامی تجارت میں بہت زیادہ اہمیت اور مضبوط معاشی اداروں کے حامل جنوبی امریکی ملک چلی میں پاکستانی سفارت خانہ پانچ سال قبل کھولا گیا تھا۔ جنوبی افریقہ میں چلی کا TPPTA اور OECD کے اہم رکن اور 60 سے زائد ممالک کے ساتھ22 تجارتی معاہدوں میں منسلک ہونے کی وجہ سے یہ ایک بہت مستحسن فیصلہ تھا، لیکن موجودہ حکومت نے یہ اچھا سلسلہ آگے بڑھانے کی بجائے اسے رول بیک کرنے کا احمقانہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جنوبی امریکہ میں پاکستان کی موجودگی اور اہمیت میں اضافہ کرنے کے وینزویلا اور جزائر غرب الہند میں سفارت خانے کھولے جتے، لیکن اس کے برعکس ایک اہم ملک میں 2008ءمیں کھولا جانے والا سفارت خانہ بھی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ سربیا اور بوسنیا میں پاکستانی سفارت خانے بند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان بلقان(Balkans) جیسے اہم خطے سے بھی رول بیک کرنے جا رہا ہے۔ یہ خطہ مشرقی یورپ میں بہت زیادہ سیاسی اور تجارتی اہمیت رکھتا ہے۔

نائیجر کا سفارت خانہ بند کرنے سے سالانہ صرف دو کروڑ روپے کی بچت ہوگی، لیکن یہ فیصلہ کرتے ہوئے بہت سے اہم عوامل کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ ظاہری طور پر یہ ایک غریب اور پسماندہ ملک ہے، لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران یہاں تیل کے وسیع ذخائر دریافت ہونے کے بعد یہاں دھڑا دھڑ چینی، بھارتی اور ترک کمپنیاں آ رہی ہیں۔ یہاں سے مغربی افریقہ میں واقع سولہ سترہ ممالک کے معاملات دیکھے جا رہے تھے جو سفارت خانہ بند ہونے کے بعد ٹھپ ہو کر رہ جائیں گے۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ہماری وزارت خارجہ نے سالہا سال سے نائیجریا کو ایک ایسی جگہ بنایا ہوا تھا کہ کسی افسر کو کھڈے لائن لگانا ہو تو اسے وہاں بھیج دیں، یا پھر عدم دلچسپی کا یہ کالم تھا کہ کسی تھرڈ سیکرٹری کو وہاں کا چارج دے دیا جائے، جنرل پرویز مشرف کے دور میں سات سال تک ایک تھرڈ سیکرٹری نائیجیریا میں پاکستانی سفارت خانہ چلاتا رہا، جبکہ دوسری طرف بھارت اور ترکی وغیرہ نے اپنے بہترین ڈپلومیٹ وہاں بھیج کر مغربی افریقہ میں اپنے پنجے گاڑ لئے۔ یہ ترجیحات کا وہ فرق ہے جس کی وجہ سے وہ ممالک آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم دنیا سے اپنا سازوسامان لپیٹ کر اپنے تک ہی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ چین، بھارت، ایران، ترکی اور یورپی ممالک میں Visionary افسر، وزیر اور مشیر اپنی اپنی حکومت کو درست سمت میں گائیڈ کر رہے ہیں، کیونکہ وہ تیزی سے رونما ہونے والی بین الاقوامی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ ہمارے اسلام آبادی بابوو¿ں کا علم Wikipeadia کے چند صفحات تک محدود ہے، جس کی وجہ سے طارق فاتمی اور سرتاج عزیز جیسے پرانی اور فرسودہ سوچ رکھنے والے مشیران بھیک نئی منتخب حکومت کو درستک سمت میں گائیڈ نہیں کر پا رہے۔ ایک طرف بھارتی منصوبہ باز افریقہ پر اقتصادی تسلط جمانے کے لئے بھارت کا ہاتھ، افریقہ کے ساتھ، جیسے سلوگن کے ساتھ افریقہ میں تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ہمارے منصوبے بنانے والے تیسری بار منتخب وزیراعظم کو دینے والی بریفنگ میں افریقہ کا ذکر سرے سے غائب ہی کر دیتے ہیں۔ لگتا ہے وہ وقت گزر گیا ہے۔ جب آغا شاہی جیسے پائے کے لوگ ہماری وزارتِ خارجہ کو اپنے زمانے کی ضروریات کے مطابق درست سمت میں چلایا کرتے تھے۔     ٭

مزید :

کالم -